کیوبک کے کالج کو انگریزی پروگرامز میں زائد داخلوں پر 3 کروڑ ڈالر جرمانے کا سامنا

مونٹریال، کیوبک(نامہ نگار)کیوبک حکومت نے مونٹریال کے لاسل کالج پر انگریزی زبان کے پروگراموں میں مقررہ حد سے زائد طلبہ کو داخلہ دینے پر 3 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے۔ کالج کا کہنا ہے کہ یہ جرمانہ اس کے بقا کیلئےخطرہ بن سکتا ہے۔

کیوبک کے 65 سال پرانے دو لسانی تعلیمی ادارے لاسل کالج کو اس وقت شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ صوبائی حکومت نے اس پر 30 ملین ڈالر (تقریباً 3 کروڑ کینیڈین ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ کالج نے انگریزی زبان کے پروگراموں میں طلباء کی وہ حد عبور کر لی ہے جو 2022 میں منظور شدہ نئے لسانی قانون کے تحت مقرر کی گئی تھی۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ لاسل کالج واحد نجی سبسڈی یافتہ ادارہ ہے جس نے ان داخلہ کوٹوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیوبک کا نیا زبان قانون فرانسیسی زبان کے فروغ اور تحفظ کیلئےنافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت انگریزی زبان کے کالج پروگراموں میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

دوسری جانب کالج کی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جن طلبہ کا داخلہ خلاف ورزی کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے، وہ تمام ایسے طلبہ تھے جنہیں کوٹے کے نفاذ سے پہلے داخلہ دیا گیا تھا۔ کالج کے مطابق وہ رواں سال خزاں تک ان نئے قواعد و ضوابط پر مکمل عمل درآمد کر لے گا۔

لاسل کالج نے اس جرمانے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان جرمانوں کو کالعدم قرار دیا جائے۔ کالج کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے مالی بوجھ کا سامنا اس ادارے کے وجود اور بین الاقوامی طلبہ کیلئےتعلیمی مواقع پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں