برامپٹن( نمائندہ خصوصی)رکن پارلیمنٹ سونیا سدھو نے وزیراعظم مارک کارنی کے ہمراہ کینیڈا کی نئی حکومت کی جانب سے ایک جامع نیشنل آٹو موٹیو اسٹریٹجی کا اعلان کیا جس کا مقصد ملکی معیشت کو مضبوط بنانا، صاف ٹیکنالوجی کو فروغ دینا اور معیاری روزگار کے مواقع کو یقینی بنانا ہے۔حکومت کے مطابق عالمی تجارتی حالات میں تبدیلی اور آٹو سیکٹر کو درپیش بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر یہ حکمت عملی کینیڈا کیلئے ایک نیا راستہ متعین کرے گی، جس کے تحت ملک کو زیادہ خود کفیل، جدید اور کسی ایک تجارتی شراکت دار پر کم انحصار کرنے والا بنایا جائے گا۔
نئے منصوبے کے تحت آٹو مینوفیکچرنگ اور الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کی پیداوار بڑھانے کے لیے 3 ارب ڈالر اسٹریٹجک ریسپانس فنڈ کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ صاف ٹیکنالوجی کینیڈا میں تیار کرنے والی کمپنیوں کو ٹیکس مراعات بھی دی جائیں گی۔ سونیا سدھو نے کہا کہ ان اقدامات سے برامپٹن جیسے شہروں کو طویل المدتی معاشی فوائد حاصل ہوں گے جہاں آٹو اور جدید مینوفیکچرنگ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حکمت عملی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مستقبل کی گاڑیاں ملک کے اندر تیار ہوں، مزدوروں کو سہارا ملے اور مقامی معیشت کو تقویت حاصل ہو۔
حکومت نے صاف ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے اخراج کے سخت معیار متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت 2035 تک 75 فیصد اور 2040 تک 90 فیصد گاڑیوں کی فروخت الیکٹرک بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم مینوفیکچررز کو جدت کیلئے لچک فراہم کی جائیگی۔عوام کو الیکٹرک گاڑیاں خریدنے میں سہولت دینے کے لیے پانچ سالہ 2.3 ارب ڈالر کا ای وی افورڈیبلٹی پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مختلف ماڈلز پر مراعات دی جائیں گی جبکہ کینیڈا میں تیار شدہ گاڑیوں کیلئےخصوصی سہولتیں بھی شامل ہوں گی۔
اس کے علاوہ ملک بھر میں ای وی چارجنگ نیٹ ورک کو وسعت دینے کیلئے 1.5 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔حکومت نے صنعت میں تبدیلی کے دوران مزدوروں کے تحفظ کیلئےورک شیئرنگ گرانٹ، روزگار معاونت اور دوبارہ تربیت کے پروگرام بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جن سے ملک بھر میں 66 ہزار تک کارکنان مستفید ہو سکیں گے۔سونیا سدھو کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات کینیڈا کی معاشی سمت میں ایک تاریخی تبدیلی کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس حکمت عملی کے ذریعے ملک نہ صرف آٹو انڈسٹری کے مستقبل میں حصہ لے گا بلکہ قیادت بھی کریگا۔

