پاکستان کو معیشت اور دہشت گردی کے جو مسائل درپیش ہیں ان کی روشنی میں ہر پاکستانی فکر مند ہے اور سب کی خواہش یہ ہے کہ ملک میں ایسا اتفاق رائے ہو کہ امن ہو اور لوگ سکون سے زندگی گزار سکیں۔ سیاست کا چلن بھی قومی امنگوں اور ضرورت ہی کے مطابق ہونا چاہیے۔ یہ صفحات گواہ ہیں کہ ہم اول روز ہی سے قومی اتفاق رائے کے حق میں ہیں اور مسلسل زنجیر بھی ہلا رہے ہیں، اسی موقف کے حوالے سے اس کالم کی تحریر بہت محتاط ہوتی ہے حالانکہ ہمارے ملک میں جو انہونیاں ہو رہی ہیں وہ میں نے اپنی 62سالہ صحافتی زندگی میں نہیں دیکھیں۔ بہت ہی معتبر اور بزرگ ہستیاں سو چکیں اور اللہ کے حضور حاضر ہیں۔ آج کے حالات دیکھ کر بار بار ان کو یاد کرنے کو جی چاہتا ہے۔ باباء اتحاد نوابزادہ نصراللہ خان نے سخت کشیدگی کے دوران بھی کبھی مخالف رہنما کو غیر مناسب طریقے سے مخاطب نہیں کیا، وہ تحریکوں کے دوران بھی جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب اور جناب ضیاء الحق کہہ کر مخاطب ہوتے تھے،مولانا شاہ احمد نورانی بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے مفتی محمود، عبدالولی خان، ممتاز دولتانہ، نواب ممدوٹ اور ایسے ہی راہنما بھی اخلاق اور ادب کا پہلو نظر انداز نہیں کرتے تھے، میں قومی اتفاق رائے ہی کے موقف کی وجہ سے غیر جانبداری کی کوشش کرتا ہوں اور کسی اعتراض اور سخت تنقید سے بھی گریز پا ہوں، ورنہ اس وقت ہمارے ملک کی سیاست ایک تھیٹر کی شکل اختیار کر چکی اور اس میں ایسے ایسے کردار ہیں کہ ان پر پھبتی کو جی چاہتا ہے لیکن قلم رک جاتا ہے کہ اگر میں اخلاق کی تلقین کرتا ہوں تو مجھ سے کوئی کوتاہی نہ ہو جائے، لیکن اب حالات اس نہج پر آ گئے ہیں کہ مجھے بھی حقیقت کی طرف آنا ہوگا۔
آج کی سیاست میں سب سے زیادہ چرچا، ملاقاتوں کا ہے اور ابھی دو روز قبل ہی اڈیالہ جیل کے باہر مظاہرہ اور رضاکارانہ گرفتاریاں اور پھر رہائی بھی ہوئی مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ سیاست میں دشنام کا سلسلہ کپتان کی طرف سے شروع ہوا اور بات اوئے اوئے سے شروع ہو کر ذاتیات اور گالم گلوچ تک پہنچ گئی اور پھر جوسوشل میڈیا گروپ متعارف کرائے گئے ان کی طرف سے حد کر دی گئی۔ یہ گروپ تو سر سے دوپٹے اتارنے اور پگڑیاں اچھالنے کا مقابلہ کرتے ہیں اور ان سے کوئی بھی محفوظ نہیں، اس سلسلے میں محب کپتان کے وہ لوگ بڑے سرگرم ہیں جو پاکستان سے بھاگ کر امریکہ میں پناہ گزین ہو چکے ہیں، تحریک انصاف کی طرف سے محمد نوازشریف کے پلیٹ لیس پر بہت میمز بنیں اور تنقید کے نشتر برسائے گئے ان میں آج کل بھی پیش پیش ثم فیصل آبادی، حال مقیم امریکہ شہباز گل ہیں۔ حضرت جس انداز سے پاکستان سے فرار ہوئے وہ ویڈیوز موجود ہیں کہ کس طرح وہیل چیئر پر آکسیجن ماسک لگائے مشکل مشکل سانس لے رہے تھے۔ چند روزہ حوالات برداشت نہ کر سکے اور عدالت سے ضمانت حاصل کرکے فرار ہو گئے اب امریکہ میں مقیم اتحادی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں بلکہ سازشوں میں مصروف ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو یہ بھی احساس نہیں کہ سکڑتی دنیا کے موجودہ حالات میں امریکی شہری (دہری شہریت ہے) کی حیثیت سے جو وہ کررہے ہیں، اس سے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کو نقصان پہنچے یا نہ پہنچے، ملک کی اہمیت ضرور متاثر ہوتی ہے۔
میرے پیشہ ور بھائی، برخوردار اور دوست جانتے ہیں کہ میں اس صحافی فوج کا سپاہی ہوں جو سرمایہ دارانہ نظام کے مہیب استحصال اور غربت کے مقابلے میں امارت کے حوالے سے ترقی پسند تھے اور میری ٹریڈ یونین کا عرصہ بھی استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد پر محیط ہے، لیکن جب اس صنف میں بھی مفاد پرستی کے تحت گروپ بندی آئی اور تقسیم در تقسیم ہوئی تو میں یہاں بھی اتفاق رائے کی کوشش کا ”جرم“ کرتا رہا اور جب ناکام ہو گیا تو مایوس ہو کر اس ٹریڈ یونین سے رخصت ہی لے لی اور اب قلم کی مزدوری پر گزارہ ہے۔ یہ عرض اس لئے کی کہ اس وقت اگر اتحادی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے بھرپور تعاون سے معیشت سنبھالنے اور دہشت گردی کے خلاف صف آراء ہے تو میرا بھی فرض ہے کہ ان کوششوں کی حوصلہ شکنی نہ کروں اور اسی لئے میں اتفاق رائے اور قومی مصلحت کی وکالت کرتا ہوں، میری یہ بھی دعا ہے کہ آخری وقت میں رب کائنات کے حضور حاضری سے قبل نہ صرف قومی اتفاق رائے دیکھ لوں بلکہ خود اپنی صحافتی صفوں میں بھی مکمل اتحاد ہو جائے کہ پھر سے پی ایف یو جے کارکنوں کے مفادات اور استحصالی نظام کے خلاف نبردآزما ہو۔
بات شروع کی تھی تو یہ خیال تھا کہ آج تمام تر ادب اور اخلاق کے ساتھ تحریک سے یہ عرض کر سکوں کہ ان کی سیاست کا رخ درست نہیں، بانی سے ملاقاتوں پر زور اور سیاسی حل سے دور مقتدر ادارے سے رجوع کی کوشش خود ان کے اپنے سابقہ بیانیوں اور موقف کی نفی ہے۔ تحریک انصاف کی پہلی صفوں میں زیادہ تر وکلاء اور وہ بھی بیرسٹر ہیں۔ میں ان سے ہی یہ سوال کرتا ہوں کہ ان کی نظر میں ڈی جیورو اور ڈی فیکٹو پوزیشن بھی ہے کہ نہیں اگر وہ موجودہ حکومت کو ڈی جیوروحیثیت سے نہیں مانتے تو ڈی فیکٹو تسلیم کرکے ہی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی رکنیت قبول کرنے کے بعد مکمل تنخواہ، الاؤنس اور مراعات لے رہے ہیں، اس کے باوجود کارروائی میں نہ صرف حصہ نہیں لیتے، بلکہ ایوان کے چلنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں اس سے بھی خود اپنا نقصان کرتے ہیں کہ ایوان سے جو بل یا قرارداد بحث کے بعد منظور ہوتا، ہوتی ہے وہ اپوزیشن کے ہنگامے کی وجہ سے یکطرفہ طور پر اکثریت رائے سے منظور ہوجاتی ہے۔ یہ جمہوریت تو بالکل نہیں، بیرسٹر حضرات عوام کے سامنے جواب دہ ہیں اور پھر مبینہ غیر جمہوری جدوجہد ہی کے باعث خود پی ٹی آئی میں اختلافات ظاہر ہوئے اور شدت اختیار کر رہے ہیں جبکہ منرلز فورم نے بھی واضح کر دیا ہے کہ ایک پیج کیا ہوتا ہے، بہتر عمل اب بھی یہی ہے کہ تحریک انصاف جدوجہد کے حوالے سے جو چاہے کرے لیکن قومی امور کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے پارلیمانی امور میں بھرپور حصہ لے، تاکہ ملکی مسائل حل ہو سکیں۔
میں نے بات شروع کی تھی، ملاقاتوں کے حوالے سے تو میری صحافتی زندگی میں ماسوا پیر سید علی مردان شاہ،پیر آف پگارو کے باقی تمام معتبر حضرات گرفتار ہوئے ان کی حراست یاد ہے ان میں ذوالفقار علی بھٹو، محمد نوازشریف اور محمد شہباز شریف بھی شامل ہیں، ان کو جو سہولتیں ملنا چاہئیں تھی وہ نہ ملیں بلکہ بھٹو نے تو جیل قید تنہائی میں ایک مختصر کوٹھری میں کاٹی، جبکہ نوازشریف، شہبازشریف او رمریم نواز کے ایئرکنڈیشنر کا ذکر ہوتا رہا ان سے ملاقات بھی محدود تھی جبکہ بھٹو سے تو ان کی صاحبزادی اور بیگم کو بھی ملنے نہیں دیا جاتا تھا، البتہ آصف علی زرداری اپنی ”نیک چلنی“ کے باعث ہفتہ میں ایک بار آنے والوں سے ملاقات کر لیتے تھے، اگرچہ بے نظیر بھٹو کو ملنے کے لئے گاڑی جیل کے پھاٹک سے کم و بیش دوکلومیٹر دور چھوڑ کر بچوں سمیت پیدل آنا پڑتا تھا، لیکن یہاں تو مطالبہ ہے کہ جیل میں جماعتی اجلاس ہونا چاہئیں، اس سلسلے میں ”فیک نیوز“ کا طومار ہے۔ ایک بار پھر عرض ہے کہ ڈی فیکٹو تسلیم کرلیا تو اس سے روزی بھی حلال کریں۔

