کیمسٹری کا نوبیل انعام سعودی نژاد فلسطینی سائنس دان عمر یاغی سمیت تین ماہرین کے نام

اسٹاک ہوم (رائٹرز) نوبیل انعام کمیٹی نے 2025 کا کیمسٹری کا نوبیل انعام تین بین الاقوامی سائنس دانوں کے مشترکہ نام کردیا ہے، جن میں سعودی نژاد امریکی و فلسطینی نژاد سائنس دان پروفیسر عمر یاغی، جاپانی سائنس دان سوسومو کٹاگاوا، اور آسٹریلوی سائنس دان رچرڈ روبسن شامل ہیں۔

یہ انعام تینوں ماہرین کو “میٹل-آرگینک فریم ورکس (Metal-Organic Frameworks – MOFs)” کی ترقی اور اس کی ایپلی کیشنز پر شاندار تحقیق کے اعتراف میں دیا گیا۔ یہ تحقیق روایتی کیمسٹری کے لیے نئے امکانات اور ماحولیاتی چیلنجز کے حل میں سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔

پروفیسر عمر یاغی کی تحقیق نے خاص طور پر فضا سے پانی نکالنے، آلودہ پانی صاف کرنے، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے، اور ہائیڈروجن ذخیرہ کرنے جیسے جدید اور پائیدار سائنسی طریقے متعارف کرائے۔ ان کے کام کو ماحولیاتی ٹیکنالوجی اور پائیدار توانائی کے میدان میں انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پروفیسر عمر یاغی اردن اور فلسطینی والدین کے ہاں امریکہ میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں امریکی شہریت حاصل کی۔ سعودی عرب نے 2021 میں انہیں شہریت دی تھی، جب مملکت نے نمایاں بین الاقوامی شخصیات کو خصوصی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا۔

عرب سائنس دان کے نوبیل انعام جیتنے پر سعودی عرب سمیت عرب دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر عرب صارفین اسے “عربی سائنسی کامیابی کی فتح” قرار دے رہے ہیں۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق، اس انعام کی کل رقم ایک کروڑ دس لاکھ سوئیڈش کرون (تقریباً 12 لاکھ امریکی ڈالر) ہے، جو تینوں سائنس دانوں میں برابر تقسیم کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پچھلے سال کیمسٹری کا نوبیل انعام پروٹین کی ساخت اور نئی دواؤں کی تیاری پر کام کرنے والے سائنس دانوں کو دیا گیا تھا۔کیمسٹری کے اس شعبے میں نوبیل انعام کو ہمیشہ سائنس میں عملی اور تخلیقی ایجادات کے اعتراف کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور یہ روایت الفریڈ نوبیل کے اپنے کیمیائی پس منظر سے جڑی ہے جنہوں نے ڈائنامائٹ کی ایجاد کے بعد یہ انعامات قائم کیے تھے۔

اپنا تبصرہ لکھیں