کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا وزیر اعظم مارک کارنی پر تنقید کے ساتھ دعویٰ

ڈیووس، سوئٹزرلینڈ (ایجنسیاں)امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ کینیڈا کا وجود امریکا کی وجہ سے ہے، جبکہ انہوں نے عالمی طاقتوں کے جبر کیخلاف بیان دینے پر کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ شمالی امریکا کے لیے مجوزہ ’’گولڈن ڈوم‘‘ میزائل دفاعی نظام قائم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جغرافیائی طور پر یہ نظام کینیڈا کو بھی تحفظ فراہم کرے گا، مگر کینیڈا اس پر شکر گزار نہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا امریکا سے بے شمار مراعات حاصل کرتا ہے اور اسے شکر گزار ہونا چاہیے، مگر ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کل آپ کے وزیر اعظم کو دیکھا، وہ شکر گزار نہیں لگے، کینیڈا کو امریکا کا شکر گزار ہونا چاہیے، کینیڈا امریکا کی وجہ سے زندہ ہے۔ ٹرمپ نے یہ باتیں براہ راست مارک کارنی سے مخاطب ہوئے بغیر کہیں کیونکہ وہ ٹرمپ کی تقریر سے قبل ہی روانہ ہو چکے تھے اور دونوں کی ملاقات نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل مارک کارنی نے اپنی تقریر میں امریکا کا نام لیے بغیر ’’امریکی بالادستی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ بڑی طاقتیں معاشی انضمام کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین عوام اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جغرافیہ اور اتحادی رکنیت خود بخود خوشحالی اور سلامتی کی ضمانت نہیں رہیں۔

مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا کو اصولی اور حقیقت پسندانہ پالیسی اپنانا ہو گی، اندرونی طور پر مضبوط ہونا ہو گا اور تجارتی تعلقات کو متنوع بنانا ہو گا تاکہ امریکا جیسے ممالک پر انحصار کم کیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ’’قلاعوں کی دنیا‘‘ کی جانب بڑھ رہی ہے جو ممالک کو غریب، کمزور اور غیر مستحکم بنا دے گی، تاہم اس کے باوجود کینیڈا کو ہم خیال اتحادیوں کے ساتھ مل کر بڑی اور طاقتور ریاستوں کے غلبے کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی طویل گفتگو کے دوران عالمی ٹیرف پالیسی کے فوائد بیان کرتے ہوئے ایک بار پھر کینیڈا کا حوالہ دیا اور کہا کہ ان کی پالیسی کے باعث بڑی فیکٹریاں اور کار پلانٹس امریکا منتقل ہو رہے ہیں، جن میں کینیڈا، میکسیکو اور جاپان سے آنے والی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو کینیڈا میں تیار کردہ گاڑیوں کی ضرورت نہیں۔ یاد رہے کہ گاڑیاں کینیڈا کی دوسری بڑی برآمد ہیں جن کی مالیت 2024 میں 46.5 ارب ڈالر رہی، جن میں سے 92 فیصد امریکا کو برآمد کی گئیں۔ ٹرمپ کی تجارتی جنگ کے بعد کینیڈا کے شہروں برامپٹن اور انگلسول میں آٹو اسمبلی پلانٹس بند ہو چکے ہیں جبکہ جنرل موٹرز اور اسٹیلا نٹس جیسی کمپنیوں نے امریکا میں نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔

تاہم امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا میں آٹو انڈسٹری کی ملازمتوں میں درحقیقت کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔