پاکستان کی سیاسی تاریخ بھی کیسی سیاہ تاریخ ہے، وزیراعظم کے مشیر، سینیٹر رانا ثنا اللہ دس سال تک پنجاب کے وزیر قانون رہے،جب وہ اقتدار سے الگ ہوئے تو ان کی گاڑی سے سیروں کے حساب سے ہیروئین برآمد ہو جاتی ہے اور انہیں لاہور کی کیمپ جیل میں رکھا جاتا ہے، قید اتنی سخت کہ فیملی کے علاوہ طویل عرصہ تک اس جرم کی وجہ سے کوئی انہیں مل بھی نہیں سکتا تھا،اپنی عمر کا ایک حصہ وہ عدالتوں کے چکر لگاتے رہے، مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ان پر ڈالی جانے والی ہیروئین کا کوئی وجود ہی نہیں تھا،وہ موجودہ حکومت کے سیاسی بزرجمہر ہیں،مگر آج تک اپنے ملزموں کو ڈھونڈنہیں سکے۔ ایک بڑی شخصیت سے شراب برآمد کی گئی جس کا بڑا چرچا ہوا،بعدازاں پتہ چلا وہ شراب نہیں شہد تھا،پھر حد ہو گئی ایک سابق وزیراعظم عمران خان کے پیشاپ سے کوکین اور شراب برآمد کر نے کی کوشش کی جاتی رہی،پتہ نہیں اس پر کون سی دفعات لاگو ہوتیں۔
ہماری سیاسی تاریخ پر نظر دوڑائیں توپاکستان میں چند پارٹیاں ہی کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں،ان میں دو پارٹیاں زیادہ نمایاں رہی ہیں,مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی،اب نمایاں ہونیوالی تیسری بڑی پارٹی پاکستان تحریک انصاف ہے جو ان دنوں اپنے بعض اقدامات کی وجہ سے پابندیوں کا شکارہے۔ مسلم لیگ کے بھی مختلف ادوار میں مختلف دھڑے سیاست میں سرگرم نظرآتے رہے، کبھی یہ مسلم لیگ جونیجو،کبھی ق لیگ بنی کبھی ن کبھی ض اور کئی بار تو یہ م ش اور پتہ نہیں کیا کیا بنی۔
یوں تو سیاسی پارٹیوں میں کئی چیزیں یکساں اور کئی مختلف نظر آتی ہیں لیکن ایک معاملہ ایک تجربہ ایسا ہے جس سے سبھی سیاسی پارٹیاں گزرتی رہی ہیں، وہ معاملہ یہ ہے کہ ان سب کو مختلف مواقع پر دبانے اور ان کا اثر و رسوخ کم یا ختم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور اس سلسلے میں مخالف سیاسی پارٹیاں بھی کردار ادا کرتی رہیں، یہ سلسلہ ایوب خان کے دور سے شروع ہو کر ابھی تک جاری و ساری ہے۔
پیپلز پارٹی روٹی،کپڑا اور مکان، جمہوری سوشلزم، مساوات پر مبنی معاشرے کا قیام جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، کسانوں اور ان کے مفادات کا تحفظ جیسے نظریات لے کر عوام کے سامنے آئی تھی، ان نظریات پر عمل ہو سکا یا نہیں یہ الگ بات ہے لیکن یہ واضح ہے کہ اپنے منشور کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں پیپلز پارٹی کو شدید مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا اگر کسی کو بُرا نہ لگے تو میں یہاں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کا حوالہ دینا چاہوں گا جس نے 1970ء کے انتخابات میں اکثریت حاصل کر لی تھی لیکن اقتدار میں اسے اس کا حصہ نہ دیا گیا اور دبانے کی کوشش کی گئی،نتیجہ ایک المناک سانحے کی صورت میں سامنے آیا، اس کے بعد 1977ء کے انتخابات آئے تو تقریباً ویسا ہی معاملہ ہوا جب انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا اور احتجاج کر کے پی پی پی کو اقتدار سے محروم کیا گیا۔کہا جاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات ختم کرنے پر سمجھوتہ ہو چکا تھالیکن پھر مارشل لا لگا دیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دیئے جانے کے بعد ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی لیکن ضیاء الحق کے مارشل لا ء کی وجہ سے بھٹو کے متعدد قریبی ساتھی ان کی بیٹی کا ساتھ چھوڑ گئے۔ ممتاز بھٹو ڈاکٹر مبشر حسن عبدالحفیظ پیرزادہ غلام مصطفی جتوئی، غلام مصطفی کھر اور کئی دوسروں نے پیپلز پارٹی سے اپنی راہیں جدا کر لیں حتیٰ کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو ملک سے فرار ہو کر دوسرے ممالک میں پناہ لینا پڑی۔جنرل ضیا الحق کے ایک حادثے کا شکار ہونے کے بعد نئے عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تو اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) بنا کر پیپلز پارٹی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہ ہو سکی۔ عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت تو بن گئی لیکن پیپلز پارٹی کے مخالفین کو کسی پل چین نہیں آ رہا تھاچنانچہ حکومت قائم ہوئے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی،جو ناکام ہو گئی۔ بالآخر آئین کے آرٹیکل 58 2B کے تحت پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔
1993ء میں ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں مرکز میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی حکومت تو بن گئی لیکن یہ ٹرم بھی پوری نہ ہونے دی گئی۔ بے نظیر بھٹو کے اپنے منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے بے نظیر کی منتخب حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد آنے والے مسلم لیگ (ن) کے دور (1997-99ء) میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو جلا وطنی اختیار کرنا پڑی۔ 1999ء میں پرویز مشرف نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیا تو کہا کہ وہ (بے نظیر بھٹو اور نواز شریف) اب واپس نہیں آئیں گے لیکن پھر حالات اور وقت نے ایسا پلٹا کھایا کہ ان کو واپس آنے دیا گیاتاہم 27دسمبر 2007ء کو بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں شہیدکر دیا گیا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت تو قائم ہو گئی لیکن کچھ تقاضے پورے کرنے کے سلسلے میں ان پر مسلسل دباؤ رہا، گزشتہ ادوار میں بنائی گئی کچھ جائیدادوں کے معاملات بھی پیپلز پارٹی کی حکومت کے گلے کی پھانس بنے رہے،کچھ بے نامی بینک کھاتوں کے معاملات تو اب تک چلتے رہے ہیں اس پارٹی نے 11 سال آمریت کا سامنا کیا حتیٰ کہ بھٹو کو پھانسی تک دے دی گئی،ان کی بیوی اور بیٹی کو پابند ِ سلاسل کیا گیا لیکن پیپلز پارٹی ختم نہ کی جا سکی۔
مسلم لیگ(ن) کی کہانی اس سے مختلف نہیں ہے اس کوبھی جتنا زور زبردستی کے ساتھ دبانے کی کوشش کی جا تی رہی،اتنا ہی یہ پارٹی اُبھر کر سامنے آ تی رہی، پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی و بیروزگاری اور کچھ دوسرے عوامل کی وجہ سے یہ پارٹی اس وقت بھی عوامی سطح پر تنقید کی زد میں ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کے دورِ حکومت میں مہنگائی کے ہاتھوں پریشان تھے لیکن اس دور میں تو مہنگائی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔یہ مسائل یقینا موجود ہیں لیکن اصل کہانی وہی ہے کہ پیپلز پارٹی کی طرح نون لیگ کا راستہ روکنے کی بھی متعدد بار کوشش کی جا چکی ہے،اب تحریک انصاف شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ جب بھی کسی پارٹی کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ پہلے سے زیادہ اُبھر کر سامنے آ جاتی ہے، پیپلز پارٹی کا تو یہ نعرہ بن گیا تھا کہ تم کتنے بھٹو مارو گے ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔ تمام تر رکاوٹوں اور مزاحمتوں کے باوجود سیاسی پارٹیاں اپنا وجود برقرار رکھتی ہیں،مگر ایک اور بات بھی بالکل واضح ہے کہ سیاسی جماعتوں اور ان کے راہنماؤں کو اب بھی ہوش نہیں آئی۔

