برامپٹن (نمائندہ خصوصی) — وزیرِ اعظم کے حالیہ بیان کے بعد، جس میں کینیڈا اور امریکا کے بدلتے ہوئے تجارتی تعلقات پر روشنی ڈالی گئی، برامپٹن ساؤتھ سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو نے مقامی ملازمتوں کے تحفظ، برامپٹن کے کاروباروں کی معاونت اور عالمی معیشت میں شہر کے مسابقتی کردار کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
سونیا سدھو نے کہا”وزیرِ اعظم کا اعلان کینیڈا۔امریکا تجارتی تعلقات میں ایک اہم موڑ ہے۔ کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر سی یو ایس ایم اے (CUSMA) کے تحت عائد محصولات ہٹانے سے ہم شمالی امریکا میں اپنی منفرد تجارتی برتری برقرار رکھیں گے، جبکہ اسٹیل، ایلومینیم اور آٹوز جیسے اسٹریٹجک شعبوں پر ڈٹے رہیں گے جو برامپٹن کی معیشت کیلئےریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔”
یہ نئے اقدامات یکم ستمبر 2025 سے نافذ ہوں گے، جن کے تحت کینیڈا اور امریکا کے درمیان 85 فیصد سے زائد تجارت محصولات سے آزاد ہو جائے گی۔ اس سے کینیڈا امریکا کا سب سے زیادہ ترجیحی تجارتی شراکت دار برقرار رہے گا۔ سونیا سدھو نے کہا کہ یہ اقدام کینیڈین کارکنوں اور خاندانوں کیلئے بالخصوص برامپٹن میں ایک بڑی کامیابی ہے جہاں مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس اور چھوٹے کاروبار مقامی معیشت کا بنیادی حصہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا”جیسے ہی ہم سی یو ایس ایم اے کے آئندہ جائزے کی تیاری کرتے ہیں اور کینیڈا کی تجارتی ترجیحات پر مشاورت شروع کرتے ہیں، میں برامپٹن کے مفادات کے تحفظ اور اس کی آواز کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے کیلئےسرگرم رہوں گی۔”
وفاقی حکومت نے ایک جامع صنعتی حکمتِ عملی پیش کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کا مقصد کینیڈا کی مسابقتی صلاحیت کو بڑھانا، مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور برآمدات میں تنوع لانا ہے۔ سونیا سدھو کے مطابق یہ حکمتِ عملی برامپٹن کی ترقی کیلئے نہایت اہم ہوگی، خاص طور پر ان شعبوں کیلئے جو حالیہ امریکی تجارتی اقدامات سے متاثر ہوئے ہیں۔
سونیا سدھو نے کہا”برامپٹن اس نئی تجارتی اور اختراعی دور میں قیادت کیلئے تیار ہے۔ ہم مل کر ایک مضبوط اور زیادہ لچکدار معیشت قائم کریں گے.ایسی معیشت جو اچھی ملازمتیں پیدا کرے، خاندانوں کو سہارا دے اور کینیڈا کو دنیا کا ایک نمایاں رہنما بنائے۔”

