اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے ٹورنٹو کے تاریخی البانی کلب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈین قانون سازوں، کاروباری شخصیات اور پالیسی ماہرین سے دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔

ہائی کمشنر نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں موجود وسیع مگر غیر استعمال شدہ امکانات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کان کنی و معدنیات، آئی ٹی سے منسلک خدمات، صاف توانائی اور انفرااسٹرکچر کو پاکستان کے نمایاں اور پُرکشش شعبہ جات قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان جغرافیائی اہمیت کے باعث وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، خلیجی ریاستوں اور بحیرۂ عرب و بحرِ ہند کے ذریعے عالمی منڈیوں کو جوڑنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے اقتصادی سفارتکاری کے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین حکومت کی اقتصادی تنوع کی پالیسی کے تناظر میں پاکستانی منڈی میں کینیڈین کمپنیوں کے لیے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے روشن امکانات موجود ہیں۔
ہائی کمشنر نے علاقائی صورتحال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن خطے کی طویل المدتی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق آزاد اور منصفانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہونا چاہیے، تاکہ بھارتی زیر انتظام جموں و کشمیر کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔
تقریب سے آنریبل زی حمید، ایم پی پی اور ایسوسی ایٹ سالیسٹر جنرل حکومتِ اونٹاریو، جبکہ سابق رکن پارلیمنٹ برائن وِلفرٹ، چیئرمین کینیڈا پاکستان بزنس کونسل نے بھی خطاب کیا۔

