کیا صرف مسلمان ملک ہی ”انسانیت دشمن“ تھے اور ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہماری مسلح افواج کے سپہ سالار فیلڈ مارشل عاصم منیر کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔ صدر امریکہ نے جنرل عاصم منیر نے قریبا دو گھنٹے تبادلہ خیال کیا۔ ان کے ساتھ امریکی وزیر خارجہ اور داخلی امور کے صاحب بھی جبکہ پاکستانی مجاہد کے ساتھ قومی سلامتی کے مشیر تھے، خلاف معمول اس ملاقات کے بعد میزبان ہی نے میڈیا سے گفتگو کی اور مہمانوں کا آمنا سامنا نہیں ہونے دیا گیا۔ اس لئے جو صدر ٹرمپ نے کہا وہی رپورٹ ہوا اور اسی حوالے سے گفتگو بھی ہو رہی ہے۔ میں نے خارجی امور کے ماہرین کو توجہ سے سنا، ہمارے تجزیہ کاروں نے اس ملاقات کو نہ صرف اہم بلکہ خوش بختی کی علامت بھی قرار دیا، ان کا موقف ہے کہ یہ پاک امریکہ تعلقات کا نیا دور ہے اور دونوں طرف سے جوش کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایسے بین الاقوامی واقعات اور امور ہیں جن کے بارے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔اس وقت صدر ٹرمپ کی گفتگو سامنے ہے اور انہوں نے فیلڈمارشل کے لئے بہت اچھے الفاظ کا استعمال کیا اور ایک بار پھر اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ انہوں نے دو ایٹمی ممالک (پاک+بھارت) کے درمیان جنگ رکوائی اس حوالے سے بھی انہوں نے جنرل صاحب کی تعریف ہی کی۔ ہمیں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ملاقات میں جنرل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو پاکستان حکومت کی طرف سے پاکستان کے دورے کی دعوت دی،اس کا جواب میڈیا کو نہیں بتایا گیا، البتہ وائٹ ہاﺅس ہی کی طرف سے یہ بھی بتایا گیا کہ ایران۔ اسرائیل جنگ کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔یہ نہیں بتایا گیا کہ گفتگو کیا ہوئی اور کیا طے پایا، ہمارے سامنے صرف صدر ٹرمپ کی گفتگو ہے جو نئی اور پرانی ہے تاہم اس سے اور تو کوئی نتیجہ اخذ کرنا ممکن ہے البتہ قیاس کے گھوڑے دہرائے جائیں تو اسرائیل کے پشت پناہ اور ایران کے سخت مخالف نے ضرور پاکستانی موقف کے حوالے سے گفتگو کی ہو گی جو بالکل واضح ہے کہ اسرائیل مورد الزام ٹھہرا کہ اس کی طرف سے حملہ کرکے حالات خراب کئے گئے ہیں۔

اس حوالے سے بہتر ہوگا کہ ذرا صبر کا دامن تھاما جائے اور انتظار کیا جائے کہ خود فیلڈ مارشل عاصم منیر وطن واپسی پر کیا گفتگو کرتے اور آئی ایس پی آر کی طرف سے کیا بتایا جاتا ہے، اس لئے تاحال کسی تبدیلی کا سوچنا درست نہیں ہوگا، تاہم صدر ٹرمپ کی بعض باتوں پرکچھ کہا جا سکتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ کسی کو کچھ علم نہیں کہ وہ کیا کرنے والے ہیں، یہ بات بالکل درست ہے کوئی بھی انسان کسی دوسرے کے دل میں کیا ہے نہیں جان سکتا البتہ ماضی قریب اور حال کے موقف سے جمع تفریق ضرور کی جا سکتی ہے، صدر امریکہ نے اپنی ٹیم سے مشاورت اور اس کے بعد بھی ایران کو واضح طور پر دھمکی دی اور ہتھیار پھینکنے کو کہا جسے ایرانی رہبر اور حکومت نے رد کر دیا ہے،البتہ صدر ٹرمپ کا یہ کہنا ہے امریکہ نے ابھی تک اس جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا، تاہم یہ دھمکی ضرور دی کہ صرف امریکہ ہی ایران کے ایٹمی افزودگی والے مرکز کو تباہ کر سکتا ہے کہ اس کے پاس دنیا کے جدید ترین جنگی ہتھیار اور اسلحہ ہے، صدر امریکہ کے اس انتباہ کی روشنی ہی میں مغربی میڈیا نے بتایا کہ امریکہ 52-B کے ذریعے ایک ایسے بم سے یہ سب تباہ کر سکتا ہے جو سخت بنکرزکو بھی توڑ کر کئی میٹر کی گہرائی تک تباہی مچا سکتا ہے۔ مغربی میڈیامیں یہ خوفناک تفصیل تو دی جا رہی ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ امریکہ کے اس عمل سے اس پورے خطے میں کیا تبدیلی ہوگی کہ خود امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق یہاں یورینیم کی افزودگی ہوتی ہے اور ایران یہ 62فیصد تک کر چکا ہے اب ذرا غور فرمائیں کہ اگر اس مرکز کو اتنے بڑے بم سے تباہ کیا جائے تو تابکاری کا کیا ہوگا، افزودہ یورینیم کی تابکاری تو پورے خطے کو متاثر کرے گی جس میں خود امریکی دوست ممالک بھی ہیں اور برصغیر بھی شامل ہے جو پاکستان اور بھارت پر مشتمل ہے اور بنگلہ دیش بھی ہے، اسی حوالے سے میںیہ عرض کرنے پر مجبور ہوں کہ امریکہ نے عراق کو یہ الزام لگا کر تہس نہس کیا کہ اس کے پاس ویپن آف ماس ڈیسٹرکشن ہیں، یعنی ایسے خطرناک ہتھیار ہیں جو انسانی زندگی کے لئے بہت ہی مہلک ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں، ذرا غور فرمائیں کہ اس اعتراف کے بعد خود امریکہ قابل مواخذہ نہیں ٹھہرتا یا پھر طاقتور کا سو سات،بیس کا ہوتا ہے۔

جہاں تک ایران کے خلاف اسرائیل کی اس کارروائی کا تعلق ہے تو ٹائمنگ دیکھ کر ایران کا یہ الزام درست محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ایران۔ امریکہ مذاکرات سبوتاژ کرنے کے لئے یہ سب کیا اور ایسی رپورٹیں خود مغربی میڈیا میں ہیں کہ نیتن یاہو، یہ کھیل 30سال سے کھیلتا چلا آ رہا ہے اور اب یہ حملہ بھی امریکہ کوجنگ میں شریک کرنے کے لئے کیا اور صدر ٹرمپ کی گفتگو مظہر بھی ہے ، غور طلب یہ بات بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کے بیانات یکطرفہ طورپر سخت ہیں، لیکن مغربی میڈیا نے رجیم چینج کا ذکر شروع کر دیا ہے اور بہتر طور پر ان گروپوں کی نشاندہی بھی کر دی ہے جو امیدوار بن کر سامنے آرہے ہیں، ایسے میں ایران کی موجودہ قیادت اور حکومت کا کیا رویہ ہوگا جو ان گروپوں سے ملک میں نبرد آزما رہی اور اب تک یہ کامیاب رہی، اب اگر رجیم چینج والے فلسفے ہی کو دیکھ لیں تو آپ کو اردن، مصر، شام اور عراق کو سامنے رکھنا ہوگا، کیا اس سے یہ تاثر نہیں بنتا کہ یہ سب ایک سوچا سمجھا دیرینہ مسئلہ ہے اور وہ ٹرمپ جو قطعی خودمختاری کا دعویٰ لے کر برسراقتدار آئے اور کئی مظاہرے بھی کئے وہ اب پینٹاگون ہی کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کو جا رہے ہیں جو سابقہ حکومتوں نے بھی اختیار کیا اور یہ ثابت ہوا کہ صدر ٹرمپ بھی اس ڈیپ سٹیٹ کے سامنے سرنڈر کر گئے البتہ زباں اپنی بول رہے ہیں، میں پھر سے مسلم ممالک کے ایک دوسرے کے بارے میں رویوں کا ذکر نہیںکروں گا اور نہ ہی تنقید، البتہ یہ تو حقیقت ہے کہ ہم مسلمان صراطِ مستقیم سے بھٹک ضرور گئے اور وہ سب کررہے ہیں جس کے حوالے دور نبوت سے ملتے ہیں، حالانکہ ہمارے لئے یہ لازم تھا کہ ہم انتباہ جان کر قیصر و کسریٰ والی شان اختیار کرنے کی بجائے اپنے گھوڑے تیار کرتے اور ان برائیوں سے اجتناب کرتے جن سے آگاہ کیا گیا تھا لیکن اللہ کی دی گئی نعمت کے بعد ہم نے اپنا رویہ ایسی ایسی نافرمانی والا اختیار کرلیا، جس کی بدولت آج ہم اس سطح پر ہیں کہ امریکہ کی دنیا پر راج نیتی کے راستے میں رکاوٹ بھی نہیں ہیں، صرف ہم پاکستانی ہی بار بار اپنے دفاع کا ذکر کرتے اور حالیہ پاک بھارت لڑائی میں مہارت اور جذبے سے محظوظ ہو رہے ہیں، اب بھی وقت ہے کہ مسلم امہ اتحاد کی طرف بڑھے امن کے لئے کوشش کرے اور توبہ کرے کہ یہ دروازہ کھلا رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں