کینیڈین نیو ڈیموکریٹک پارٹی کیلئے قیادت کی دوڑ کا آغاز

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی/ اے ایف پی/رائٹرز) وفاقی نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نےاپنی قیادت کیلئےباقاعدہ انتخابی دوڑ کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت آئندہ سات ماہ کے دوران امیدوار اپنی مہمات چلائیں گے۔ نیا قائد مارچ میں ونپےگ میں ہونے والے قومی کنونشن میں منتخب کیا جائے گا۔

سابق سربراہ جگمیت سنگھ کے اپریل کے وفاقی انتخابات میں بدترین شکست کے بعد مستعفی ہونے کے نتیجے میں پارٹی صرف سات نشستوں تک محدود رہ گئی اور اس کا باضابطہ پارلیمانی اسٹیٹس بھی ختم ہوگیا تھا۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ قیادت کے نئے امیدواروں کے لیے درخواست فارم 20 اگست سے دستیاب ہیں اور اس حوالے سے پارٹی اراکین کی دلچسپی نمایاں ہے۔

پارٹی کے مطابق قیادت کے امیدواروں کو 25 برس یا اس سے کم عمر این ڈی پی ممبران کے دستخطوں کا کم از کم 10 فیصد حاصل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر امیدوار کو پانچ مختلف ریجنز—اٹلانٹک، کیوبیک، اونٹاریو، پریریز اور برٹش کولمبیا و شمال—میں سے کم از کم 50 دستخط بھی جمع کرنا ہوں گے۔

پارٹی ممبران نئے قائد کے انتخاب میں رینکڈ بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے، جس میں امیدواروں کو ترجیحی ترتیب میں درج کیا جا سکے گا۔ابھی تک کسی امیدوار نے باضابطہ طور پر قیادت کی دوڑ میں شمولیت کا اعلان نہیں کیا، تاہم جو بھی منتخب ہوگا اسے پارٹی کو دوبارہ مؤثر بنانے کے لیے سخت جدوجہد کرنا ہوگی۔

جولائی میں ریسرچ کو (Research Co.) کے ایک سروے کے مطابق زیادہ تر کینیڈین عوام نو ممکنہ قیادتی امیدواروں سے ناواقف ہیں۔ ان میں موجودہ اراکینِ پارلیمان لیا غازان، گورڈ جانز، جینی کوان اور ہیذر میکفرسن، سابق ہاؤس لیڈر رُتھ ایلن بروسو، سابق وینکوور میئر کینیڈی سٹیورٹ اور فلم ساز ایوی لوئس شامل ہیں۔

سروے میں سابق رکن پارلیمان نیتھن کلن اور اونٹاریو کے کسان ٹونی مک کوائل کے بارے میں بھی عوامی رائے معلوم کی گئی، جنہوں نے قیادت کے انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں