اوٹاوا / کینبرا /لندن( بی بی سی / اے پی / عالمی خبر ایجنسیاں)کینیڈا،برطانیہ اور آسٹریلیا نے اتوار 21 ستمبر 2025 کو ریاستِ فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا یہ اقدام دو ریاستی حل اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئےایک بڑے بین الاقوامی دباؤ کا حصہ ہے۔
اس سے قبل کینیڈا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والا پہلا جی 7 ملک بن گیا تھا۔ وزیرِ اعظم مارک کارنی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا کہ ’’کینیڈا ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے اور ریاستِ فلسطین اور ریاستِ اسرائیل دونوں کیلئے پُرامن مستقبل کی تعمیر میں اپنی شراکت پیش کرتا ہے۔‘‘
بی بی سی کے مطابق برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ’’آج، امن اور دو ریاستی حل کی امید کو زندہ کرنے کیلئے میں بطور وزیراعظم برطانیہ اعلان کرتا ہوں کہ برطانیہ باضابطہ طور پر ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی ہولناکی کے پیش نظر یہ فیصلہ ضروری تھا تاکہ ایک محفوظ اور پُرامن اسرائیل کے ساتھ ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے۔ کیئر اسٹارمر نے غزہ میں جاری انسانی بحران کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’دسیوں ہزار افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں وہ بھی شامل ہیں جو کھانا اور پانی لینے کیلئےگئے تھے۔‘‘
انہوں نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ سرحدی پابندیاں ختم کرے اور امداد کو غزہ میں داخل ہونے دے۔
ادھر آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز اور وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ آج سے دولتِ مشترکہ آسٹریلیا آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام کینیڈا اور برطانیہ کے ساتھ مل کر دو ریاستی حل کے لیے ایک نیا محرک فراہم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے اور جمہوری انتخابات کرانے سمیت طرزِ حکمرانی اور مالیاتی شعبے میں اصلاحات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
تین بڑے ممالک کی جانب سے فلسطین کو باضابطہ تسلیم کرنے کے اعلان کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کیلئےایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

