پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے سہ فریقی اور ایشیاء کپ ٹورنامنٹ کے لئے جس17رکنی ٹیم کا اعلان کیا تھا وہ اِن دِنوں دبئی میں پڑائو ڈال کر پریکٹس میں مصروف ہے۔ سہ فریقی ٹی20 سیریز29 اگست سے شروع ہو گی۔ دوسری دو ٹیموں میں افغانستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس سیریز کے اختتام پر ٹی20 ایشیاء کپ شروع ہو گا جو بھارت کی میزبانی میں ہے،بھارت کی طرف سے ٹیم کا اعلان کر دیا گیا اور کئی خبروں کے بعد اب یہ اطلاع ملی ہے کہ مودی حکومت نے ٹیم کو پاکستان کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔یوں یہ ٹورنامنٹ دلچسپی کا باعث بن گیا ہے۔بھارت اور پاکستان کی ٹیمیں ایک ہی گروپ میں ہیں اِس لئے ماہرین کا خیال ہے کہ اِن کا ٹاکرا ایک سے زیادہ مرتبہ ممکن ہے۔
ٹیم ہماری ہے اور ہم اس کے لئے دُعا گو ہیں کہ کامیاب بھی ہو کہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے اور نوجوان ہی مستقبل کا اثاثہ ہوتے ہیں،ہمارے ملک میں روایت کے مطابق ہی ٹیم سلیکشن ہوئی اور اسی طرح تنقید بھی ہو رہی ہے جس سے ایک حد تک میں بھی متفق ہوں،ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سلیکشن کے نقائص بھی نکالے جا رہے ہیں،اصل اعتراض یہ ہے کہ ٹیم میں کوئی ایک بھی سینئر کھلاڑی نہیں اور نوجوانوں کو تجربے کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔اعتراض یہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا ہونا بہتر ہوتا، اِس سلسلے میں بابر اعظم اور رضوان کو نظر انداز کرنے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
تنقید مہذب اور تند بھی ہے، جہاں تک میرا سوال ہے تو میںایک عرصہ سے کرکٹ کے عروج وزوال کا چشم دید ہوں کہ بچپن سے ہی اس کھیل میں دلچسپی برقرارہے،اس لئے میں نے بڑے عروج و زوال،جھگڑے اور سازشیں بھی دیکھی ہیں اور اسی حوالے سے کراچی،لاہور سمیت جملہ علاقوں کی رسہ کشی بھی دیکھ اور سمجھ رکھی ہے، جن حضرات نے ٹیم کا چنائو کیا ہے،وہ بہت رعب اور زور سے دفاع کر رہے ہیں حتیٰ کہ نئے ہیڈ کوچ کو بھی بولنے نہیں دیا اور ان سے بھی یہ کہلوا لیا کہ بابر اعظم کو بگ بیش لیگ سے خود کو اہل ثابت کرنا چاہئے ، ادھر اس موقع بابر اعظم اور رضوان کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ہی سنٹرل کنٹریکٹ میں ان کی تنزلی بھی کر دی گئی اور دونوں حضرات اے سے بی میں آ گئے (یہ بھی غنیمت کہ ایسا ہوا)
جو حضرات یہ کالم پڑھتے ہیں، ان کو یاد ہو گا کہ میں نے یہ عرض کیا تھا کہ ہمارا ملک وہ واحد ہے جہاں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے زیادہ ان کے خلاف سازش کی جاتی ہے، اِس سلسلے میں، میں نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ ہاکی کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد اب کرکٹ کو بھی ویسا بنایا جا رہا ہے۔
ہم سب کو یاد ہے کہ حالیہ کرکٹ کے دوران بورڈ کے سربراہوں کی تبدیلی ہوتی رہی اور ہر ایک نے اپنی پسند کا خیال رکھا، کھلاڑیوں کا مستقبل خراب کرنے کا سلسلہ بھی کچھ عرصہ قبل شروع کیا گیا،جب ہمارے مہربان سابق کپتان وقار یونس مدارالمہام تھے تو غیر ملکی کوچ کے ساتھ مل کر انہوں نے محمد عامر اور عمر اکمل کا دھڑن تختہ کیا،محمد عامر تو قومی کرکٹ سے دور ہو کر اپنی عزت اور کھیل بچا کر الگ ہو گیا اور اب وہ لیگز کھیل کر خود کو منوا اور کما رہا ہے جبکہ عمر اکمل سازش کے ساتھ ساتھ اپنی کم فہمی اور بچپنے کی وجہ سے باہر ہی ہو گیا اور گذشتہ پی ایس ایل میں نظر ہی نہ آیا۔
اب وقار یونس کی جگہ لاہور قلندر والے محبوب کوچ عاقب جاوید نے لے لی ہے اور وہ فٹنس اور پرفارمنس کا آسرا لے کر بابراعظم اور رضوان جیسے سینئر کھلاڑیوں کو کرکٹ ہی سے نکالنے پر تُل گئے ہیں اور بڑے دھڑلے سے کہہ رہے ہیں جو پُرفارم کرے گا وہ رہے گا، میں زیادہ دور نہیں جاتا،ان سے صرف ایک سوال ہے کہ اب جو ٹی20 کے کپتان سلمان اکبر ہیں اُن کی حالیہ پرفارمنس، بیٹنگ، فیلڈنگ اور بائولنگ میں کیا تھی، کیا انہوں نے بے وقت اپنی وکٹ ایک سے زیادہ بار نہیں گنوائی اور کیا ان سے سلپ میں کیچ نہیں ڈراپ ہوئے، اگر ایسا ہے تو پھر ان کو کپتان برقرار رکھنا اور لاڈ پیار کرنا چہ معنی دارو، میں منتخب ٹیم پر تنقید سے گریز کرتا ہوں کہ ملک کی عزت ان کے ہاتھ میں ہے لیکن جو ماہر عاقب جاوید کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کے دلائل میں تو وزن ہے، رمیز راجہ نے بابر اعظم کی بڑے ماہرانہ انداز میں وکالت کی ہے،عاقب جاوید سے یہ سوال تو بنتا ہے کہ ان کا اپنا کرکٹ کیریئر کتنا اور مبلغ پرفارمنس کتنی تھی۔ کیا وہ اب اپنی کرکٹ جلد چھوٹ جانے کے باعث لاہور قلندر کا آسرا لے کر سینئر کھلاڑیوں کو بھی عمر اکمل بنانے پر نہیں تُل چکے۔
ماہرین کرکٹ نے سچ کہا کہ یہ کھیل ہے، بُرا وقت(بیڈ پیچ) کسی پر بھی آ سکتا ہے، ایسا بھارت کے ریکارڈ ہولڈر کوہلی کے ساتھ بھی ہوا، ان کے ساتھ تو ایسا سلوک نہ کیا گیا اور پھر اسی کوہلی نے دوبارہ پرفارم کیا۔ بابر اعظم عالمی ریکارڈ یافتہ کھلاڑی ہے اس نے متعدد ریکارڈ توڑے اور بنائے اس کی کرکٹ ابھی بہت ہے اور اس سے مزید ریکارڈ بنانے کی توقع کی جا سکتی ہے تاہم میںنے اس پر پہلے اعتراض کے بعد ہی یہ عرض کیا تھا کہ وہ نفسیاتی دبائو کا شکار ہو گیا۔ اگر اُسے حوصلہ نہ دیا گیا اور اس کی کردار کشی کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو ہم ایک ایسے کھلاڑی سے محروم ہو جائیں گے جو ملک کے لئے اور بھی ریکارڈ بنا سکتا ہے، افسوس کہ عاقب جاوید نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی،خدشہ ہے کہ ہم بابر اعظم سے محروم نہ ہو جائیںکہ ایسا کھلاڑی مدتوں بعد بنتا ہے،ہم تو ابھی تک جاوید میاں داد ،ظہیر عباس اور سعید انور جیسے کھلاڑی نہیں ڈھونڈ سکے،ویسے باسط علی کا مشورہ بھی تھا کہ بابر شادی کر لے،میرا خیال تو اب بھی یہ ہے کہ بابر کو نفسیاتی تھیراپی کی بھی ضرورت ہے نوجوان ٹیم کے لئے دُعا گو ہوں تاہم اپنے محسن نقوی سے توقع کرتا ہوں کہ وہ خود توجہ دیں اور عاقب جاوید محترم کو لاہور قلندر ہی رہنے دیں۔

