گجرات:” جن” آ کر ریپ کرواتا ہے‘ ساس نے داماد پر مقدمہ درج کرا دیا

’عادل نامی جن مجھ سے محبت کرتا ہے اور داماد کو مجبور کرتا ہے‘بھدر گاؤں میں ساس کا مؤقف

گجرات(نامہ نگار)پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں بھدر میں پیش آنے والے ایک انتہائی غیر معمولی اور حیران کن واقعے نے مقامی پولیس اور علاقہ مکینوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے، جہاں ایک ساس نے اپنے 18 سالہ داماد کے خلاف ریپ کا مقدمہ درج کرایا ہے۔

خاتون نے الزام لگایا ہے کہ داماد متعدد بار اس کا ریپ کر چکا ہے، لیکن یہ سب ایک ’جن‘ کے قابو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ککرالی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر— جس کی کاپی ڈان کو موصول ہوئی— پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 376 کے تحت درج کی گئی ہے۔ متاثرہ خاتون نے دعویٰ کیا کہ ملزم پر “ایک جن کا قبضہ ہو جاتا ہے”، اور وہ اُس وقت تک نارمل نہیں ہوتا جب تک اُس کے ساتھ جسمانی تعلق قائم نہ کر لے۔

“عادل نام کا جن مجھ سے محبت کرتا ہے”،خاتون کا بیان
ایف آئی آر کے مطابق خاتون نے کہا کہ “عادل نام کا ایک جن مجھ سے محبت کرتا ہے”، اور جب یہ جن داماد پر قابض ہوتا ہے تو وہ اسے ریپ پر مجبور کرتا ہے۔خاتون کے بقول ان واقعات نے اس کی گھریلو زندگی تباہ کر دی ہے، لہٰذا وہ ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی چاہتی ہیں۔

“پولیس اور مقامی صورتحال”
پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقامی اہلکاروں کے مطابق یہ واقعہ علاقے میں چونکا دینے والی بحث کا باعث بنا ہوا ہے کیونکہ اس نوعیت کی شکایات پاکستان میں اگرچہ کم ہیں لیکن بالکل غیر معمولی نہیں۔

“’جنات‘ کا حوالہ دینے کے سابق واقعات”
رواں برس ستمبر میں لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے آئی جی پولیس کو ایک ایسے ہی کیس میں طلب کیا تھا جس میں چھ سال قبل لاپتا ہونے والی خاتون کے بارے میں سسرالیوں کا کہنا تھا کہ “اسے جن اٹھا کر لے گیا”۔
ایسے واقعات سماجی و نفسیاتی عوامل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں جہاں بعض خاندان جرائم یا لاپتا ہونے کے معاملات کو ماورائی عناصر سے جوڑ دیتے ہیں۔

گجرات کا یہ واقعہ پاکستانی سماج میں پائے جانے والے روایتی، مذہبی اور ماورائی تصورات کے اثرات کی ایک واضح مثال ہے۔ ماہرین کے مطابق جنات یا ماورائی قوتوں کو الزام دینے سے اصل جرائم کی سمت توجہ ہٹ جاتی ہے، جس سے قانونی عمل اور انصاف کے تقاضے متاثر ہو سکتے ہیں۔پولیس تفتیش کے نتائج اس غیر معمولی کیس کی حقیقت اور قانونی انجام کا تعین کریں گے۔