ہتک عزت کے مقدمے میں ٹرمپ پر 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جرمانہ برقرار

نیویارک (اے ایف پی) — امریکی اپیل کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کیے گئے ہتک عزت کے 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر کے جرمانے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ مقدمہ مصنفہ اور ایلے میگزین کی سابق کالم نگار ای۔ جین کیرول نے دائر کیا تھا، جنہوں نے ٹرمپ پر 1990 کی دہائی میں جنسی زیادتی اور بعد ازاں بدنامی کا الزام لگایا تھا۔

مین ہیٹن کی وفاقی عدالت نے جنوری 2024 میں فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ کو کیرول کو مجموعی طور پر 8 کروڑ 33 لاکھ ڈالر ادا کرنے ہوں گے، جن میں 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر بطور تعزیری ہرجانہ، 73 لاکھ ڈالر نقصانات کے ازالے کے لیے اور 1 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ان کی شہرت بحالی کی مہم کے لیے شامل ہیں۔

اپیل کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ نے کسی مرحلے پر غلطی نہیں کی اور جیوری کی جانب سے دیے گئے نقصانات کے احکامات کیس کی سنگین نوعیت کے پیشِ نظر معقول تھے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ٹرمپ کی جانب سے کیرول کو بار بار بدنام کرنے سے باز رکھنے کے لیے بھاری مالی جرمانہ ضروری تھا۔

ای۔ جین کیرول نے کہا تھا کہ ٹرمپ نے 2019 میں ان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا، جب انہوں نے انہیں “میری ٹائپ کی نہیں ہیں” کہہ کر ہتک کی۔ جیوری کو ٹرمپ کا اکتوبر 2022 کا بیان بھی دکھایا گیا جس میں انہوں نے کیرول کی تصویر کو غلطی سے اپنی سابقہ اہلیہ مارلا میپلز سمجھ لیا تھا، جس سے ان کے دفاع پر سوالات اٹھے۔

واضح رہے کہ 2023 میں ایک اور وفاقی جیوری ٹرمپ کو 1996 میں کیرول کے ساتھ جنسی زیادتی اور 2022 میں انہیں “مکمل فراڈ” کہہ کر بدنام کرنے کا ذمہ دار قرار دے چکی ہے۔

ٹرمپ کو اس مقدمے میں عدالت میں موجود رہنے یا گواہی دینے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم انہوں نے اس کیس کو انتخابی مہم کے دوران سیاسی ہمدردی حاصل کرنے اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لیے استعمال کیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں