میں بچوں کولیکرلندن ،پیرس اوربیلجیم کی سیرکوگیاتھا۔آج ہی ٹورنٹو(کینیڈا)واپس پہنچاہوں ۔تھکاضرورہوں مگرتھوڑا لاوادماغ میں ابل رہاتھاسوچااس لاوے کابندوبست کرہی لیاجائے۔لندن اوریورپ میں مصروفیات پھرکبھی بتائونگاابھی کچھ آج کل کے حالات پربات کرتے ہیں۔
ہمارے پیارے فیلڈمارشل عاصم منیربھی بیلجیم میں تھے ۔پاکستانی کیمونٹی سے ملے توہال میں کسی کوموبائل لیجانے کی اجازت نہیں تھی لیکن فیلڈ مارشل نے سینئرصحافی سہیل وڑائچ سمیت بہت سے لوگوں کے ساتھ تصاویربنوائی جس میں صرف ’’کچھ سیکنڈز‘‘لگتے تھے ۔
آج کل گورنرخیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی بیلجیم ہیں اورمصدقہ اطلاعات کے مطابق وہ یورپی یونین کشمیر کونسل کی دعوت پر تین روزہ دورے پرپہنچے ہیںحالانکہ یورپی یونین کشمیر کونسل کاجھکائو پاکستان تحریک انصاف کی طرف ہے توپاکستان پیپلزپارٹی کے گورنرخیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی کی دعوتیں کیوں۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال کے پیش نظرگورنر کواپنے صوبے میں رہناچاہیے تھا مگرہمارے حکمران بھی روم کے نیروجیسے ہی ہیں ۔ بارشوں نے قیمتی جانوں اور اثاثوں کو تباہ کر دیا ہو، دور دراز ممالک میں دورے کو بطور وزیرِ اعلیٰ یا گورنر عوام سے بیگانگی تصور کیا جا سکتا ہے۔کوئی بات نہیں پنجاب میں بھی سیلاب ہے، یہاں بھی جانی و مالی نقصان ہواہے مگروزیراعلیٰ مریم نواز ” پنجاب کوجاپان” بنانے کیلئے40سے 50لوگوں کوساتھ لیکر جاپان کی منت کرنے گئی ہوئی ہیں ۔
جاپان میں ایک انٹرنیشنل ایکسپوہے جس میں شرکت کیلئے مختلف ممالک کودعوت نامہ بھیجاجاتاہے یقیناً وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازکوبھی بھیجاگیاہوگامگروہ پورےلشکرکے ساتھ پہنچی حالانکہ جاپان نے پہلے بتادیاتھاکہ ہم صرف آپ کی آئوبھگت کے ذمہ دارہیں باقی کے ہم ذمہ دارنہیں توفیصلہ کیاگیاکوئی بات نہیں عوام ہے نا ہماری عیاشیوں کے خرچے اٹھانے کیلئے ۔سوشل میڈیابھی ان کے دورے کولیکرکافی فکرمندہے کیونکہ اس دورے میں بھی فوٹوشوٹ زیادہ ہورہاہے ۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضاگیلانی کے بیٹے عبدالقادرگیلانی بارسلونا میں گھڑی سے محروم کردئیے گئے توکہتے پائے گئے کہ اسلام میں مردکوسوناپہنناجائزنہیں اسلئے یہ گھڑی برے وقت کیلئے پاس رکھی تھی کہ کہیں رقم کی ضرورت پڑجائے تواس گھڑی کوبیچ کرگزاراکیاجاسکے ۔واہ کیاگزاراہے جوپاکستانی ڈیڑھ کروڑروپے ہوتا ہے ۔
ابھی ایک اپ ڈیٹ ملا’’خیبرپختونخوا میں 23 تا 26 اگست مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ہائی الرٹ جاری کر دیا‘‘۔پی ڈی ایم اے کے مطابق بالائی اور وسطی اضلاع بشمول ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، چترال، دیر، مالاکنڈ، کوہستان، بونیر، پشاور، مردان، نوشہرہ، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان سمیت دیگر اضلاع میں تیز بارشوں کے نتیجے میں ندی نالوں میں طغیانی، شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے باعث کمزور مکانات، بجلی کے کھمبے، اشتہاری بورڈز اور سولر پینلز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں تمام ضلعی انتظامیہ کو احتیاطی اقدامات کرنے، نکاسی آب کے نظام کی صفائی، مقامی آبادی اور سیاحوں کو بروقت آگاہی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ کاشتکار اپنی فصلیں اور مال مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کریں جبکہ سیاح خطرناک مقامات کی جانب جانے سے گریز کریں۔
مزید برآں، متعلقہ اداروں کو ایمرجنسی سروسز، طبی امداد، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ مراسلہ ابھی ختم نہیں ہوااس لئے پڑھناجاری رکھیں ۔عوام سے اپیل ہے کہ وہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1700 ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
کوئی بات نہیں پھرکیاہوابارش ہی ہے ناپھربرسے گی پھرتباہی ہوگی لوگ مرینگے ۔ابھی دوچاردن پہلے کی ہی بات ہے ہمیں اتنی تباہی سے کچھ فرق پڑانہیں تواب بھی نہیں پڑے گاکیونکہ جب نقصان اپناہوتاہے تودردتب ہوتاہے جب کوئی اپنامرتاہے تودردتب محسوس ہوتاہے.
جی ہاں اتنابڑانقصان ہونے کے باوجوداتنی جانیں گنوانے کے باوجود صوبے کے گورنرعزت ماب فیصل کریم کنڈی یورپ کے دورے پر ہیں۔ بظاہر وہ وہاں پاکستانی کمیونٹی سے سیلاب متاثرین کیلئے امداد کی اپیل کر رہے ہیں، مگر عوامی تاثر کچھ اور ہےجب صوبے میں لوگ بارش اور طوفان سے بے گھر ہو رہے ہیں، حکمرانوں کا غیر ملکی دورہ ایک کڑوا استعارہ بن جاتا ہے۔
گورنر جیسا اعلیٰ صوبائی عہدیداریاوزیراعلیٰ خاص حالات میں عوام میں موجود ہونے اور فوری امدادی کارروائیوں کے نگران ہوتے ہیں۔عوامی نمائندوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ مشکل وقت میں عوام کے درمیان ہوں، ہمت اور امداد کا باعث بنیں۔شایدگورنرعوام کانہیں وفاق کانمائندہ ہوتاہے ۔

