کیوبیک(نامہ نگار) کیوبیک سپیریئر کورٹ نے ایک تاریخی فیصلے میں صوبائی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ 2015 سے 2020 کے درمیان غیر قانونی حراست کا شکار بننے والے تقریباً 24,000 شہریوں کو مجموعی طور پر 164 ملین کینیڈین ڈالر معاوضے کے طور پر ادا کرے۔
یہ فیصلہ ایک اجتماعی مقدمے کے نتیجے میں سامنے آیا ہے، جس میں عدالت نے تسلیم کیا کہ کیوبیک حکومت نے آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، گرفتار افراد کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش نہ کرکے ان کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی۔
جج ڈونلڈ بیسن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کیوبیک کے محکمہ انصاف اور پراسیکیوشن کے اعلیٰ حکام کو علم تھا کہ ان کی پالیسی قانونی تقاضوں سے متصادم ہے، تاہم بجٹ کی کمی اور انتظامی سہولت کو ترجیح دیتے ہوئے اس پر عمل جاری رکھا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ متاثرہ ہر شخص کو $7,000 معاوضہ دیا جائیگا اور سود سمیت کل رقم 240 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
کینیڈا کے فوجداری ضابطہ کے تحت، کسی بھی گرفتار شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر جج کے روبرو پیش کرنا قانونی طور پر لازم ہے۔ تاہم، کیوبیک حکومت نے 2015 میں عدالتوں کو اتوار اور تعطیلات کے دن بند رکھنے کا فیصلہ کیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو 48 گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت تک حراست میں رکھا گیا، جو کہ واضح طور پر آئینی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالتی سماعت کے دوران متعدد متاثرین نے گواہی دی کہ پولیس سیلز میں ہمہ وقت روشنی جلتی رہتی تھی، نہانے کی سہولت موجود نہ تھی، اور پرائیویسی کا فقدان تھا۔ ایک خاتون نے بتایا کہ حیض کے دوران انہیں بنیادی طبی سہولیات فراہم نہ کی گئیں اور پولیس نے انہیں ٹوائلٹ پیپر استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔
اجتماعی مقدمے کے وکیل رابرٹ کوگلر نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف مالی طور پر متاثرہ افراد کی مدد کرے گا بلکہ یہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کیلئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا“ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہر فرد کو بے گناہ تصور کیا جائے، اور اسے قانونی عمل کے بغیر سزا نہ دی جائے۔”
معاوضے کی ادائیگی اور آئندہ لائحہ عمل
اگر حکومت اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرتی تو متاثرہ افراد کو معاوضہ خود بخود عدالت کے ریکارڈز اور پولیس رپورٹس کی بنیاد پر ادا کر دیا جائے گا، اور انہیں کسی اضافی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔
یہ فیصلہ نہ صرف متاثرین کو دیرینہ انصاف مہیا کرتا ہے، بلکہ حکومتی اداروں کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ شہری آزادیوں کا احترام لازم ہے اور قانون سے انحراف کسی صورت قابل قبول نہیں۔

