کیوبیک (نامہ نگار،سی بی سی نیوز، گلوبل نیوز، نیشنل پوسٹ، رائٹرز)کیوبیک کے مختلف شہروں میں درجنوں میئرز اور کونسلرز 2025 کے بلدیاتی انتخابات میں بغیر کسی مقابلے کے دوبارہ منتخب ہوگئے ہیں۔ بعض میئرز اس صورتحال کو عوامی اطمینان کی علامت قرار دے رہے ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مقابلے کی کمی جمہوریت کیلئےخطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار ایلینی بیکوپانوس کا کہنا ہے کہ صحت مند جمہوریت کیلئےمختلف آراء کا ہونا ضروری ہے۔
ان کے بقول، “یہ ممکن ہے کہ میئر اچھا کام کر رہے ہوں، لیکن اگر مقابلہ ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ فیصلہ عوام کا حق ہے کہ وہ کارکردگی کا جائزہ لیں۔”
“شاتوگے”
مونٹریال کے جنوب میں واقع شاتوگے میں میئر ایرک آلرڈ اور ان کی پوری ٹیم بغیر مقابلے کے دوبارہ منتخب ہو گئی۔ آلرڈ نے کہا، “ہم اب بھی عوام سے گھر گھر جا کر رابطے میں ہیں کیونکہ یہ بہت اہم ہے۔ نومبر تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور اس کے بعد بھی سال بھر شہری رابطے میں رہیں گے۔”
“مونٹریال”
مونٹریال کے علاقے ڈولارڈ-ڈیز-اورموکس کے میئر ایلکس بوٹاوسی بھی بغیر مقابلہ کے منتخب ہوئے کیونکہ کسی اور امیدوار نے مقررہ تاریخ تک کاغذات جمع نہیں کرائے۔بوٹاوسی نے کہا “یہ بلا مقابلہ انتخاب مجھے سست نہیں کر رہا بلکہ مزید محنت کرنے کی تحریک دے رہا ہے تاکہ شہریوں کے لیے بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔”
“کرکلینڈ اور ٹیریبون”
کرکلینڈ کے میئر میشل گیبسن چوتھی مدت کے لیے شہر واپس جا رہے ہیں؛ وہ بھی بغیر کسی مقابلے کے منتخب ہوئے۔گیبسن نے کہا، “میں اس اعزاز کے لیے بہت شکر گزار ہوں اور ہمارے پاس کئی بڑے منصوبے ہیں جنہیں ہم آگے بڑھائیں گے۔”
ٹیریبون میں، جہاں تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار لوگ مقیم ہیں، میئر میتھیو ٹریورسی بھی بغیر مقابلے کے دوبارہ منتخب ہوئے۔ انہوں نے کہا، “جب لوگ ووٹ دینے جاتے ہیں تو عام طور پر وہ مایوسی یا ناخوشی کی وجہ سے جاتے ہیں، لیکن ٹیریبون میں ایسا کم دیکھنے کو ملا ہے۔”
گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں مونٹریال اور کیوبیک سٹی میں صرف 38 فیصد ووٹرز نے ووٹ ڈالے تھے۔ بیکوپانوس نے امید ظاہر کی کہ رواں سال 2 نومبر کے انتخابات میں عوام کی زیادہ تعداد ووٹ ڈالنے کے لیے متحرک ہوگی۔انہوں نے کہا، “مجھے امید ہے کہ زیادہ شہری اس بار ووٹ ڈالنے کے لیے حوصلہ مند ہوں گے، خاص طور پر جب عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔”
بیکوپانوس کے مطابق، کئی بلدیات میں صرف ایک امیدوار میدان میں ہے جو اکثر موجودہ میئر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “2021 کے مقابلے میں اس سال خواتین امیدواروں کی تعداد تو بڑھی ہے لیکن ان کے منتخب ہونے کی شرح کم ہوئی ہے، جب کہ نوجوان طبقہ بلدیاتی سیاست میں کم دلچسپی لے رہا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “میونسپل سطح پر سیاستدانوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ سوشل میڈیا کا زہریلا ماحول ہے، اور دوسرا چیلنج ذاتی اور عوامی زندگی میں توازن قائم رکھنا ہے۔”
شہری اپنے علاقے کے امیدواروں کی تفصیلات اور پولنگ اسٹیشنز کی معلومات کیلئے Elections Quebec کی ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

