سردی زیادہ ہے، گزشتہ روز و شب کے درجہ حرارت میں زیادہ فرق نہیں رہا۔ کم از کم 4سنٹی گریڈ ہو گیا تھا، اب بھی یہ کالم لکھتے وقت سردی سے باعث ہاتھ کانپ رہے ہیں، دسمبر سے جنوری ہونے کو آئی، بارش کا دور دور تک پتہ نہیں، البتہ شمال کے پہاڑی علاقوں میں برف باری سے پہاڑ ڈھک گئے اور کئی مقامات پر تو روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، اس بار سردی نے اپنا لڑکپن یاد کرا دیا، جب واقعی سردی ہوتی تھی، تب ہوا صاف اور دھند و سموگ کا بھی پتہ نہیں تھا، آگ جلا کر تاپنا، اردگرد بیٹھ کر گپ بازی اور چلغوزے ٹھونگنا بھی بہت بڑی عیاشی تھی۔ آج کے دور والا معاملہ نہیں کہ چلغوزے ایسی پردیسی سوغات ہو کر رہ گئے کہ شہر میں دکھائی نہیں دیتے۔ بڑی دکانوں پر 26سو روپے فی کلو کے حساب سے مل سکتے ہیں، ظاہر ہے کہ ایسے میں مونگ پھلی پر ہی گزارہ مجبوری ہے۔
میدانی علاقوں میں دھند کا یہ عالم ہے کہ صبح اٹھتے ہی باہر دیکھیں تو بادلوں کا گمان ہوتا ہے، بارش نہ ہونے اور دھند کے باعث سورج نہ نکلنے کے باعث سردی کے موسم والے پھلوں میں بھی لذت پیدا نہیں ہوئی۔ موسمی کا حال پتلا ہے جو سوکھی مل رہی ہے۔ فروٹر اپنی پیداوار ختم کر چکا، البتہ کینو میں تھوڑی جان ہے جو مہنگا تر ہو چکا، پانچ سو روپے فی درج بک رہا ہے۔
میں یہ سب لکھتے ہوئے، اس احساس سے خوفزدہ ہوں کہ موسم کی اس بے رخی کا سائنسی ذکر ہی چل رہا ہے، کہیں سے ابھی تک یہ سوچ سامنے نہیں آئی کہ زمین و آسمانوں کا جو مالک ہے یہ سب اس کی طرف سے ہے اور ہم غافل ہیں، ماضی میں تو بروقت بارش نہ ہونے پر نماز استسقاء ادا کی جاتی اور بارش ہو جاتی تھی، بلکہ گرمیوں کے دنوں میں تو ہم ایک دوسرے پر پانی پھینک کر دعا مانگتے اور بارش ہو جاتی تھی اب تو کسی ذہن میں یہ سب آتا ہی نہیں، موسم بھی ایسے تبدیل ہوئے کہ وقت پر بارش نہیں ہوتی اور بے وقت کی برسات بڑا نقصان کر دیتی ہے۔ موسمی حالات کی اس تبدیلی کو سائنسی انداز سے زیر بحث لایا گیا ہے اور یہی بتایا جاتا ہے کہ بارش ہو گی یہ برسات انہی کو مبارک ہماری طرف تو بارش کی جگہ دھند نے لے رکھی ہے، دھند نے کاموں کی رفتار سست کر دی ہے۔ان حالات میں میرا دھیان بار باراس طرف جاتا ہے کہ ہم لوگ کتنے مادہ پرست ہو گئے کہ قدرت کے امور و قوانین کی طرف دھیان ہی نہیں جاتا کہ اللہ سے توبہ کیلئے رجوع کرلیں اور بارش کے لئے نمازاستسقاء ہی پڑھ لی جائے کہ خشک سردی کمزور قوت مدافعت کیلئے پریشانی کا باعث بن گئی ہے اور سگریٹ پینے والے حضرات کو بھی یہ خیال نہیں آ رہا کہ ان وجوہات کو رفع کرلیا جائے جو اس حالت کا سبب ہیں۔میرے نزدیک یہ قدرت کا عمل ہے جو ہم انسانوں کی مفاد پرستی کی وجہ سے ہے جھوٹ ہمارا روزمرہ کا معاملہ ہے، حتیٰ کہ سودا بیچنے والا قسم اٹھا کے بھی غیر معیاری مال بیچتا ہے۔
انہی حالات میں مجھے یاد آتا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے ریاست مدینہ کے دور کے حوالے سے جو بتایا وہی سب کچھ ہو رہا ہے اور ہم ہیں کہ سمجھ نہیں رہے، ہمیں سائنسی تدابیر کے ساتھ اللہ کے حضور بھی عرض گزار ہونا چاہیے کہ وہی مہربان بخشش کا اہل ہے۔ اس لئے نماز استقاء اور دعا بھی لازمی ہے، ذرا غور کریں تو احساس ہوتا ہے کہ سردی اور دھند نے کتنا نقصان کیا ہے کاروبار متاثر ہوئے کہ سفر آسان نہیں ہے اب لوگ دھوپ کا انتظار کر لیتے ہیں۔ان حالات میں ہمیں اپنے رویوں پر بھی غور کرنے کا مسئلہ ہوگا کہ ہم زندگی میں بے عمل ہیں۔ جھوٹ بولتے اور تجارت میں بھی گھپلا کرتے ہیں، کم تول اور کم ناپ عام ہے لیکن طریقہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ ریڑھی والے بھی کم تولتے اور آنکھ بچا کر خراب دانے گاہک کو پیش کر دیتے ہیں۔
دوسری طرف ہمارے سیاسی راہنماؤں اور سیاسی جماعتوں کا یہ حال ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں ملک کے اندرونی حالات (خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے علاقے بری طرح متاثر ہیں۔ دہشت گرد مسلسل اپنا کام کررہے اور پاکستان کی مسلح افواج ان کو روکنے اور خاتمہ کرنے کے لئے مصروف عمل ہیں اور شہادت قبول کررہے ہیں، ہمارے سیاسی رہنما ملک و قوم کی خاطر مذاکرات کی میز سجانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔زبانی جمع خرچ تو ملکی مفاد کے لئے ہے لیکن عمل مختلف ہے، ہر کوئی مذاکرات کو حل تصور کرتا ہے لیکن عملی کوشش نہیں کرتا۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس میں میڈیا بھی ذمہ دار ہے کہ ایک ہی صا حب، بار بار ہی ایک ہی بار دہراتے اور ہم اسے نشر اور شائع کرتے چلے جاتے ہیں، اس سلسلے میں مجھے یاد آیا کہ 1970ء کے عام انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو نے چار حلقوں سے انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی، انہوں نے لاہور کی نشست سمیت تین نشستیں چھوڑ دی تھیں، لاہور کی اس قومی نشست پر ضمنی انتخاب ہوا تو پیپلزپارٹی کے امیدوار میاں محمود علی قصوری میدان میں تھے۔ میں ان دنوں روزنامہ مساوات میں تھا، انتخابی مہم کے لئے میری ڈیوٹی لگائی گئی کہ خود میاں صاحب کی اپنی بھی خواہش تھی۔ انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے میں نے میاں محمود علی قصوری کے ساتھ ایک نشست کی اور ان سے گزارش کی کہ آپ روزانہ حلقے میں تین چار جگہ تو تقریر کریں گے اور ہر مقام پر تقریباً ایک جیسی بات ہی کریں گے، اس لئے مجھے اجازت دیں کہ میں ہر روز اس پوری تقریر کے کسی ایک حصے کو خبر بناؤں اور ایسا ہی دسرے روز کروں تو وہ رضامند ہو گئے۔ چنانچہ میں نے ان سے طے کرلیا کہ ایک حصہ رپورٹ ہوگا، چنانچہ یہ عمل اس انتخابی مہم میں بھی کامیاب ہوا!
اس حوالے سے یہ عرض ہے کہ آج کل بھی بیانات ہی کا دور ہے اور ہر روز ایک سی باتیں کی جاتی ہیں، اگر میڈیا والے یہ طریقہ اختیار کرلیں تو سب کا بھلا ہوگا اور شاید محاذ آرائی کی شدت بھی کچھ کم ہو۔

