کینیڈا کی خارجہ پالیسی کا نیا رخ— یورپ میں بڑھتے خطرات اور مارک کارنی کا دورہ

اوٹاوا (وقائع نگار خصوصی)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی یورپ کے ایک اہم دورے پر روانہ ہو گئے ہیں، جس کا مقصد جرمنی، پولینڈ اور لٹویا کے ساتھ تجارت، توانائی، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ دورہ یورپ میں بڑھتے خطرات اور یوکرین تنازع کے تناظر میں کینیڈا کی خارجہ پالیسی کے ایک نئے اور فعال رخ کو اجاگر کرتا ہے۔

کارنی نے اوٹاوا میں نیشنل پریس تھیٹر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے ساتھ تعلقات مزید گہرائی اختیار کر سکتے ہیں۔ برلن میں ان کی ملاقات جرمن چانسلر فریڈرش میرٹز اور اہم کاروباری شخصیات سے متوقع ہے۔

پولینڈ میں کینیڈا اور پولینڈ توانائی اور سلامتی پر مبنی دوطرفہ اسٹریٹجک شراکت داری کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں۔ وزیرِاعظم پولینڈ میں تعینات کینیڈین فوجیوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

لٹویا میں کارنی کینیڈا کی قیادت میں موجود نیٹو بریگیڈ کا معائنہ کریں گے اور بالٹک ریاست کی وزیرِاعظم ایویکا سیلینا سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ تجارت، توانائی، اہم معدنیات اور دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے ہمراہ وزیرِ توانائی و قدرتی وسائل ٹم ہوگسن اور وزیرِ دفاع ڈیوڈ میک گنٹی بھی شامل ہوں گے۔

“یوکرین تنازع اور کینیڈا کا کردار”
یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم روسی حملوں میں شدت آ گئی ہے اور ماسکو نے مذاکراتی ایجنڈے کی غیر موجودگی کے باعث کسی ممکنہ ملاقات کو مسترد کر دیا ہے۔

مارک کارنی نے واضح کیا کہ کینیڈا اتحادیوں کے ساتھ مل کر یوکرین کیلئےسلامتی کی ضمانتوں پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عمل غیر یقینی ہے، لیکن کینیڈا اس عمل میں ایک اہم اور تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔

یہ دورہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات میں مزید مضبوطی اور عالمی سکیورٹی میں کینیڈا کے فعال کردار کو اجاگر کرتا ہے، جو مستقبل کی خارجہ پالیسی کیلئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں