کینیڈا: وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا مستعفی ہونے کا اعلان

اوٹاوا: کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔غیر ملکی خبرساں ایجنسی کے مطابق جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ وہ حکمران جماعت لبرل پارٹی کی جانب سے نیا سربراہ چنے جانے کے بعد عہدہ چھوڑدیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پارٹی کے اندرونی اختلافات کا سامنا ہو تو وہ اگلے الیکشن میں بہترین انتخاب نہیں ہوسکتے۔

واضح رہے کہ ٹروڈو 2013 سے لبرل پارٹی آف کینیڈا کے رہنما ہیں اور وہ 2015 سے اب تک 9 سال تک کینیڈا کے وزیر اعظم رہے ہیں، پارٹی کے آئین کے تحت رہنما کسی بھی وقت اپنا استعفیٰ پیش کر سکتا ہے۔

53 سالہ جسٹن ٹروڈو نے 2015 میں کینیڈا کی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا اور وہ اس کے بعد بھی مسلسل 2 انتخابات جیت چکے ہیں۔جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے متبادل کا انتخاب نہیں ہوجاتا وہ بطور پارٹی سربراہ اور وزیر اعظم اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گے۔

یوں جسٹن ٹروڈو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت کے ابتدائی مہینوں میں کینیڈا کے وزیر اعظم ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ گراس روٹ سطح پر ملک گیر عمل کے ذریعے نئے پارٹی سربراہ کا انتخاب کیا جائے گا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نئے پارٹی سربراہ کیلئےنچلی سطح تک انتخاب میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں جس میں امیدوار اپنے لئے مہم چلائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق جسٹس ٹروڈو نے اپنی جماعت میں مخالفت پر استعفیٰ دیا، گزشتہ ماہ کینیڈین وزیر خزانہ نے ان سے اختلافات پر استعفیٰ دیا تھا۔انکے مخالفین کا کہنا ہے کہ ٹروڈو کی غلط امیگریشن پالیسی لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کی کینیڈا آمد کا باعث بنی جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار ہاؤسنگ مارکیٹ پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوا۔

وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے مستعفی ہونے کے ساتھ ہی لبرل پارٹی بھی اپنے سربراہ سے محروم ہو جائے گی جبکہ دوسری جانب رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کو برتری حاصل ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں