کینیڈا میں پاکستانی نژاد برادری نہ صرف تعداد میں تیزی سے بڑھ رہی ہے بلکہ قومی ترقی کے ہر شعبے میں اپنی موجودگی بھی مؤثر انداز میں منوا رہی ہے۔ تعلیمی میدان سے لے کر سیاست، کاروبار، صحت اور ٹیکنالوجی تک، پاکستانی کینیڈین کمیونٹی آج کینیڈا کے معاشی اور سماجی منظرنامے میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ جہاں ماضی میں ان کا کردار محدود اور خاموش تھا، وہیں آج وہ قیادت، خدمت اور اثر انگیزی کے نئے باب رقم کر رہے ہیں۔
کینیڈا کی 2021 کی مردم شماری کے مطابق، ملک میں پاکستانی نژاد شہریوں کی تعداد تین لاکھ تین ہزار دو سو ساٹھ ہو چکی ہے، جو 2016 کے مقابلے میں اکتالیس فیصد زیادہ اور 2011 کے لگ بھگ دوگنا ہے۔ یہ سفر انیس سو چالیس کی دہائی کے آخر میں چند طلبہ اور انجینئروں سے شروع ہوا تھا۔ آج، پاکستانی نژاد افراد ہر صوبے میں موجود ہیں اور کینیڈا کی متحرک ترین تارکینِ وطن برادریوں میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستان سے حالیہ آنے والوں میں نصف سے زائد افراد کے پاس کم از کم یونیورسٹی کی ڈگری ہے، اور اِن میں اکثریت سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور صحت جیسے شعبوں سے وابستہ ہے۔ پاکستانی نژاد افراد اب کینیڈا کے تمام صوبوں اور علاقوں کے ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور سافٹ ویئر کمپنیوں کی قیادت کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم، تعلیمی اسناد کی تصدیق کا مسئلہ بدستور موجود ہے: ہر چار میں سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد ایسا کام کر رہا ہے جس کے لیے صرف ثانوی تعلیم درکار ہوتی ہے، جو مقامی گریجویٹس کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔ اگرچہ صوبہ اونٹاریو میں ’منصفانہ رسائی کا قانون‘ اور البرٹا میں نرسوں اور انجینئروں کے لیے تربیتی کورسز خوش آئند پیش رفتیں ہیں، مگر تاحال کوئی قومی سطح پر مربوط حل موجود نہیں۔
معاشی میدان میں بھی پاکستانی برادری کی کارکردگی قابلِ ذکر ہے۔ حلال گوشت کی تیاری اور برآمدات سے لے کر مال برداری کی کمپنیوں اور سافٹ ویئر خدمات فراہم کرنے والے اداروں تک، پاکستانی نژاد افراد ایک مضبوط اقتصادی بنیاد استوار کر رہے ہیں۔ دیگر شعبوں اور رفاہی کاموں میں بھی یہ کمیونٹی قابلِ فخر کارنامے انجام دے رہی ہے۔ دو ہزار بیس میں صوبہ اونٹاریو کے شہر مِسی ساگا کے ایک بڑے ہسپتال ’ٹریلیئم ہیلتھ پارٹنرز‘ کی توسیع کے لیے پاکستانی نژاد مخیر حضرات نے کمیونٹی کے معروف رہنما عبدالقیوم مفتی (اے کیو مفتی) کی قیادت میں، جس کا آغاز معروف کاروباری شخصیت ندیم چوہدری کے تعاون سے ہوا اور بعد ازاں کمیونٹی کے متعدد افراد بھی شامل ہوئے، پچاس لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیا، جو کینیڈا میں صحت کے شعبے کے لیے کسی مسلم برادری کی جانب سے سب سے بڑی عطیہ کی رقم ہے۔ آئندہ چند برسوں میں یہ رقم جمع کرکے ہسپتال میں ’محمد ﷺ بلاک‘ کے نام سے ایک بلاک تعمیر کیا جائے گا، جو اس عطیہ کو ایک تاریخی سنگِ میل بنا دے گا۔ یہ جذبہ محض شکرگزاری پر مبنی نہیں بلکہ اُس وطن کو کچھ لوٹانے کی عملی صورت ہے جس نے اس برادری کو ترقی کے بے شمار مواقع اور عزت بخشی۔
گزشتہ برسوں میں پاکستانی نژاد افراد نے سیاست میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ چالیس سال پہلے، ان کی شرکت زیادہ تر امیگریشن سے متعلق مجالس یا والدین و اساتذہ کی کونسلوں تک محدود تھی، لیکن آج وہ منتخب ایوانوں اور وزارتوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اپریل دو ہزار پچیس کے وفاقی انتخابات میں پچاس سے زائد پاکستانی نژاد امیدوار مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر میدان میں اترے، جن میں سے چھ امیدوار کامیاب ہوئے۔ ان میں سب سے نمایاں نام شفقت علی کا ہے، جنہیں وزیرِ اعظم مارک کارنی نے صدرِ خزانہ بورڈ مقرر کیا، یوں وہ وفاقی کابینہ میں شامل ہونے والے پہلے پاکستانی نژاد کینیڈین بنے۔ صوبائی سطح پر بھی، اونٹاریو اور ملک کے دیگر صوبوں کی اسمبلیوں میں کئی پاکستانی نژاد ارکان متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔
نوجوان نسل مختلف سائنسی، تعلیمی اور تخلیقی شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ جامعۂ ٹورنٹو کے طلبہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے حلال سرٹیفکیشن کے خودکار نظام پر کام کر رہے ہیں، جبکہ کیلگری کے ہائی اسکول طلبہ سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام تیار کر رہے ہیں۔ دو ہزار چوبیس میں ایک ہزار سے زائد پاکستانی نژاد نوجوانوں نے وفاقی پالیسی مشاورتی اجلاسوں میں شرکت کی اور ذہنی صحت، رہائش اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق قابلِ قدر تجاویز پیش کیں۔
چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔ جنوبی ایشیائی باشندوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں 2019 سے 2022 کے دوران 143 فیصد اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی، خصوصاً گریٹر ٹورنٹو ایریا میں رہائش کی تیزی سے بڑھتی ہوئی قیمتوں نے کثیر نسلی خاندانوں پر شدید مالی دباؤ ڈال دیا ہے۔ بزرگوں کی ذہنی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے؛ اگرچہ سینٹر فار مینٹل ہیلتھ نے اردو اور پنجابی میں ترجمہ شدہ نفسیاتی خدمات فراہم کی ہیں، مگر ان تک رسائی اب بھی محدود ہے۔ اِسی طرح، پاکستان سے درآمد شدہ سیاسی اختلافات اور وہی تنگ نظری، تعصب، حسد اور بغض بعض اوقات مقامی انجمنوں اور افراد میں تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔
ان تمام چیلنجوں کے باوجود، پاکستانی نژاد برادری کی عملیت، فیاضی اور اجتماعی سوچ ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ اسناد کے خلا کو پُر کرنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پیشہ ورانہ انجمنوں کو چاہیے کہ وہ ہر صوبے پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کم لاگت تربیتی کورسز، شفاف امتحانی نظام، اور وقتِ مقررہ پر لائسنس فراہم کرنے والے راستے اپنائیں۔ اسی طرح نوجوانوں اور درمیانی کیریئر کے پیشہ ور افراد کو قیادت کی تربیت دی جائے، تاکہ وہ منتخب نمائندوں، اعلیٰ سرکاری افسران اور پالیسی ساز اداروں سے جُڑ کر قومی فیصلوں میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
کمیونٹی مراکز میں رضاکارانہ سرگرمیوں کو صرف ثقافتی حدود تک محدود رکھنے کے بجائے اُن کا دائرہ قومی فلاحی اداروں، جیسے فوڈ بینک، ہیبی ٹیٹ فار ہیومینیٹی اور بچوں کی سرپرستی کرنے والی تنظیموں، تک وسیع کیا جانا چاہیے، تاکہ پاکستانی نژاد افراد کی خدمت کو صرف برادری کا فریضہ نہیں بلکہ کینیڈا کی قومی شناخت کا حصہ سمجھا جائے۔
اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے، بیانیے پر مؤثر اختیار حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ میڈیا، ذرائع ابلاغ اور سوشل پلیٹ فارمز پر پاکستانی نژاد صحافیوں، فلم سازوں اور کہانی گو افراد کی نمائندگی میں اضافہ کیا جائے، تاکہ مثبت داستانیں قومی سطح پر اجاگر ہوں اور تعصب یا درآمدی سیاست کے اثرات سے نجات مل سکے۔ زبان، خوش گفتاری اور مؤثر پیشکش کے انداز وہ کنجیاں ہیں جو پاکستانی نژاد افراد کو اعلیٰ سطحی انتظامی عہدوں تک پہنچا سکتی ہیں۔
اگر یہ تمام کوششیں مربوط انداز میں جاری رہیں تو پاکستانی نژاد برادری نہ صرف یہاں کے معاشرے میں پوری طرح مدغم ہوگی بلکہ کینیڈا کے مستقبل کی تعمیر میں ایک متحرک، مؤثر اور فیصلہ ساز شراکت دار ثابت ہوگی۔ آنے والی نسلیں نہ صرف آسانی سے اس ملک میں آگے بڑھیں گی بلکہ پچھلی نسلوں کی خدمات کو یاد کرکے اُن پر فخر بھی کریں گی۔

