کھابا گیری اور اس کا انجام؟

انسان اپنے آپ میں بہت اِتراتا ہے، حالانکہ یہ مٹی کا پتلا فطرت کے سامنے مجبور ہے اور قدرت کیلئے تو محض ایک خاکی انسان ہے جس کی ہر شے اور ہر حرکت نوٹ ہوتی ہے اور اس کے نامہ اعمال میں تحریر ہوتی رہتی ہے جو روز حساب اس کے سامنے آ جائے گی، اسی حوالے سے یہ بھی گزارش ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے، اگرچہ تنگ دستی بھی ہو۔انسان کی وقعت صرف اتنی ہے کہ تھوڑی سی خوراک سے نڈھال ہو جاتا اور اللہ یاد آ جاتا ہے۔ آج کل موسم تبدیل ہورہا ہے،ایسے میں ہمارے بابے کھانے، پینے،ا ٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں احتیاط کی ہدایت کیا کرتے تھے۔ یہ گزشتہ ہفتے کے آخری روز کا ذکر ہے، جب برخوردار عاصم نے فیصلہ کیا کہ کھانا گھر سے باہر کھایاجائے گا اور تھوڑی سی آؤٹنگ ہو گی۔ میں تھوڑے پس و پیش کے بعد راضی ہو گیا کہ میرا روزمرہ کا معمول رات کا کھانا سات سے ساڑھے سات بجے تک کھا لینا معمول بن چکا ہے، حتیٰ کہ اگر کبھی کسی شادی والی تقریب میں بھی جانا ہو تو میں رات کا کھانا کھا کر جاتا ہوں تاہم اس روز سارا گھر تیار ہوا تو میں بھی انکار نہ کر سکا۔ عا صم نے گاڑی رائے ونڈ روڈ پر ڈالی تو پوچھ لیا کہ گلبرگ چھوڑ کر اس طرف کہاں جا رہے ہو،اس کا جواب تھا آج تھوڑی آؤٹنگ بھی ہوگی، چنانچہ یہ سفر طویل ہوا اور ایک بڑی ہاؤسنگ کالونی پر اختتام پذیر ہوا، اس کے کمرشل ایریا میں رونق تھی اور ایک فوڈ شاپ پر بکنگ پہلے سے کرائی گئی تھی، داخلے کے بعد ریسٹورنٹ میں داخل ہونے پر اندازہ ہوا کہ وہاں تو رش ہے اور بہت سے حضرات ہماری طرح دور سے آئے ہیں کہ ریسٹورنٹ نیا اور شہرت جاذب فہم تھی، بہرحال کھانا بفے تھا، میں ہمیشہ اس طرز کے خلاف رہا اور عاصم سے تکرار کرتا ہوں کہ کھانے کیلئےپسند کی شے منگوانا بہتر ہوتا ہے، بہرحال یہاں تو جو ہونا تھا ہو چکا، جب اجازت ملی کہ مہمان کھانا لے سکتے ہیں تو ہم نے بھی سلاد سے شروع کر کے بہت سے پکوانوں میں سے تھوڑا تھوڑا پسند کا سالن لیا اور آکر کھایا، یہ محفل بخیرو خوبی انجام پذیر ہوئی اور ہم گھر آ گئے، آمد تھوڑی دیر سے ہوئی، سوتے وقت بے چینی نے گھیر لیا، خیال کیا کہ دیر کے باعث ہے، کروٹیں بدل کر سوئے اور جب الارم کی آواز نے جگایا تومحسوس ہوا کہ اٹھنا محال ہے کہ کمزوری کے ساتھ ساتھ پیٹ سخت تھا، بڑی مشکل اور تگ و دو کے بعد نماز فجر ادا کی اور پھر سونے کی کوشش کی جو قریباً بے کار تھی کہ پیٹ کے باعث بے چینی جاری رہی۔

اس روز سے آج تک یہ کیفیت موجود ہے اگرچہ دوا، دعا اور پرہیز سے افاقہ ہوا ہے لیکن اب بھی پچیس، تیس فیصد کسررہ گئی اور یوں کارکردگی سست ہے،ادویات اور پرہیز نے بہتری کی ہے تاہم ابھی تک پہلے جیسی حالت نہیں اور مجبوراً بیڈ روم تک محدود ہو کر رہنا پڑتا ہے۔ قارئین! میں نے اپنی اس حالت کا ذکر اس لئے کیا کہ بہت سے دوستوں نے استفسار کیا ہے، تاہم اصل وجہ یہ ہے کہ آپ سب کو بھی آگاہ کر سکوں کہ یہ جو ہم روزانہ ہزاروں روپے خرچ کرکے گھر کے باہر چسکا پورا کرتے ہیں تو یہ کمزور یا کم مدافعت والوں کیلئے بیماری کا سبب بن جاتے ہیں کہ ریسٹورنٹس اور کھابہ گھروں کی صفائی ستھرائی اور خوش اخلاقی کے باوجود خوراک کا معیار مختلف ہے بلکہ بہتر نہیں کیونکہ خوراک کے معیار اور کچن وغیرہ کی جانچ پڑتال کا جو نظام ہونا چاہیے اور مہذب ممالک میں ہے وہ ہمارے ہاں نہیں ہے، اس لئے یہ کھانا گھر کے مالکان اور انتظامیہ کی صوابدید ہے کہ وہ گاہکوں کی صحت کا خیال رکھیں اور خوراک کو مضر ہونے سے بچانے کا پورا اہتمام کریں، لیکن ایسا ہوتا نہیں اور ہم جیب سے خرچ کرکے بیماری لے لیتے ہیں، یہ سلسلہ ہر ایک کے ہاں نہیں تاہم بعض بڑی شہرت کے حامل بھی مستثنیٰ نہیں ہیں اور کئی بار گاہکوں کو شکایت کرتے دیکھا گیا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ شکائت ان ریستورانوں، سڑک چھاپ ہوٹلوں اور نان ٹکا والوں سے نہیں، بڑے بڑے ہوٹلوں سے بھی ہے جبکہ ہمارے ملک خصوصاً بڑے شہروں میں فوڈ کا کاروبار عروج پر ہے جس کی شہرت بن جائے اسے فرصت نہیں ملتی۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے چھوٹی چھوٹی دکانوں والے کمرشل پلازہ بنا کر وہاں بڑا ہوٹل اور ریستوران کھول چکے ہیں اور یہ سب شہریوں کی جیب سے ہوتا ہے۔ معلوم نہیں یہ ٹیکس دیتے ہیں یا نہیں اور دیتے بھی ہیں تو آمدنی کے تناسب سے دیتے ہیں یا ڈنڈی مارتے ہیں، ہر بڑے شہر کے کسی نہ کسی کھابہ گھر کی کوئی نہ کوئی شے مشہور ہو جاتی ہے جیسے جی ٹی روڈ پر دال کا شہرہ ہوا اور لوگ لاہور سے جا کر کھاتے تھے، تاہم بات پھر وہی ہے کہ عوام اور گاہکوں کی صحت کا انحصار بھی خوراک کے معیار پر منحصر ہے جس کی پڑتال کا فول پروف انتظام نہیں، اگرچہ فوڈ اتھارٹی موجود ہے، اگر یہ حال بڑے نام والوں کا ہے تو سڑک پر بیٹھے دوکانداروں کی کیفیت کیا ہو گی۔ تو محترم قارئین! آج اس قابل ہوا ہوں کہ کچھ دیر بیٹھ کر فرائض انجام دوں ورنہ ڈاکٹر صاحب کی ہدایت ہے کہ ابھی چار پانچ روز اور احتیاط اور آرام کرو، اللہ سے توبہ اور شفا کی دعا اور آپ سے بھی استدعا ہے کہ دعاء صحت فرمائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں