اوٹاوا (نمائندہ خصوصی)کینیڈا کا موجودہ قومی پرچم 15 فروری 1965 کو پہلی بار اوٹاوا میں سرکاری طور پر لہرایا گیا۔ اس پرچم کے مرکز میں سرخ میپل لیف ہے جو کینیڈا کی قومی شناخت، اتحاد اور تنوع کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
کینیڈا نے باضابطہ طور پر اپنا موجودہ قومی پرچم 15 فروری 1965 کو اپنایا، اسی مناسبت سے ہر سال “نیشنل فلیگ آف کینیڈا ڈے” منایا جاتا ہے۔ پہلی بار یہ پرچم اوٹاوا میں پارلیمنٹ ہل پر لہرایا گیا جس موقع پر اس وقت کے وزیراعظم لیسٹر بی۔ پیئرسن اور گورنر جنرل جارج وانئیر موجود تھے۔
اس سے پہلے کینیڈا کا کوئی مخصوص قومی پرچم نہیں تھا اور زیادہ تر سرکاری مقامات پر برطانیہ کا یونین جیک یا ریڈ اینسن پرچم لہرایا جاتا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عوام میں یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ کینیڈا کا ایسا پرچم ہونا چاہیے جو صرف اس ملک کی نمائندگی کرے۔
وزیراعظم لیسٹر بی۔ پیئرسن نے 1960 کی دہائی میں اس مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دی۔ ہزاروں ڈیزائنز کا جائزہ لینے کے بعد وہ ڈیزائن منتخب کیا گیا جو ڈاکٹر جارج ایف۔ جی۔ سٹینلے اور جان میتھیسن نے تیار کیا تھا۔ اس ڈیزائن میں دو سرخ پٹیاں اور درمیان میں سفید حصہ شامل ہے جس کے مرکز میں سرخ میپل لیف ہے۔
میپل درخت کینیڈا کی سرزمین کا ایک نمایاں درخت ہے اور 18ویں صدی سے کینیڈین شناخت کی علامت رہا ہے۔ 1860 میں پرنس آف ویلز کی آمد پر پہلی بار میپل لیف کو قومی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا، جبکہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں فوجی بیجز اور وردیوں پر بھی نمایاں تھا۔
سفید رنگ امن، غیر جانبداری اور خلوص کی علامت ہے۔سرخ رنگ بہادری، قربانی اور قومی جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔میپل لیف (11 نوکیلی پتی) تمام صوبوں اور کمیونٹیز کو جوڑنے والی علامت ہے، اس کی 11 نوکیں صرف جمالیاتی توازن کے لیے رکھی گئی ہیں۔
ابتدا میں اس پرچم پر آراء منقسم تھیں، لیکن وقت کے ساتھ یہ پرچم قومی اتحاد کی سب سے بڑی علامت بن گیا اور آج اسے دنیا بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بیرون ملک کینیڈین شہری اور کھلاڑی فخر کے ساتھ اس پرچم کو لہراتے ہیں۔
کینیڈا کا سرخ میپل لیف پرچم نہ صرف ایک قومی علامت بلکہ ملک کی تاریخ، امن پسندی اور اتحاد کی نمائندگی کرتا ہے۔ 15 فروری کو پورے ملک میں اس دن کو منانے سے قومی فخر اور شناخت کی تجدید کی جاتی ہے۔

