اوٹاوا/نیویارک(نمائندہ خصوصی) —کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے اعلان کیا ہے کہ کینیڈا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں اور اہم تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم مارک کارنی نے واضح کیا کہ دو ریاستی حل کینیڈا کی مستقل پالیسی رہی ہے، لیکن ماضی میں اس حل کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی امید تھی۔ اب، ان کے مطابق، یہ راستہ ناقابل عمل نظر آ رہا ہے، جس کے بعد کینیڈا نے براہ راست تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم کارنی نے بتایا کہ انہوں نے اس سلسلے میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ٹیلیفون پر بات کی ہے اور کینیڈا نے اپنی حمایت کو فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی میں اصلاحات کے عزم سے مشروط کیا ہے۔ ان کے بقول، فلسطینی اتھارٹی 2026 میں حماس کے بغیر عام انتخابات کرانے کیلئے پُرعزم ہے۔
مارک کارنی نے اسرائیلی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا غزہ میں اسرائیل کی طرف سے تباہی پھیلانے کی مذمت کرتا ہے اور ایسے اقدامات دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔کینیڈا کے بعد برطانیہ اور فرانس کی قیادت نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے.
برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی، مغربی کنارے پر قبضہ ترک کرنے اور دو ریاستی حل پر رضامند نہیں ہوتا تو برطانیہ بھی ستمبر میں فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کر لے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ فرانس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کرے گا۔
ستمبر 2025 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس فلسطینی ریاست کی بین الاقوامی حیثیت کے لیے تاریخی موڑ بننے جا رہا ہے۔ کینیڈا، فرانس، اور ممکنہ طور پر برطانیہ کی حمایت سے فلسطین کی ریاستی حیثیت کو عالمی سطح پر مزید تقویت مل سکتی ہے، جس کے خطے میں قیامِ امن پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

