اوٹاوا (رائٹرز، گلوبل نیوز، گارڈین)کینیڈا حکومت کی جانب سے کینیڈا پوسٹ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے اعلان کے بعد قومی ڈاک ورکرز یونین (CUPW) نے 25 ستمبر 2025 کو ملک گیر ہڑتال کردی، جس سے ڈاک اور پارسل سروسز معطل ہو گئیں۔ وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا پوسٹ روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان اٹھا رہا ہے اور ادارے کو بقا کیلئے ‘اہم تبدیلیاں’ درکار ہیں۔
“ہڑتال اور فوری اثرات”
کینیڈا پوسٹ کے ملازمین نے وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف 25 ستمبر کو فیصلہ کن ہڑتال کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ڈاک اور پارسل کی ترسیل معطل ہوگئی اور متعدد مقامی دفاتر بند رہے۔ یونین نے حکومتی اصلاحات کو ‘خفیہ نجکاری’ قرار دیا ہے اور بتایا کہ وہ کارکنوں کے حقوق اور ملازمت کی حفاظت کے لیے پورا زور لگائے گی۔
“حکومت کی تجویز کردہ اصلاحات کیا ہیں؟”
وفاقی وزیر جوئل لائٹ باؤنڈ کی قیادت میں پیش کیے گئے اصلاحاتی پیکج میں اہم نکات شامل ہیں: گھر گھر کی روزانہ ڈور ٹو ڈور ڈلیوری کا خاتمہ، غیر ہنگامی میل کو زمین پر منتقل کرنا (فضائی ترسیل کم کرنا)، تقریباً چار ملین پتوں کو کمیونٹی میل بکس میں تبدیل کرنا اور دیہی دفاتر کے کچھ حصّوں پر نظرِ ثانی۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ادارے کو خسارے سے نکالنے اور طویل مدتی بقا یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
“مالی صورتحال اور کارنی کے بیانات”
وزیرِ اعظم مارک کارنی نے لندن میں پریس کانفرنس میں کہا کہ کینیڈا پوسٹ ‘قابلِ عمل’ نہیں رہا اور ادارہ روزانہ دس لاکھ ڈالر (تقریباً ایک کروڑ) سے زیادہ خسارہ اٹھا رہا ہے، اس لیے واضح راستہ تبدیل کرنا لازم ہے۔ حکومت نے اس سال ادارے کو پہلے ہی ایک ارب ڈالر کی کمک فراہم کی تھی، جبکہ تازہ مالی اعداد و شمار نے اسٹیٹ کارپوریشن کے بھاری خسارے کی نشاندہی کی ہے۔
“یونین اور عوامی خدشات”
CUPW نے کہا کہ حکومتی اعلامیہ اچانک اور مشاورت کے بغیر لیا گیا اور اس سے ہزاروں نوکریاں داؤ پر لگ سکتی ہیں، خاص طور پر دیہی اور کم سہولت والے علاقوں میں جن کی ڈاک پر انحصار زیادہ ہے۔ عوامی حلقوں اور کاروباروں نے بھی تعطیل اور پارسل تاخیر کی وجہ سے پریشانی کا اظہار کیا ہے، اور تجارتی شعبہ نے کہا ہے کہ تعطیلی سے اہم معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
“پس منظر اور ممکنہ آگے کا راستہ”
کینیڈا پوسٹ کئی سالوں سے خطی میل میں کمی اور نجی کورئیر کمپنیوں سے مقابلے کے باعث نقصان اٹھا رہا ہے۔ حکومت نے 45 روز کے اندر اصلاحات نافذ کرنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ فی الوقت ثالثی یا مذاکرات کے امکان پر نظر رکھی جارہی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام رہے تو ہڑتال طویل المدت ہوسکتی ہے اور سرکاری کارروائیاں — بشمول مزید ساختی تبدیلیاں — قابلِ عمل ہوں گی۔
حالیہ فیصلہ کن ہڑتال اور حکومت کے سخت اصلاحاتی اقدامات نے کینیڈا پوسٹ کو ایک قومی سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے۔ وزیرِ اعظم مارک کارنی کے مطابق ادارے کی بقا کے لیے تیزی سے تبدیلیاں ضروری ہیں، جبکہ یونین اور شہری حلقے نوکریوں، دیہی خدمات اور ڈاک کی سروس کے مستقبل کے بارے میں شدید خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ مذاکرات اور ممکنہ ثالثی آئندہ چند دنوں میں طے کریں گی کہ آیا سروسز بحال ہو سکیں گی یا تنازع طویل ہوگا۔

