ٹورنٹو(اشرف خان لودھی سے)کینیڈا میں اگلے عام انتخابات 28 اپریل 2025 کو ہوں گے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے حال ہی میں اچانک انتخابات کا اعلان کیا جس کی بڑی وجہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی اور کینیڈا کی خودمختاری پر ان کے متنازعہ بیانات بتائے جا رہے ہیں۔
یہ انتخابات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب بین الاقوامی تعلقات کشیدہ ہیں اور غیر ملکی مداخلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ کینیڈین انٹیلیجنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ چین اور بھارت جیسے ممالک ان انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

کینیڈا کے انتخابی قوانین کے مطابق، وفاقی انتخابی مہم کی مدت کم از کم 37 دن اور زیادہ سے زیادہ 51 دن ہو سکتی ہے۔چونکہ کارنی نے اتوار کے روز انتخابات کا اعلان کیا اور پولنگ کا دن 28 اپریل مقرر کیا گیا ہے، اسلئےاس سال کی انتخابی مہم قانونی طور پر ممکنہ سب سے کم مدت کی ہوگی۔

کینیڈا میں 343 وفاقی انتخابی حلقے (جنہیں رائیڈنگز کہا جاتا ہے) موجود ہیں۔کینیڈا میں فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ انتخابی نظام رائج ہے، جس کا مطلب ہے کہ جس امیدوار کو حلقے میں سب سے زیادہ ووٹ ملیں گے، وہ کامیاب ہوگا ، چاہے اسے اکثریتی ووٹ نہ بھی ملیں۔اس کے بعد کامیاب امیدوار کینیڈا کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں، ہاؤس آف کامنز میں اپنی نشست سنبھالیں گے۔

کینیڈا کے پارلیمانی نظام کے تحت، وہ جماعت جو ہاؤس آف کامنز میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کریگی، عام طور پر حکومت بنانے کیلئے مدعو کی جائے گی۔ اگر کسی جماعت کو واضح اکثریت نہ ملے تو وہ دیگر جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ قانون سازی کے قابل ہو سکے۔سب سے بڑی جماعت کا سربراہ ہی وزیر اعظم بنتا ہے” کینیڈین عوام براہِ راست وزیر اعظم کیلئے ووٹ نہیں ڈالتے”۔
1️⃣ لبرل پارٹی : 2015 سے برسرِ اقتدار، تحلیل ہونے والی پارلیمنٹ میں 152 نشستیں رکھتی تھی۔ اس جماعت کی قیادت پہلے جسٹن ٹروڈو کر رہے تھے، جنہوں نے 14 مارچ کو باضابطہ طور پر وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا، تاکہ مارک کارنی اس عہدے کو سنبھال سکیں۔
2️⃣ کنزرویٹو پارٹی: پچھلی پارلیمنٹ میں 120 نشستوں کے ساتھ سرکاری اپوزیشن جماعت رہی۔ اس کے رہنما پائیر پولییور ہیں، جو اوٹاوا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے قانون ساز ہیں اور اپنی پاپولسٹ (عوامی مقبولیت پر مبنی) تقاریر کے لیے جانے جاتے ہیں۔
3️⃣ نیو ڈیموکریٹک پارٹی (NDP) :بائیں بازو کی جماعت جس کے رہنما جگمیت سنگھ ہیں۔ انتخابی مہم سے پہلے اس کے پاس 24 نشستیں تھیں۔ این ڈی پی نے پہلے جسٹن ٹروڈو کی اقلیتی حکومت کی حمایت کی تھی لیکن ستمبر 2024 میں اس اتحاد سے علیحدہ ہو گئی۔
4️⃣ بلوکیبیکوا: یہ جماعت صرف فرانسیسی بولنے والے صوبے کیوبیک میں امیدوار کھڑی کرتی ہے۔ تحلیل ہونے والی پارلیمنٹ میں اس کے 33 ارکان تھے، اور اس کی قیادت ایو-فرانسوا بلانشے کر رہے ہیں۔
چار بڑی جماعتوں کے علاوہ، گرین پارٹی آف کینیڈا بھی انتخابی دوڑ میں شامل ہے، جس کے پاس پارلیمنٹ تحلیل ہونے سے پہلے 2 نشستیں تھیں۔ تاہم، توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ جماعت کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کرے گی۔
جنوری 2025 تک، کنزرویٹو پارٹی کو پارلیمانی اکثریت حاصل کرنے کیلئےواضح برتری حاصل تھی۔تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ کی کینیڈا کے خلاف دھمکیوں، جسٹن ٹروڈو کے استعفے اور مارک کارنی کی بطور لبرل لیڈر ابھرتی ہوئی قیادت نے انتخابی منظرنامہ بدل دیا ہے۔ تازہ ترین سروے اب یا تو لبرلز کو کنزرویٹو پر برتری دیتے ہیں یا دونوں جماعتوں کو سخت مقابلے میں دکھاتے ہیں۔
قومی سطح کے مختلف سروے کے مطابق:
📊 لبرل پارٹی – 37.5% عوامی حمایت
📊 کنزرویٹو پارٹی – 37.1% حمایت
📊 NDP – 11.6% حمایت
📊 بلوکیبیکوا – 6.4% حمایت
📊 گرین پارٹی – 3.8% حمایت
✅ لبرلز اور کنزرویٹو قومی سطح پر تقریباً برابر ہیں، جبکہ این ڈی پی کافی پیچھے تیسرے نمبر پر ہے۔
✅ اگر آج انتخابات ہوں تو لبرلز سب سے زیادہ نشستیں جیت سکتے ہیں، اور ممکنہ طور پر اکثریتی حکومت بھی بنا سکتے ہیں، کیونکہ ان کی عوامی حمایت پورے ملک میں متوازن انداز میں پھیلی ہوئی ہے۔
چونکہ انتخابات قریب آ رہے ہیں اسلئے عوام بھی چاہتی ہے کہ وہ مختلف سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں اور منشور سے آگاہ رہیں اور ایک ذمہ دار شہری کے طور پر اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب معیشت اور عالمی سیاست غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔
یہ انتخابات کینیڈا کی مستقبل کی سمت کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں، اور تمام بڑی جماعتیں عوام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔کینیڈا کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے تسلیم کیا ہے کہ عوام ٹرمپ کی پالیسیوں سے متعلق فکر مند ہیں، اور انہوں نے ملک کی خودمختاری کے دفاع کا عزم ظاہر کیا ہے۔
کینیڈین شہری انتخابات میں ووٹ ڈالنے کیلئے خود کو رجسٹر کروائیں گے۔ اپنی ووٹر رجسٹریشن کی تصدیق یا اپڈیٹ کرنے کیلئےElections Canada کی ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں، جہاں آپ کو اپنے مقامی امیدواروں اور پولنگ اسٹیشنز کی تفصیلات بھی حاصل ہونگیں۔

