گل پلازہ: سیاسی چخ چخ، حقیقی ذمہ دار بچ جائیں گے؟

سانحہ گل پلازہ کراچی کئی روز سے خبروں میں ہے۔ یہ المناک حادثہ کوئی پہلا نہیں، کراچی اور ملک کے دوسرے شہروں میں آتشزدگی کے واقعات معمول بن چکے ہیں، ہر بار شور برپا ہوتا، تحقیقات تحقیقات کا کھیل ہوتا، لیکن آج تک کسی تحقیق کے نتیجے میں نہ تو ذمہ داروں کا تعین ہوا اور نہ دعوے کئے گئے، حفاظتی انتظامات مکمل ہو سکے۔ ہربار سروے ہوتے اور مخدوش عمارتوں کے بارے میں بات کی جاتی لیکن پھر چند روز بعد حالات جوں کے توں ہو جاتے اور کسی نئے حادثے کا انتظار ہوتا، ایسے تمام حادثے اتفاقاً نہیں ہوئے ان کے پس منظر میں لالچ اور رشوت کار فرما ہے۔ مالکان جائیداد ابتدا درست نقشے سے کرتے اور پھر عمارت میں تجاوز کرلیتے ہیں اور متعلقہ محکمہ یا شعبہ کے اہل کار اپنی جیب گرم کرکے الگ ہو جاتے ہیں، خبروں سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ آتشزدگی کے اکثریتی واقعات کراچی میں ہوئے۔ لاہور، پشاور اور اب کوئٹہ کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں تاہم کراچی والوں کو زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ماضی سے سبق نہ سیکھنے کا عمل ہمارا ”قومی فریضہ“ بن چکا۔ چند روز ہاؤ، ہو ہوتی اور پھر نئے حادثے تک خاموشی چھا جاتی۔ یوں وہی چال بے ڈھنگی جو پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے والا معاملہ ہو جاتا ہے۔

کراچی کے کسی پہلے واقع کا ذکر کرنے کی بجائے میں اس حادثے کی خبریں اور عوامی نمائندوں کا طرز عمل دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہا ہوں اس حادثے میں تعاون اور دکھ کے ایک جذبے کی بجائے، سیاست شروع ہوگئی اور یہ سیاست حقیقی موضوع سے بھی ہٹ گئی ہے، فریقین اپنا اپنا غبار نکال رہے ہیں۔ میرے سامنے جو بھی آیا، اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سندھ حکومت ابتدا ہی سے دفاعی پوزیشن اختیار کر چکی کہ ایک سو سے زائد (متوقع) اموات اور درجنوں زخمیوں کے علاوہ پلازہ میں کاروبار کرنے والے تاجروں کا کثیر مالی نقصان بھی سامنے تھا، چنانچہ وزیراعلیٰ سندھ نے امداد کے لئے جلد اعلان کیا، تاہم متاثرین کے بجا احتجاج اور دکھ کو نظر انداز کرتے ہوئے حریفوں اور حلیفوں نے بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی جہاں تک ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو (معذرت کے ساتھ) ان کے درمیان دیرینہ تنازعہ ہے جو لسانیت کی بنیاد پر ہے جسے خوبصورتی سے اب شہری اور دیہی کہا جاتا ہے۔ یہ ہمارے اس حقیقی وسائل سے مالا مال ملک کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ ان کے نام پر سیاست کی جاتی ہے لیکن ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، فائدہ مخصوص طبقات ہی کو ہوتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ سینئر سیاسی رہنماؤں کو بات کرتے وقت سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کم از کم برسراقتدار حکومتی اتحاد سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو تو ایک دوسرے کا لحاظ اور احترام کرنا چاہیے جو بھی اقتدار میں ہے یا اقتدار کے مزے لے رہا وہ عوامی مسائل کے لئے جواب دہ بھی ہے اس سے اسی انداز میں پوچھا جانا چاہیے لیکن یہ خیال کرنا بھی ضروری ہے کہ جو مستقل طور پر پس پردہ اقتدار میں شامل رہے وہ کیوں جواب دہ نہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ سانحہ مقامی یا صوبائی نہیں بلکہ قومی دکھ اور سوگ کا باعث ہوتا۔ متاثرہ تاجر اور پیاروں کو کھو دینے والے افراد الزام لگانے، احتجاج کرنے اور اپنا دکھ بیان کرنے میں حق بجانب ہیں، کتنی بدقسمتی ہے کہ ایک ہفتہ ہو چلا تاحال متاثرین اور لواحقین کے اعزہ کی میتوں کا کھوج نہیں لگ سکا، اب بھی پیاروں کو زندہ دیکھنے کی امید کھو دینے والے پلازہ کے باہر میتوں کے منتظر ہیں کہ ان کی تدفین کرکے آنسو بہا لیں اور صبر دینے والی تو اللہ کی ذات ہے۔

مجھے چند بزرگ سیاسی کارکنوں کی یہ بات اب احساس دلا رہی ہے کہ اتحادی حکومت کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں بھی سب اچھا نہیں اور یہ تعلق ہائبرڈ نظام ہی سے چل رہا ہے ورنہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے مفاد کے لئے ہر لمحہ تیاراور برقرار ہیں، ان کارکنوں نے سوال کیا کہ گل پلازہ کی آتشزدگی کا 18ویں ترمیم سے کیا تعلق کہ ایک سینئر وزیر نے حادثے کی آڑ میں اس ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر پیپلزپارٹی کے اس تحفظ کی توثیق کر دی کہ صوبوں سے دیئے گئے اختیارات واپس لینے کی کوشش ہو رہی ہے وفاقی وزیر ہی کی بات نے ایم کیو ایم کی حوصلہ افزائی کی اور اب وہ اپنی روایت کے مطابق الگ الگ بات کرکے الزامات کی بمبارمنٹ کر رہے ہیں اور بدلے میں سینکڑوں محنت کشوں کو (بلدیہ سانحہ) زندہ جلانے، ٹارگٹ کلنگ اور بوری بند نعشوں کے الزام سن رہے ہیں اور یہ سب تیز ہو رہا ہے۔ وزارت کو جوتے کی نوک پر رکھنے والے مصطفےٰ کمال تو کئی ہاتھ آگے بڑھ گئے ہیں وہ صوبوں کی بات کرتے کرتے کراچی کو وفاقی شہر قرار دینے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بات تو سانحہ کے اسباب کی ہونا چاہیے، تحقیقات میں تعاون کرکے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اگر بلڈنگ مالکان قواعد اور نقشے کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کو روکنے والے کیا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اس سطح کی کرپشن کو نظر انداز کیا جاتا ہے جو ان حادثات کا باعث بنتی ہے کہ یہ ان اہل کاروں کی رشوت خوری کے باعث ہوتی ہے جو تجاوز کی اجازت دیتے ہیں اور پھر جب کبھی آتشزدگی کا کوئی واقع ہوتا ہے تو یہ بات سامنے آتی ہے ہر بار تحقیقات اور ذمہ داسروں کو سزا دینے اور حفاظتی انتظامات کرنے کا شور ہوتا ہے لیکن پھر خاموشی چھا جاتی ہے اور یوں وہ اہلکار صاف بچ جاتے ہیں جن کی رشوت ستانی کے باعث تجاوز ہوتا اور پھر اموات ہوتی ہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگر کمشنر کی سربراہی میں بھی تحقیقاتی کمیٹی بن گئی ہے تو متاثرین کے علاوہ تاجر اور تجربہ کار شہری کمیٹی کے روبرو پیش ہو کر اصل وجوہ کا ذکر کریں کہ منظور شدہ نقشے سے تجاوز،دو منزلوں کی منظوری اور تین منزلہ عمارت، کراچی جیسے بڑے شہر میں ریسکیو کے عملے، آلات اور مشینری کی کمی کے بارے میں بتایا جائے۔ یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ صرف کراچی ہی نہیں ملک کے تمام شہروں میں ریسکیو کے موجودہ آلات فرسودگی کا شکار ہیں۔ضرورت ہے کہ کچھ غیر ضروری منصوبے روک کر جدید آلات درآمد کئے اور ملکی سطح پر تیار کئے جائیں اور ریسکیو کی سہولتیں شہری آبادی کے مطابق ہوں۔

مجھے شبہ ہی نہیں یقین ہے کہ اس سیاسی چخ چخ کے باعث اس آتشزدگی کے ذمہ دار بھی بچ جائیں گے اور یہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہمیں مایوس بھی کر رہی ہے جو قومی مصالحت کے حامی ہیں۔