سرحدی سیکیورٹی میں ’تاریخی سرمایہ کاری‘ کی گئی ہے، فینٹانائل کا معاملہ دوبارہ اٹھایا گیا: وزیر اعظم
اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) — وزیر اعظم مارک کارنی نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر ٹیرف بڑھا کر 35 فیصد کرنے کے اعلان پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو دونوں ممالک کے مابین قائم دیرینہ اقتصادی شراکت داری کے منافی قرار دیا۔
کارنی نے کہا کہ امریکا کے اس یکطرفہ فیصلے سے کینیڈا کی لکڑی، اسٹیل، ایلومینیم اور گاڑیوں کی برآمدات کو نقصان پہنچے گا جو کہ کینیڈین مزدوروں اور کاروباروں کیلئےشدید دھچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئےہنگامی معاشی اقدامات کر رہی ہے اور ’بائے کینیڈین‘ پالیسی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کینیڈا امریکا، میکسیکو فری ٹریڈ معاہدے (CUSMA) کا پابند ہے، اور ہماری خواہش ہے کہ تجارتی تعلقات منصفانہ اور باوقار بنیادوں پر استوار رہیں۔ تاہم، کینیڈا کسی بھی قسم کے بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
فینٹانائل کے حوالے سے امریکی خدشات کے جواب میں وزیر اعظم نے وضاحت کی کہ امریکا میں درآمد کی جانے والی فینٹانائل کا صرف 1 فیصد کینیڈا سے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا اس رجحان کو روکنے کیلئےسنجیدہ اقدامات کر رہا ہے، جن میں بارڈر سیکیورٹی میں ’تاریخی سرمایہ کاری‘، ہزاروں نئے بارڈر افسران کی بھرتی، فضائی نگرانی، اور انٹیلیجنس نظام کی بہتری شامل ہے۔
مارک کارنی نے کہا کہ “ہم واشنگٹن میں اپنے امریکی شراکت داروں سے مسلسل رابطے میں ہیں، اور ہماری کوشش ہے کہ ایسے فیصلے کیے جائیں جو دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہوں۔”

