گھاس پھوس کی مانند لوگ

درمیانہ سا کمرہ تھا۔ وہاں دو بیڈ تھے جن میں سے ایک پر ایک لڑکی آکر لیٹ گئی۔ اس نے اپنی عمر کی دوسری دہائی ابھی ابھی پار کی تھی۔ نکلتا قد تھا ستھرا رنگ تھا۔ بہت خوبصورت نہ سہی، بہت قبول صورت تو تھی ہی۔ وہ دیکھنے میں بالکل تندرست تھی۔ اس کے پاس ایک نوعمر لڑکا بینچ پر بیٹھا تھا۔ دونوں کم عمری والی بے فکری سے باتیں کررہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی سے بڑی عمر کا ایک نوجوان آیا۔ اِدھر اُدھر سے بے خبر تینوں باتیں کرنے لگے۔ باہر سے آنے والے نوجوان نے کہا چلو تمہیں برگر کھلا کر لاتا ہوں۔

انہوں نے کائونٹر پر موجود سٹاف کو کچھ بتایا اور باہر چلے گئے۔ کچھ دیر بعد واپس آگئے۔ یہ اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کا کارڈیک وارڈ تھا۔ شام کو ڈاکٹر نے اپنے وزٹ کے دوران لڑکی کو کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیئے جن کے رزلٹ آنے میں دو تین دن لگنے تھے۔ اس عرصے میں لڑکی کے پاس نوعمر لڑکا رہتا جبکہ بڑا نوجوان شام کو چکر لگاتا۔ لڑکی ہشاش بشاش اور مطمئن تھی۔

اس کے موبائل کی گھنٹی کبھی نہ بجتی تھی اور شاید وہ موجودہ زمانے کی اُن چند لڑکیوں میں سے ایک ہو جن کے پاس موبائل فون تو ہو لیکن انہیں نہ تو کوئی ایس ایم ایس یا واٹس ایپ آئے اور نہ ہی وہ کہیں کریں۔ البتہ کبھی کبھار وہ اپنی کسی خاتون عزیزہ کو فون کرلیتی اور اپنے بارے میں خود ہی ان کو تسلیاں دیتی رہتی کہ بالکل پریشان نہیں ہونا، کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ گفتگو سے معلوم نہیں ہوتا تھا کہ دوسری جانب کوئی اتنا فکرمند ہے یا نہیں مگر لڑکی کو فکر لگ جاتی کہ کوئی اس کی صحت کے حوالے سے فکرمند نہ ہو۔

بس کہتی رہتی فکر نہیں کرنی، پریشان نہیں ہونا۔ پھر میڈیکل ٹیسٹ کے رزلٹ آگئے۔ ڈاکٹر نے رپورٹ لکھی۔ اسے ڈاکٹر کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی یا وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ مرد ڈاکٹر نے دوسرے بیڈ کی ہمسائی بزرگ مریضہ کی تعلیم یافتہ لیڈی اٹینڈنٹ سے کہا کہ آپ اسے سمجھا دیں۔ ایسی بات کیسے سمجھائی جاسکتی ہے اور اگر سمجھانی اتنی مشکل ہے تو سمجھنی کتنی ناممکن ہوگی؟ وہ لڑکی قریب کے ایک سیاحتی شہر سے آئی تھی۔

اس نے بتایا کہ وہ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔ دو شادی شدہ ہیں اور دو غیرشادی شدہ جو یہاں آتے ہیں۔ اس کے والد کی کریانے کی دکان ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب وہ میٹرک میں تھی تو اس کی ماں ہارٹ اٹیک سے مَرگئی۔ اس لڑکی کو بچپن سے ایک مرض لاحق تھا۔ وہ کبھی کبھی بے ہوش ہو جاتی اور اس کے ہاتھ پائوں نیلے ہو جاتے۔ ایک جاننے والے کیمسٹ نے اس کے بھائیوں کو مشورہ دیا کہ اِسے اسلام آباد لے جاکر چیک کروائیں۔ ڈاکٹروں نے ابتدائی معائنے کے بعد لڑکی کو کارڈیک وارڈ میں داخل کرلیا۔

بھائیوں کو تقریباً دولاکھ روپے جمع کرنے کو کہا۔ بڑے دونوں بھائیوں کے حالات تو شادی شدہ لوگوں جیسے مستند شدہ تھے۔ جہاں پیسہ تو ایک طرف، اپنے پُرانوں کا خیال رکھنے کیلئے چند لمحے دینا بھی مشکل ہوتے ہیں۔ لڑکی کے پاس روزانہ شام کو آنے والا نوجوان اس کا بڑا بھائی تھا اور اسلام آباد میں ایک انٹرنیشنل فلاحی تنظیم میں عام ملازم تھا۔ اس نے اپنے افسران سے کہہ کہلوا کر اپنی چھوٹی بہن کے علاج کیلئےبیت المال سے تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے کا وعدہ لے لیا۔ لڑکی کو داخل کرکے ٹیسٹ کروائے گئے۔

میڈیکل رپورٹس آنے تک دو تین دنوں کے درمیان لڑکی کے پاس صرف وہی دونوں یعنی نوعمر لڑکا یعنی چھوٹا بھائی اور نوجوان یعنی بڑا بھائی آتے جاتے اور رہتے رہے یا موبائل پر چند کالیں جو لڑکی نے اپنے عزیزو اقارب کو فکر نہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کیں۔ بس اس کے علاوہ اس کی طرف اور کوئی خاص سرگرمی نہ ہوئی۔ البتہ لڑکی اپنی ہمسائی بزرگ مریضہ اور اس کی لیڈی اٹینڈنٹ کے ساتھ خوب باتیں کرتی۔ لڑکی کی گفتگو کا مرکز اس کی ماں ہوتی۔ وہ اکثر کہتی مجھے میری ماں کی تلاش ہے، وہ مجھے کہاں مل سکتی ہے؟

ہمسائی بزرگ مریضہ کی لیڈی اٹینڈنٹ نے مرد ڈاکٹر کے جانے کے بعد حوصلہ کرکے لڑکی کو میڈیکل رپورٹ میں لکھی تلخ حقیقت کو آسان لفظوں میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنو لڑکی! تمہیں دل کا ایک ایسا مرض لاحق ہے جس کا علاج ڈاکٹر نہیں کرنا چاہتے۔ حالانکہ اگر مکمل علاج نہ کیا گیا تو بیماری دل کی ہے جو کسی وقت بھی جان لیوا ہوسکتی ہے اور اگر تمہارے دل کا علاج کردیا جائے تو تم بچوں کی پیدائش کے قابل نہیں رہو گی۔ لڑکی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیڈی اٹینڈنٹ نے اپنی بات پھر دہرائی کہ شاید اس نے سنا نہیں۔

لڑکی بالکل خاموش بیٹھی تھی اور بغیر پلکیں جھپکے سامنے بہت دور کہیں دیکھ رہی تھی۔ حالانکہ اس سے چند فٹ کے فاصلے پر کمرے کی دیوار تھی جس کے پار نہیں دیکھا جاسکتا مگر یوں محسوس ہورہا تھا کہ اس کی نگاہیں دیوار تو ایک طرف اس جہان کو بھی پار کرتی ہوئی کسی کو دیکھ رہی تھیں جو اس کی ماں ہی ہوسکتی تھی۔ عین اس وقت پہلی مرتبہ اس کے فون کی گھنٹی بجی جس کا اس نے کوئی نوٹس نہ لیا اور چپ چاپ اٹھ کر اپنی چیزیں اکٹھی کرنے لگی کیونکہ اسے ہسپتال سے فی الحال ڈسچارج کردیا گیا تھا۔

جاتے ہوئے لڑکی نے ہمسائی بزرگ مریضہ یا لیڈی اٹینڈنٹ سے اپنا پرانا سوال نہیں دہرایا کہ مجھے میری ماں کہاں مل سکتی ہے؟ وہ اُن کے پاس آئی، اس کا چہرہ جذبات سے خالی تھا، لڑکی نے انہیں ادب سے سلام کیا اور خدا حافظ کہہ کر چلی گئی۔ قدرت نے لڑکیوں کے چار روپ بنائے ہیں۔ ماں، بہن، بیوی اور بیٹی لیکن اگر غور کریں تو شاید ایک لڑکی اپنے اندر سب سے زیادہ ماں کا روپ رکھتی ہے۔

اسی لیے وہ چھوٹی سے بڑی ہوتی ہے۔ ہاتھوں پر مہندی کی آرزو کرتی ہے۔ جس دن اس کی ہتھیلی پر مہندی کھِلتی ہے تو اس کا انگ انگ دعا مانگتا ہے کہ یہ دن کبھی ختم نہ ہو اور اس کی مہندی کے رنگ نظر آتے رہیں کیونکہ رات تو اندھیری ہوتی ہے، اندھیرے میں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ذرا سوچئے! اس لڑکی کے پاس تو اس حسرت کی گنجائش بھی نہیں رہی۔ وہ ماں بننا چاہتی ہے لیکن اپنے بچوں کو بن ماں کے نہیں دیکھ سکتی۔ وہ جی سکتی ہے نہ مرسکتی ہے۔ اس کی ماں ہے نہ کوئی سہیلی، وہ اپنی چیخیں کس کو سنائے؟ اس کے پاس ماں والا دل تو ہے لیکن ماں بننے کیلئےاس کے دل کا مرض ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔

اسے اِس مرض کے ساتھ کون قبول کرے گا؟ ہوسکتا ہے کہیں بہتر علاج موجود ہو مگر وہ اس ملک کی اعلیٰ شہری نہیں ہے۔ اس کا علاج کیسے ہوگا؟ وہ ان لوگوں میں سے ہے جن کی تعداد تقریباً 80فیصد ہے، جو یہاں کے گھاس پھوس ہیں یا طاقتوروں کے نزدیک ادنیٰ اور غیرضروری ہیں۔ ہم اس لڑکی کو صحت نہیں دلوا سکتے، حوصلہ نہیں دے سکتے، شاید تعلق بھی نہیں لیکن اتنا تو کہہ سکتے ہیں کہ خدا کرے جب اس کے ہاتھوں پر مہندی کھِلے تو وہ روشن دن بہت لمبا ہو تاکہ اس کی مہندی کے رنگ اور خوشبو دیر تک جگمگاتے اور مہکتے رہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں