کیلگری(نامہ نگار)کینیڈا کے شہر لیٹھ برج (البرٹا) میں 12 سالہ لڑکے نے اپنے 7 سالہ بھائی کو چاقو کے نو وار کرکے قتل کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں عدالت میں جرم قبول کرلیا۔ نوعمری کے قانون کے تحت دونوں بچوں کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی۔
کینیڈین میڈیا کے مطابق بدھ کے روز لیٹھ برج یوتھ کورٹ میں جسٹس رائن اینڈرسن کے سامنے بچے نے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوکر اعتراف جرم کیا۔ استغاثہ کی جانب سے واقعات کی تفصیل پڑھ کر سنائی گئی تو 12 سالہ لڑکا زار و قطار رونے لگا۔
استغاثہ کے مطابق 27 اگست 2025 کو دونوں بھائی گھر میں اکیلے تھے جب بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی پر شدید غصے میں آگیا اور اسے نقصان پہنچانے کا ارادہ کرلیا۔ چھوٹا بھائی خوفزدہ ہوکر ایک کمرے میں بھاگ گیا اور بستر پر کمبل اوڑھ کر چھپ گیا۔
بڑا بھائی کچن سے چاقو اٹھا کر کمرے میں گیا اور کمبل کے نیچے موجود بھائی پر تقریباً نو بار اندھا دھند وار کردیے۔ بچہ درد سے چیختا رہا جبکہ حملہ آور فوراً گھر سے باہر نکل گیا۔والد کے گھر واپس آنے پر بڑے بیٹے نے اسے بتایا کہ اس کا بھائی “گھر کے اندر مرچکا ہے”۔ شدید زخمی بچے کو فوری طور پر ایئر لفٹ کرکے ایڈمونٹن کے چلڈرن اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے چہرے، ہاتھ، بازو اور کمر پر زخم آئے جبکہ دماغ، دل اور سینے پر لگنے والے تین زخم زندگی کیلئے خطرناک تھے۔تحقیقات کے دوران ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ ’’آوازیں سنتا ہے‘‘ جن کے زیرِ اثر وہ خود پر قابو نہیں رکھ سکا۔ پولیس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حملے سے پہلے وہ یوٹیوب پر ’’قتل‘‘ سے متعلق ویڈیوز دیکھ رہا تھا۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ لڑکے کو Intensive Rehabilitative Custody and Supervision Order کے تحت رکھا جائے گا، جو سنگین ذہنی صحت کے مسائل رکھنے والے کم عمر ملزمان کیلئے خصوصی علاج اور نگرانی کا پروگرام ہوتا ہے۔ملزم کی سزائے سنائی جانا فروری میں متوقع ہے، جس میں علاج، حراست اور نگرانی سے متعلق تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

