نیویارک(نمائندہ خصوصی) –امریکا کی معتبر ترین درسگاہ ہارورڈ یونیورسٹی نے بالآخر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں موجودہ وفاقی حکومت کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے کیلئے 500 ملین ڈالر کی خطیر رقم وقف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام یونیورسٹی اور حکومتی اداروں کے درمیان مہینوں سے جاری کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔
“ٹرمپ انتظامیہ کی دھمکی: فنڈنگ بند کرنے کا انتباہ”
رواں سال اپریل میں امریکی محکمہ تعلیم نے ہارورڈ پر سیاسی تعصب، غیر شفاف پالیسیوں اور مخصوص نظریاتی ایجنڈے کو فروغ دینے کا الزام لگایا تھا، اور متنبہ کیا تھا کہ اگر پالیسی میں اصلاح نہ کی گئی تو یونیورسٹی کو دی جانے والی 2.2 ارب ڈالر کی وفاقی امداد بند کر دی جائے گی۔
“دباؤ کے تحت مفاہمت؟”
ذرائع کے مطابق، ہارورڈ انتظامیہ نے سیاسی دباؤ اور مالی خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔ اگرچہ 500 ملین ڈالر کی ادائیگی کا اعلان کر دیا گیا ہے، تاہم معاہدے کی مالیاتی و قانونی تفصیلات پر بات چیت تاحال جاری ہے۔
“پسِ منظر: کولمبیا یونیورسٹی کی خفیہ ڈیل”
اس سے قبل کولمبیا یونیورسٹی نے بھی وفاقی فنڈنگ بچانے کیلئےایک خفیہ معاہدہ کیا تھا، جس پر تنقید کی گئی کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے اپنی خودمختاری سے دستبردار ہو رہے ہیں اور حکومتی نظریاتی ایجنڈے کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
“اکیڈمک حلقوں میں تشویش کی لہر”
ہارورڈ کے اس فیصلے پر اساتذہ، طلبہ تنظیموں اور دانشوروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ ایسے مالی معاہدےتحقیقی اداروں کی غیرجانبداری کو متاثر کر سکتے ہیں.اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہو سکتی ہےاور علمی آزادی کو سیاسی تابع بنا سکتے ہیں.
“ٹرمپ انتظامیہ کا نظریاتی دباؤ”
ٹرمپ حکومت عرصے سے امریکی جامعات پر نکتہ چینی کرتی آئی ہے، خاص طور پر ان اداروں پر جو “لبرل نظریات” کو فروغ دیتے ہیں۔ موجودہ پیش رفت کو حکومت کی تعلیمی اصلاحات کی مہم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد جامعات کو “مالیاتی جوابدہی” اور “نظریاتی توازن” کی طرف لانا ہے۔
“آئندہ کا منظرنامہ: مفاہمت یا مزاحمت؟”
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ہارورڈ جیسا مضبوط ادارہ بھی مالی دباؤ کے آگے جھک سکتا ہے تو یہ باقی تعلیمی اداروں کیلئے یا تو مثال بنے گا یا انتباہ ناممکن ہے کہ دیگر یونیورسٹیاں بھی آئندہ مہینوں میں حکومت کے ساتھ مفاہمت یا کھلی مزاحمت کا راستہ اختیار کریں۔

