”ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں“ آپ نے بھی کر دی!

وزیراعلیٰ مریم نوازشریف متحرک ہیں، وہ ہر روز کسی نہ کسی شعبہ کا اجلاس بلا کر کارکردگی کا جائزہ لیتی اور نئے نئے منصوبے بنو اکر عملدرآمد کیلئےکمربستہ ہو جاتی ہیں، ان کی طرف سے لاہور کیلئےبھی ایک بڑے پیکیج کا اعلان کیا گیا اور اس پر کام بھی تیزی سے جاری، متعدد علاقوں میں 56 قطرسے بھی بڑے سیوریج کی تنصیب ہو رہی ہے، اسی طرح دیگر ترقیاتی کام بھی جاری ہیں، ان کو تجاوزات کے خلاف سخت مہم میں بڑی شہرت ملی اور اس امر پر بھی داد وصول کی کہ مختلف امور میں کوتاہیوں کی نشان دہی بھی کرتی ہیں، حتیٰ کہ ان کا یہ اعتراف بھی زبردست تحسین کا باعث بنا کہ ابھی تک نچلی سطح پر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا معترض حضرات اکثر یہ کہتے ہیں کہ تاحال وزیراعلیٰ کی ہدایت پر اربوں روپے کے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے بھی شروع ہیں لیکن یہ فنڈز کہاں سے آ رہے ہیں یہ تو بتایا نہیں جاتا، اس سلسلے میں ایک غیر رسمی ملاقات میں، میں نے صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن سے دریافت کیا کہ یہ رقوم کہاں سے لی جا رہی ہیں کہ بجٹ تو مختص ہوتا ہے اور یہاں اکثر منصوبے ترقیاتی بجٹ سے ماورا ہیں تو انہوں نے بتایا کہ فنڈز کا کوئی مسئلہ نہیں۔ پنجاب کے اپنے فنڈز بہت ہیں اور پھر آئندہ بجٹ کے لئے این۔ ایف۔ سی ایوارڈ بھی تو آئے گا۔یوں یہ ابہام بھی دور ہوا اور یہ توقع بھی ہوگئی کہ نئے سال کے بجٹ میں صوبے کی حد تک عوام پر بے جا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا اور ترقیاتی بجٹ بھی پہلے سے بڑا اور پورے صوبے پر محیط ہوگا۔

میں نے ان سطور میں جہاں صوبائی ترقیاتی اور بہترمنصوبوں کی تعریف کی وہاں نقائص کی نشاندہی بھی کرتا رہا ہوں،افسوس تو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ یہ سب جانتے ہوئے بھی زمینی سطح پر حقائق کے مطابق عمل نہیں کرا سکیں، جس کی بنیادی وجہ منصوبوں اور ان پر ہونے والے کاموں کے علاوہ عوامی بہبود کے مقامی اور ضلعی اداروں کی نگرانی اور ان پر گرفت نہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے گزشتہ روز ایک اجلاس میں آٹے کی قیمتوں میں کمی کے باوجود روٹی کی قیمت کم نہ ہونے کانوٹس لیا اور ہدائت کی ہے کہ آٹے کے نرخوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچنا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرغی کے گوشت کی بڑھتی قیمت کابھی ذکر کیا اور ایک اچھی بات کی کہ غریب آدمی ہفتے میں ایک روز مرغی کا گوشت کھا لیتا تھا، اسے اس سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس اجلاس میں جس خلوص سے بات کی وہ تعریف کے قابل ہے لیکن مجھے لالہ منیر نیازی یاد آ گئے جنہوں نے کہا تھا:میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

میری گزارش یہ ہے کہ احساس ذمہ داری رکھنے والی وزیراعلیٰ نے بھی دیر کر دی ہے اور پھر صرف روٹی کی بات کی ہے، حالانکہ عوام، بلکہ خود ان کی جماعت کے معتبر اراکین عرصہ سے یہ بتاتے چلے آ رہے ہیں کہ آٹے کے نرخ آدھے سے بھی کم ہو گئے، نہ تو بازار میں روٹی اور نان کی قیمت کم ہوئی اور نہ ہی کسی بیکری والی فیکٹری نے ڈبل روٹی، بسکٹ اور کیک وغیرہ کے نرخوں میں کمی کی، یہ سب اشیاء آج بھی انہی نرخوں پر بک رہی ہیں جو مہنگے آٹے کی دہائی دے کر مقرر کی گئی تھیں۔ وزیراعلیٰ صاحبہ آپ نے مرغی کے گوشت کے نرخوں کا اب نوٹس لیا ہے، اب تک تو پولٹری مافیا لوگوں کی جیبوں سے کئی گنا زیادہ رقوم نکلوا کر اپنی تجوریاں بھر چکا، لوگ احتجاج تو نہیں کرتے لیکن دل تو جلاتے ہیں اور یہ جلے دل آپ کی محبت میں کمی کا بھی شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

محترمہ وزیراعلیٰ نے اشیاء ضرورت اور خوردنی (سبزی +فروٹ+دال وغیرہ) کی مہنگائی کی مانیٹرنگ پر زور دیاہے ان کے مطابق شاید اس معاملے میں کوئی کمی رہ گئی۔ ایسا کوئی مسئلہ نہیں، یہ مانیٹرنگ ٹیموں والے بھی بہت متحرک ہیں اور ان کے ہاتھوں اللہ کی مخلوق بہت تنگ ہے، آپ کے شعبہ مانیٹرنگ کے انسپکٹرخود کو مجسٹریٹ کہلاتے اور چھوٹے دکانداروں کے چالان کرکے جرمانے کرتے ہیں، ایسا ہی ایک بہادر انسپکٹر مصطفےٰ ٹاؤن وحدت روڈ میں گھومتا ہے جو باقاعدہ ڈیل ڈول کے حوالے سے مبینہ طور پر غنڈہ گردی کا مرتکب ہوتا اور چھوٹے چھوٹے پرچون فروشوں کو دھکے دے کر گاڑی میں بٹھاتا اور تھانے لے جاتا ہے جہاں ایف آئی آر کا رعب دے کر 8ہزار روپے تک جرمانہ وصول کرکے رسید نہیں دیتا، گزشتہ روز بھی ایسا ہوا اور اس ”بہادر“ نے متعدد پرچون فروشوں کو گھیرا اور ان کو جرمانے کئے،منت سماجت پر رقم کم توکی لیکن مطلوبہ رقم کی رسید نہیں دی اس سے پڑتال کرکے تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ رقم اس کی جیب میں چلی گئی یہ حضرات نہ تو تھوک فروشوں سے پوچھ گچھ کرتے نہ ہی بکرے اور گائے کے گوشت والوں اور دودھ فروشوں سے کوئی تعرض کرتے ہیں بکرے کا گوشت 27سو روپے اور گائے کا 16سو روپے فی کلو بک رہا ہے، دودھ فروشوں نے اپنے نرخ مقررکر رکھے ہیں اور یہ دودھ اور دہی معیاری بھی نہیں۔

میں نے اپنے ایک کالم میں ”سہیلی بوجھ پہیلی“ کے عنوان سے ایک سکینڈل کا ذکر کیا تھا، اس میں مبینہ بدکردار خواتین اور علاقہ پولیس کے اہل کار شامل ہیں، یہ خواتین نوجوانوں کو بلیک میل کرکے رقوم مانگتی ہیں اور نہ ملنے پر پولیس کے اے ایس آئی صاحب 354کا پرچہ دے کر ان کو پکڑ لیتے ہیں، ان کو ضمانت کرانا پڑتی ہے جس کے بعد پرچے (ایف آئی آر) کے اخراج کے لئے سودے بازی کی جاتی ہے، بات لاکھوں سے شروع کرکے ہزاروں تک آجاتی ہے اس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ میں حکومتی خیر خواہ ہوں لیکن یہ خیر خواہی عوامی سہولتوں سے مشروط ہے، اگر رشوت خوری، کام چوری اور غنڈہ گردی کو روکا جائے گا تو ہم یقینا حمائت کریں گے دوسری صورت میں عوامی شکایت کا ذکر لازم ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں