ہولی ، رنگوں کا تہوار

ہندوستان کے لاتعداد تہواروں میں ہولی ا یک بھر پو رعوا می تہوار ہے، ہولی کے دن کوبرائی پر اچھائی کی فتح کے دن پر بھی منایا جاتا ہے۔کیونکہ ملک کے ہر دوسرے تہواروں کی طرح ہولی کا پس منظر بھی مشہور داستانوں سے وابستہ ہے۔ جس کی رسومات کے پیچھے تاریخ کی مختلف روایات ہیں۔ جیسے کہ ایک روایت کے مطابق ہولی کا تہوار ایک نیک دل عادل باشاہ پرہلاد کے آگ کے دہکتے ہوئے الاؤ میں سے زندہ بچ جانے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوارہندوستان میں موسم سرما کے اختتام کی نشاندہی کرتا ہے اور موسم بہار کے موسم کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ اچھی فصل کے لیے شکر گزاری کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔

اپنی بھر پوررنگا رنگی کے حوالے سے ہولی تمام ہندو تہواروں میں سب سے زیادہ متحرک ہے۔ جس کی شروعات برصغیر سے ہوئی، جو زیادہ تر بھارت اور نیپال میں قومی سطح پر منایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایشیا کے دیگر حصوں اور مغربی دنیا کے مختلف حصوں میں منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کے دن ، لوگ رنگوں سے کھیلتے ہیں اس لئےاسے رنگوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد بھی کئی سال بعد تک بعض شہروں میں ہندوں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی ہولی کا تہوار منا یا جاتا رہا۔

ملتان کے بہت سے گاؤں اور دیہات آج بھی شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے موقعوں پر ایک دوسرے پر رنگ پھینکنے کا رواج ہے۔ ہولی کے رنگ بھی علامتی ہیں۔ لال کا مطلب محبت اور زرخیزی ہے، ہرا رنگ فطرت کی نمائندگی کرتا ہے، پیلا خوراک کی علامت ہے،جب کہ نیلا وشنو دیوتا سے مناسبت کی بنا پر مذہب اور روحانیت کا نمائندہ ہے۔

ہندوستانی قدیم معاشروں کی ابتدائی تشکیل میں بیشک مذاہب کا کلیدی کردار رہا ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ جہاں صنعت و حرفت میں تبدیلی ترقی نمایاں ہوئی ہے وہاں مذہبی تہواروں اور ثقافتی تہواروں کے درمیان ایک واضح بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

اس تبدیلی سے کم از کم ایک بات واضح ہو چکی ہے کہ مذہب اور عقائد کے جذباتی ا ظہار عام طور پر خوف تشدد اور سزا پر مبنی ہیں جوانسانی خوشی کی بنیاد نہیں بن سکتے، اور نہ ہی انہیں انسانی خوشیوں سےجوڑا جا سکتا، لیکن اس کے مقابلے میں ہولی کا تہوار انسانی رشتوں میں پیار محبت کے آپسی بندھن کے اظہار مل جل کر خوشیاں منانے کا تہوار ہے۔

لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ان کا استقبال کرتے ہیں اورنئی خوشیوں کو ساتھ لے کر تعلقات کی نئی شروعات کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تہواردوسروں سے ملنے، کھیلنے اور ہنسنے، معاف کرنے اور معافی مانگنے اور ٹوٹے رشتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی علامت بن جاتاہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں