اللہ تعالیٰ نے انسان کو قرآن پاک میں اشرف المخلوقات قرار دیا ہے۔ وہ مخلوق جسے فرشتوں نے بھی سجدہ کیا۔ اللہ نے انسان کو عقل، شعور، علم عطا کیا تاکہ اچھائی اور برائی میں تمیز کر سکے۔ مگر بدقسمتی سے آج کل پاکستان میں جس قسم کے انسانی روئیے دیکھنے میں آرہے ہیں اس کے مطابق تو 24 کروڑ کی یہ قوم کہیں سے بھی اشرف المخلوقات کہلانے کے قابل نہیں رہی۔ ایک ایسا ملک جہاں روزانہ معصوم بچوں، بچیوں، لڑکیوں، بے بس خواتین کے ساتھ ”ریپ اور قتل جیسے گھناؤنے جرم“ رپورٹ ہوتے ہیں۔ بلکہ اب تو انسانوں نے بے زبانوں پر ظلم کرنا بھی معمول بنا لیا ہے۔ وہ جانور جو اپنے ساتھ کیے گئے ظلم پر احتجاج بھی نہیں کر سکتے، کسی ”قاضی سے انصاف“ بھی نہیں مانگ سکتے، کسی ”آئینی یا سپریم“ عدالت بھی نہیں جا سکتے۔ ان پر ظلم کی انتہا ہو گئی ہے یا شاید سوشل میڈیا کی بدولت یہ ظالمانہ واقعات اب زیادہ سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ماضی میں جانوروں کے ساتھ ظلم کے اِکا دُکا واقعات اخبارات کے اندرونی صفحات پر ”دو یا چار سطر“ میں چھپ جایا کرتے تھے کہ شاید اخبارات کے نزدیک جانوروں پر ظلم کی اتنی ہی اہمیت تھی۔ لیکن اب ہر فرد خصوصاً نوجوانوں کے ہاتھ میں موجود موبائل فون اور اس فون کی بذریعہ انٹرنیٹ ”دنیا بھر میں رسائی“ نے ان واقعات کو اب ہر شخص تک پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ چند برس سے پاکستان میں اونٹوں، گدھوں، کتوں، بکریوں، بلیوں، خرگوشوں، بھینسوں اور دیگر پالتو اور انسان دوست جانوروں پر ظلم کے واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ بے زبان جانوروں کو نقصان پہنچانے کی سزا نہ ہونے کے برابر ہے اور وہ سزا بھی ڈیڑھ سو سال پہلے انگریز بہادر نے طے کی تھی، لیکن اگر دیکھا جائے تو آج سے 1400 سال پہلے آخری نبی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ واضح کر دیا تھا کہ جانوروں کو نقصان پہنچانا ان پر ظلم کرنا گناہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جانوروں پر ظلم کو ناپسند کرتا ہے۔ ایک واقعہ میں بیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی کریمؐ ایک باغ میں پہنچے تو ایک اونٹ آکر اُن کے پاس بیٹھ گیا۔ اونٹ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ آخری نبیؐ نے پوچھا کہ اِس کا مالک کہاں ہے۔جب وہ شخص آیا تو اسے کہا کہ کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے۔ اسے اللہ نے تمہاری ملکیت میں دیا ہے اور یہ شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور کام بھی زیادہ لیتے ہو۔ ایک اور واقعہ میں آخری نبیؐ نے کہا اس شخص پر لعنت جو جانوروں کے چہرے کو ”داغ“ دے یا ان کے چہرے پر پتھر یا کوئی چیز مارے یعنی زخم لگائے۔
انگریز کے بنائے 1890ء کے انسداد بے رحمی ایکٹ میں جانوروں کو زخم پہنچانے ان پر ظلم کرنے کی سزا مقرر کر دی گئی تھی جو اس وقت کے مطابق 2 ہزار روپے جرمانہ اور چھ ماہ قید ہے، مگر اس وقت کے 2000 کی حیثیت آج کے لاکھوں سے بھی زیادہ ہے۔ قانون کی دفعہ 427۔ 428۔ 429 اور 430 جانوروں پر ظلم کرنے والوں کے لئے سزا سے متعلق ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ایک محکمہ انسداد بے رحمی ہوا کرتا تھا۔ یہ لوگ خاکی وردیاں پہن کر شہر میں چلنے والے تانگوں،ریہڑوں، بیل گاڑیوں، گدھا گاڑیوں پر لادے گئے ضرورت سے زیادہ وزن پر چالان کرتے اور لائسنس چھین لیا کرتے تھے۔ تانگوں میں چار سواریوں سے زیادہ بٹھانے کی اجازت نہیں تھی، لیکن پھر تانگوں، ریہڑوں اور بیل گاڑیوں کی جگہ گدھا گاڑیوں نے لے لی اور پھر گدھوں پر ظلم کی انتہا ہونے لگی۔ اب شکر ہے کہ شہر میں مشینی گدھا گاڑیاں یعنی وزن ڈھونے والے رکشے آ چکے ہیں۔ لیکن ٹریفک پولیس انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔
جانوروں پر ظلم کا تازہ واقعہ بلوچستان کے علاقے روجھان جمالی میں پیش آیا، جہاں ایک با اثر شخص نے کھیت میں گھسنے پر اونٹ کی ٹانگ کاٹ دی۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ایسے واقعات سندھ میں مسلسل ہو رہے ہیں۔ سانگھڑ میں گزشتہ سال با اثر وڈیرے نے کھیت میں گھسنے والی اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی، اس کے منہ پر ڈنڈے مارے اور ٹریکٹر سے باندھ کر گھسیٹا۔ سوشل میڈیا کی بدولت اس واقعہ کا ”شور مچنے“ پر پولیس کو مقدمہ درج کرنا پڑا۔ لیکن اونٹنی کے غریب مالک نے طاقتور وڈیرے سے صلح کر لی۔اندرون سندھ عمر کوٹ میں ایک اونٹنی کی چاروں ٹانگیں کاٹ کر اس کی جان لے لی گئی۔ رواں سال ستمبر میں سکھر میں ایک اونٹنی کے بچے کو کھیت میں گھسنے کی سزا اس کی ٹانگ کاٹ کر اور جبڑا توڑ کر دی گئی۔ گزشتہ سال حیدرآباد میں گدھے کی ٹانگ بھی کاٹی گئی تھی اور حیدرآباد میں ہی بکریاں کھیت میں گھس جانے پر طاقتور زمیندار زبیر پٹھان نے بکریاں چرانے والے کمسن بچے طاہر ملاح کو فائرنگ کر کے مار ڈالا۔گزشتہ سال جولائی میں پنجاب کے ضلع سرگودھا میں ایک بھینس نے سڑک کنارے کھڑے لوڈر رکشہ میں لدے چارے میں سے تھوڑا سا کھا لیا اور رکشہ ڈرائیور نے درانتی سے بھینس کی زبان کاٹ ڈالی۔ گزشتہ سال پنڈی میں بااثر شخص نے حاملہ گدھی کے کان کاٹ دیئے۔ گدھی کے مالک کو مقدمہ درج کرانے میں 14 دن لگ گئے۔ لیاقت آباد کراچی میں ایک رہائشی عمارت میں گھسنے والے ایک کتے کے بچے کو نوجوانوں نے کئی منزل اوپر سے نیچے پھینک کر مار ڈالا۔ ملیر سعود آباد میں ایک چوکیدار نے کتے کو لٹکا کر مارا۔ زندہ دلوں کا شہر لاہور بھی پیچھے نہیں رہا۔ امراء کی آبادی ڈیفنس کی رہائشی ایک عورت کی ویڈیو وائرل ہوئی، جو اپنے گھر میں جانوروں پر تشدد کر رہی تھی۔ پولیس نے چھاپہ مار کر زخمی بلیاں، ہرن، خرگوش، کتے برآمد کر لئے۔ اس عورت کو ذہنی امراض کے ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔
یہ تو صرف چند واقعات ہیں جو سوشل میڈیا کی بدولت ہم تک پہنچ گئے لیکن جو ہم تک نہیں پہنچ پا رہا وہ یقینا بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ ہم تو وہ قوم ہیں جو ریچھ کو کتے، سانپ کو نیولے، مرغوں کو ناخنوں پر لوہے کے پنجے چڑھا کر مرغوں زگ لڑوایا جاتا ہے اور ”مزہ“ لیا جاتا ہے۔ یہ شقی القلبی کہاں سے آ رہی ہے۔ شاید ہماری فطرت میں شامل ہو چکی ہے۔انسان ہو یا جانور ہمیں اذیت پہنچا کر ہی خوشی ملتی ہے۔ جب تک ایسے شقی القلب لوگوں کو سزا نہیں دی جائے گی۔ کسی ”آئینی یا سپریم عدالت“ کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہمیں ایسے قاضی کا کیا کرنا جو ایسے ”مظالم“ کا نوٹس لے کر سزا بھی نہ سنا سکے۔ کاش ”از خود نوٹس والے قاضی“ اس شقی القلبی کا نوٹس بھی لے لیتے۔

