کینیڈین سیاست نے ایک بار پھر اپنی غیر متوقع اور حیران کن فطرت کو ثابت کیا ہے۔ چند ماہ قبل، جسٹن ٹروڈو کی قیادت میں لبرل پارٹی اپنی تاریخ کی کم ترین عوامی مقبولیت کا سامنا کر رہی تھی۔ ہر سروے یہی ظاہر کر رہا تھا کہ آئندہ وفاقی انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو آسانی سے اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ ٹروڈو پر نہ صرف حزبِ اختلاف، بلکہ اپنی پارٹی کے اندر سے بھی تنقید بڑھتی جا رہی تھی۔ کئی تجربہ کار لبرل ارکانِ پارلیمنٹ نے دوبارہ الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر دیا ـ کچھ مایوس، اور کچھ یہ سمجھتے ہوئے کہ پارٹی شکست کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جیسے ہی اچانک انتخابات کا اعلان ہوا، پارٹی بدانتظامی کا شکار نظر آئی، اور پورے ملک میں امیدواروں کو فوری طور پر تلاش کیا جانے لگا۔ مہم ایک منظم کوشش کے بجائے ایک عارضی بچاؤ کی کوشش لگ رہی تھی۔
پھر، حالات نے ایک ایسا موڑ لیا جو کسی فلمی کہانی سے کم نہیں تھا۔ ٹروڈو کے اچانک استعفے کے بعد، مارک کارنی کا بطور لبرل رہنما غیر معمولی ابھار دیکھنے کو ملا۔ کارنی، جو عالمی سطح پر معروف ماہرِ معیشت اور بینک آف کینیڈا و بینک آف انگلینڈ کے سابق گورنر رہ چکے ہیں، پارٹی میں سنجیدگی، وقار اور ایک نئی توانائی لے کر آئے۔ ان کی پُراعتماد قیادت اور گہری معاشی بصیرت نے ایک محتاط مگر متحرک ووٹر طبقے میں فوری اثر دکھایا۔
اصل تبدیلی اُس وقت آئی جب ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ واپسی کے فوراً بعد انہوں نے کینیڈا پر سخت تجارتی بیانات دیے اور خودمختاری پر سوال اٹھا دیے۔ جہاں پیئر پوئلیور نے محتاط اور غیر واضح ردعمل دیا، وہیں کارنی نے دو ٹوک مؤقف اختیار کیا۔ قومی ٹی وی پر ایک خطاب میں انہوں نے باہمی محصولات کی تجویز دی اور کہا: “ہم کینیڈین مزدوروں اور کینیڈین خودمختاری کا کسی سمجھوتے کے بغیر دفاع کریں گے۔” یہ خطاب واضح، جرات مندانہ اور حب الوطنی سے بھرپور تھا، جسے مختلف سیاسی حلقوں میں خوب سراہا گیا۔
یہ قیادت کا مظاہرہ لبرل پارٹی کے لیے نئی جان بن گیا، اور پارٹی نے فوراً اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ صرف چند دنوں میں کارنی نے 28 اپریل کو اچانک انتخابات کا اعلان کر دیاـ جو پہلے ایک دفاعی حکمتِ عملی لگ رہی تھی، اب ایک دلیرانہ قدم بن گئی۔ یہ فیصلہ نہ صرف تجزیہ کاروں بلکہ سیاسی حریفوں کے لیے بھی غیر متوقع تھا۔ سب سے اہم بات یہ ہوئی کہ عوامی رائے میں ایک بڑی تبدیلی آ گئی۔ تازہ ترین سروے کے مطابق، لبرل پارٹی 43 فیصد حمایت کے ساتھ سب سے آگے ہے، کنزرویٹو 38 فیصد پر ہیں، اور این ڈی پی صرف 9 فیصد پر آ گئی ہے۔
اگرچہ یہ تبدیلی حیران کن ہے، لیکن کینیڈین سیاست میں ایسے واقعات نئی بات نہیں۔ 2006 میں اسپانسرشپ اسکینڈل نے پال مارٹن کی لبرل حکومت کو نقصان پہنچایا، اور اسٹیفن ہارپر کی کنزرویٹو پارٹی کو اقتدار ملا۔ 2011 میں جیک لیٹن کی کرشماتی قیادت میں این ڈی پی نے اپوزیشن کا مقام حاصل کیا۔ اور 2015 میں، جسٹن ٹروڈو کی لبرل پارٹی نے صرف چند ہفتوں میں تیسرے نمبر سے اکثریتی حکومت بنا لی۔ یہ سب اس بنیادی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ کینیڈین سیاست میں کچھ بھی طے شدہ نہیں—فیصلہ ہمیشہ ووٹ کے دن ہی ہوتا ہے۔
اس غیر یقینی ماحول کی ایک بڑی وجہ کینیڈین عوام کی بدلتی ہوئی سوچ ہے۔ قیادت کی تبدیلی، معاشی حالات، عالمی واقعات یا محض ایک غلط بیان عوامی رائے کو بڑی حد تک متاثر کر سکتا ہے۔ کینیڈین عوام اپنے رہنماؤں کی باتوں کو غور سے سنتے ہیں، خاص طور پر جب بات قومی وقار یا عام آدمی کے انصاف کی ہو۔ ایک غلط جملہ، جو خودمختاری یا معاشی ناانصافی پر کمزوری ظاہر کرے، فوری ردعمل لا سکتا ہے۔ عوام باشعور، فیصلہ کن اور بعض اوقات بے رحمانہ انداز میں احتساب کرنے والے ہوتے ہیں۔
یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ حالیہ تنقید کے باوجود، جسٹن ٹروڈو کا سیاسی ورثہ قابلِ ذکر رہا ہے۔ انہوں نے 25 ہزار سے زائد شامی مہاجرین کو پناہ دی، کووڈ-19 کے مشکل دنوں میں قیادت فراہم کی، اور ماحولیاتی تبدیلی و صنفی مساوات پر اہم اقدامات کیے۔ انہوں نے کئی حساس معاملات کو مرکزی سیاسی بحث میں لایا۔ مگر سیاست وعدوں کا کھیل ہے، اور جب بڑے وعدے پورے نہ ہوں، تو عوامی حمایت جلدی مایوسی میں بدل جاتی ہے۔ عالمی سطح پر ترقی پسند قیادت کی علامت سمجھے جانے والے ٹروڈو آخرکار ایک مثال بنے کہ اعتماد کس تیزی سے ختم ہو سکتا ہے۔
اب جب کہ کینیڈا ایک اہم ترین انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے، خطرات بھی بڑھ چکے ہیں۔ ٹرمپ کی واپسی نے سرحد پار تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماحولیاتی بحران اجتماعی قیادت کا تقاضا کر رہا ہے۔ مقامی اقوام کے ساتھ مفاہمت اب تک مکمل نہیں ہو سکی۔ اور ملک کے اندر، مہنگائی، رہائش کا بحران، صحت کی سہولیات کی کمی، اور بیرونی مداخلت جیسے مسائل عوام کی اولین ترجیحات ہیں۔
ایسے میں اگلا وزیراعظم صرف اقتدار حاصل نہیں کرے گا، بلکہ ایک بھاری ذمہ داری بھی سنبھالے گا۔ عوام دلکش نعروں یا جماعتی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ عملی حل چاہتے ہیں۔ انہیں ایسے لیڈر درکار ہیں جو معیشت کو سنبھالیں، خودمختاری کا تحفظ کریں، اور ہر شہری کو باوقار زندگی کے مواقع فراہم کریں۔ یہ وقت سنجیدگی، صلاحیت اور ایمانداری کا تقاضا کرتا ہے۔
سب سے بڑھ کر، کینیڈین عوام ایسے رہنما چاہتے ہیں جو ان کے شعور، مسائل اور فکر کا احترام کریں۔ انہیں سچائی چاہیے، بناوٹ نہیں؛ عمل چاہیے، دکھاوا نہیں؛ اصل چاہیے، خالی باتیں نہیں۔ اور جب ان توقعات پر پورا نہ اترا جائے، تو وہ صرف سوشل میڈیا پر غصہ نہیں نکالتے، وہ ووٹ کی طاقت سے فیصلہ سناتے ہیں۔ یہی وہ طاقت ہے جس نے اس ملک کی سیاست کو بارہا بدلا ہے۔
کینیڈین سیاست میں صرف ایک چیز یقینی ہے: وہ ہے عوام کی مسلسل بیداری۔

