کیلیفورنیا جیوری کا” ایپل” کو 63.4 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کا حکم، پیٹنٹ تنازع میں شکست

ایپل واچ کے خون میں آکسیجن کی پیمائش فیچر پر میسی مو کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی قرار

کیلیفورنیا(ایجنسیاں)کیلیفورنیا کی ایک وفاقی جیوری نے فیصلہ دیا ہے کہ ایپل کمپنی کو میڈیکل مانیٹرنگ ٹیکنالوجی بنانے والی کمپنی میسی مو کو 63 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے، کیونکہ جیوری نے قرار دیا کہ ایپل نے خون میں آکسیجن کی پیمائش سے متعلق میسی مو کے پیٹنٹ کا استعمال کیا۔

جیوری نے میسی مو کے مؤقف کو درست قرار دیا کہ ایپل واچ کے ورزش والے فیچر اور دل کی دھڑکن سے متعلق نوٹیفکیشنز نے میسی مو کے پیٹنٹ کی خلاف ورزی کی۔میسی مو کے ترجمان نے اس فیصلے کو اپنی جدت اور دانشورانہ حقوق کے تحفظ میں بڑی کامیابی قرار دیا۔

ایپل کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اس فیصلے سے متفق نہیں اور اپیل کرے گی۔ترجمان کے مطابق پچھلے چھ سالوں میں میسی مو نے مختلف عدالتوں میں ایپل کے خلاف 25 سے زائد پیٹنٹس کی خلاف ورزی کے دعوے کیے، جن میں سے بیشتر کالعدم ہو چکے ہیں۔اس مقدمے میں جس پیٹنٹ کی بات ہو رہی ہے، وہ 2022 میں ختم ہو گیا تھا اور کئی دہائیاں پرانی مانیٹرنگ ٹیکنالوجی سے متعلق تھا۔

یہ کیس ایپل اور کیلیفورنیا کے شہر ایرووائن میں قائم میسی مو کے درمیان جاری پیٹنٹ تنازع کا حصہ ہے۔میسی مو نے الزام لگایا کہ ایپل نے اس کے ملازمین کو بھرتی کر کے پلس آکسی میٹری ٹیکنالوجی چرائی اور اسے ایپل واچ میں استعمال کیا۔اس تنازع کے دوران 2023 میں امریکا کی ایک تجارتی عدالت نے ایپل واچ سیریز 9 اور الٹرا 2 کی درآمد پر پابندی بھی عائد کی تھی۔

پابندی سے بچنے کیلئےایپل نے اپنی گھڑیوں میں خون کی آکسیجن ماپنے والا فیچر نکال دیا اور اگست میں نیا ورژن امریکی کسٹمز کی منظوری کے بعد دوبارہ متعارف کرایا۔یہ فیصلہ ٹیکنالوجی کی صنعت میں پیٹنٹ حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایپل جیسے بڑے ادارے بھی انوویشن کے حقوق کی خلاف ورزی پر قانونی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے، اور ایسے مقدمات میں بڑے مالی جرمانے اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔