کیوبیک: سڑکوں پرتعمیراتی تعطیلات کے دوران صرف دو ہفتوں میں 38 ہلاکتیں

کیوبیک(نامہ نگار) کیوبیک میں تعمیراتی تعطیلات کے دوران صرف دو ہفتوں میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں 38 افراد جان کی بازی ہار گئے، جو گزشتہ ایک دہائی کا بدترین ریکارڈ ہے۔ زیادہ تر حادثات انسانی غلطی، خطرناک ڈرائیونگ اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے باعث پیش آئے۔

Sûreté du Québec (SQ) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ کے مطابق، 18 جولائی سے 3 اگست 2025 کے درمیان کیوبیک میں تعمیراتی تعطیلات کے دوران پیش آنیوالے 31 مختلف سڑک حادثات میں کم از کم 38 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ گزشتہ سال اسی مدت میں 17 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں، جس کے مقابلے میں یہ تعداد دوگنا سے بھی زائد ہے، اور یہ گزشتہ 10 برسوں میں بدترین اعداد و شمار قرار دیے جا رہے ہیں۔

SQ کے ترجمان کیمط کے مطابق، زیادہ تر مہلک حادثات میں صرف ایک گاڑی شامل تھی، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انسانی غلطی، توجہ کی کمی اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ ان اموات کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ تر حادثات کی وجوہات مشغول (distracted) ڈرائیونگ،حد رفتار کی خلاف ورزی،شراب یا منشیات کا استعمال اورسیٹ بیلٹ نہ باندھنا ہیں.

SQ نے بیان میں کہا کہ “جب انسانی عنصر شامل ہو، تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ڈرائیور نے کوئی فیصلہ کیا — جس کا نتیجہ حادثے کی صورت میں سامنے آیا۔ اس لیے ہم جانتے ہیں کہ یہ تصادم قابلِ گریز تھے۔”

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پیش آنے والے 14 حادثات میں موٹر سائیکل سوار شامل تھے، جو کل مہلک تصادم کا تقریباً نصف بنتے ہیں، جو موٹر سائیکل سواروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

تعطیلات کے وسط میں ہی، جب اموات کی تعداد 17 تک پہنچ چکی تھی، SQ نے سوشل میڈیا پر ایک تنبیہی پیغام جاری کیا اور عوام کو محتاط ڈرائیونگ کی تلقین کی تھی۔ اس کے باوجود اموات کی رفتار تیز رہی۔

ایک دلخراش واقعہ سینٹ-لوک-ڈی-بیلیچاس کے علاقے میں ہفتہ کی شب پیش آیا، جہاں ایک کار درخت سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں گاڑی میں سوار چار افراد — ایک بالغ اور تین کم عمر بچے — موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ حادثے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

Sûreté du Québec نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈرائیونگ کے دوران مکمل ہوشیاری، رفتار کی پابندی، نشہ آور اشیاء سے گریز اور حفاظتی بیلٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ مزید انسانی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جا سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں