تل ابیب/سویڈن (افٹُن بلادیٹ) — سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھیونبرگ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں اسرائیلی حراست کے دوران تشدد، تذلیل، اور ’پنجرے میں گیس بھرنے‘ کی دھمکی دی گئی۔
گریٹا 450 افراد میں شامل تھیں جو گلوبل صمود فلوٹیلا کے جہاز پر سوار تھے، یہ مشن غزہ کی پٹی میں خوراک، پانی اور ادویات پہنچانے کیلئےانسانی ہمدردی پر مبنی تھا۔ یکم اکتوبر کو اسرائیلی بحریہ نے کشتیوں کو روک لیا اور تمام کارکنان کو گرفتار کر کے 6 اکتوبر کو یونان بھیج دیا گیا۔

گریٹا نے کہا کہ ان کے ساتھ جسمانی مارپیٹ، تحقیر اور دھمکیاں دی گئیں، اور انہوں نے اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کے کندہ کردہ پیغامات، خون کے دھبے اور گولیوں کے سوراخ دیکھے۔ گریٹا نے مزید کہا: “اگر اسرائیل ایک مشہور، سفید فام، سوئیڈش شہری کے ساتھ یہ سلوک کر سکتا ہے تو فلسطینیوں کے ساتھ بند کمروں میں کیا ہوتا ہوگا۔”
انہوں نے اس واقعے کو فلسطینی عوام کو درپیش دہائیوں پر محیط اذیت کا محض ایک چھوٹا سا حصہ قرار دیا۔ فلوٹیلا پر چڑھائی کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے کیمیائی مواد کے استعمال اور شدید گرمی کے دوران قید کے حالات کا بھی ذکر کیا گیا۔
تقریباً 20 گھنٹے بعد کشتی اشدود پہنچیں، جہاں گریٹا اور دیگر کارکنان کو مزید حراست میں رکھا گیا، جس کے دوران ان کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد اور دھمکیاں دی گئیں۔یہ انکشاف عالمی سطح پر اسرائیل کی جانب سے انسانی ہمدردی کے مشنوں پر کیے جانے والے رویے پر سوالات کو جنم دیتا ہے۔

