کیپٹن عثمان اور بابر حیات تارڑ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے بہترین افسر ، دونوں کا ماضی اور حال،کام اور نام ایک سے بڑھ کر ایک، کیپٹن عثمان گریڈ بیس اور بابر تارڑ گریڈ بائیس میں ہیں، انہوں نے سروس کے دوران ایسے ایسے اعلیٰ کام کیے جنکی مثالیں دی جاتی ہیں ، ان کی شہرت ، بہت اچھی ، کام، بہترین ،اور قانون قاعدے پر عمل درآمد نے انہیں دوسروں سے ممتاز کر دیا بلکہ ہیرا بنا دیا مگر ،ہیرے دا کوئی مل نہ پاوے ،کھوٹے سکے چلدے ویکھے ،کے مصداق حکمرانوں کے کاسہ لیس نہ بن سکے صرف اپنی محنت اور کام دوستی کی وجہ سے گریڈوں اور عہدوں سے بالا ہو گئے ، اس لئے کیپٹن عثمان کو کئی سالوں سے گریڈ اکیس اور اچھی پوسٹنگ سے دور کر دیا گیا جبکہ بابر حیات تارڑ کو سرے سے پوسٹنگ ہی نہیں دی جا رہی، کیپٹن عثمان نے اپنا مقدمہ پاکستانی عدالت اور بابر حیات تارڑ نے اللہ کی عدالت میں دائر کر رکھا ہے۔
کیپٹن عثمان کے مقدمہ میں عدالت نے انتہائی سخت ریمارکس دیے ہیں اور بابر تارڑ کے مقدمہ میں عدالت نے ابھی تک حکومت کو ڈھیل دی ہوئی ہے کہ شائد وہ سمجھ جائے ، کیپٹن عثمان کیس کی سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سربمہرریکارڈ عدالت میں پیش کیا ،جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیل بندریکارڈ کاہرصفحہ چییخ چیخ کر کہانی بیان کررہاہے،عدالت نے سوال کیا کہ سروس ریکارڈ گڈ، ایکسیلینٹ اور آؤٹ اسٹینڈنگ ہونے کے باوجود پروموشن بورڈ میں انہیں نمبر کم کیوں دیے گئے؟ وکیل حیدر رسول مرزانےدلائل دئیے کہ سینٹرل سلیکشن بورڈنے کسی قانونی جواز کےبغیر کیپٹن عثمان کو ترقی سے نظر انداز کردیا ہے اس لئے عدالت درخواست گزار کی گریڈ بیس سے اکیس کی ترقی کامعاملہ زیر غور لانے کا حکم دے جبکہ ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد باجوہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ترقی کیلئےافسر کے کام، کریڈیبیلیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کو بھی بنیادی معیار سمجھا جاتا ہے۔
حیرت ہے اگر ڈپٹی اٹارنی جنرل کے بیان کردہ اصولوں کو حقیقی معنوں میں لاگو کیا جائے تو ایسے بے شمار افسر، جو آج گریڈ 21 اور 22 تک پہنچ چکے ہیں، شاید کبھی ترقی حاصل نہ کر پاتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں ترقی دی گئی اور وہ اعلیٰ عہدوں تک پہنچے، دوسری جانب کیپٹن عثمان اور بابر تارڑ جیسے قابل، ایماندار اور محنتی افسروں کو سیاسی پریشر کی وجہ سے ترقی اور پوسٹنگ نہ دی گئی ،سچ تو یہ ہے کہ ایسے فیصلوں نے ادارہ جاتی میرٹ اور سلیکشن بورڈ کی بصیرت، اہلیت اور فیصلہ سازی پر بھی بڑے سوالیہ نشان چھوڑ دئیے ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب میرٹ کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو فیصلے وقتی طور پر نافذ تو ہو جاتے ہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی فیصلے اداروں کی ساکھ پر بوجھ بن جاتے ہیں،ایسا ہی کچھ دونوں افسروں کے ساتھ وفاقی حکومت کر رہی ہے۔
ایک موثر بیوروکریسی کسی بھی ریاست کی طاقت کا اہم ستون ہوتی ہے، دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سرکاری افسران کے کیریئر سےمتعلق فیصلے واضح اصولوں کے تحت اور مقررہ وقت پر کئے جاتے ہیں،اس کی وجہ یہ ہے کہ انتظامی استحکام براہ راست حکومتی کارکردگی سے جڑا ہوتا ہے، اگر افسر خود غیر یقینی کا شکار ہوں تو وہ عوامی مسائل کے حل پر پوری توجہ نہیں دے سکتے،پاکستان میں بدقسمتی سے بیوروکریسی کا نظام کئی دہائیوں سے اسی نوعیت کےمسائل کا شکار ہے، ترقیوں میں تاخیر، تبادلوں میں سیاسی اثر و رسوخ اور فیصلوں میں غیر شفافیت ایسے عوامل ہیں جو کارکردگی کو متاثر کرتے ہیں، پاکستان کے سرکاری نظم و نسق میں ترقی، تبادلے اور تقرریاں ہمیشہ سے ایک حساس اور اہم معاملہ رہی ہیں، کسی بھی افسر کی پیشہ ورانہ زندگی میں ترقی صرف ایک انتظامی قدم نہیں بلکہ اس کی محنت، تجربے اور کارکردگی کا اعتراف بھی سمجھی جاتی ہے لیکن جب یہی عمل غیر ضروری تاخیر، ابہام اور انتظامی سستی کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات صرف متعلقہ افسر تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے حکومتی نظام پر پڑتے ہیں۔
دور کیا جانا ابھی حال ہی میں ، پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس اور آفس مینجمنٹ گروپ کے گریڈ 18 کے 266 افسران کی گریڈ 19 میں ترقی کیلئےبورڈ ہوا جس کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کی جا رہی ہے جو سمجھ سے بالا تر ہے ، 18 فروری کو اس میں ترقی پانے والوں کی تفصیلات کا اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا،جس سے لگتا تھا کہ ایک اہم انتظامی مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور اب صرف رسمی نوٹیفکیشن جاری ہونا باقی ہے، لیکن ایک ماہ گزر جانے کے باوجود جب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہوا تو اس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا،سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ترقی کی منظوری دی جا چکی ہے تو پھر نوٹیفکیشن جاری کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ سرکاری نظام میں بعض اوقات فائلوں کی گردش، قواعد و ضوابط کی تکمیل میں وقت لگتا ہے، مگر ایک ماہ کی تاخیر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ معاملہ صرف انتظامی سستی تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ ان افسروں کی انٹیلی جنس رپورٹس پر مزید کام کیا جا رہا ہے، اگر یہ بات درست ہے تو پھر ایک بنیادی سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا انٹیلی جنس رپورٹس ترقی کی منظوری سے پہلے نہیں دیکھی جاتیں؟ ڈیپارٹمنٹل سلیکشن بورڈ ایک باقاعدہ فورم ہے جہاں افسروں کا سروس ریکارڈ، کارکردگی رپورٹس اور دیگر متعلقہ معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے، اگر اس مرحلے کے بعد بھی رپورٹس پر کام جاری ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو بورڈ کے فیصلے مکمل معلومات کے بغیر کئے گئے یا پھر منظوری کے بعد کوئی حکومتی یا سیاسی پریشر آ رہا ہے؟
پاکستان کے سرکاری نظام میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو مرکزی حیثیت حاصل ہے،یہی ادارہ وفاقی بیوروکریسی کے انتظامی امور کو منظم کرتا ہے اور اس وقت جب ایک قابل اور بہترین افسر بیرسٹر نبیل اعوان اس کے سیکرٹری ہوں تو نفاذ میں تاخیر پورے نظام کیلئےتشویش کا باعث بنتا ہے کیونکہ بیوروکریسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ فیصلے واضح، بروقت اور شفاف ہوں ۔
اس معاملے کا ایک انسانی پہلو بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، یہ 266 افسران صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے کئی سال سرکاری ملازمت میں گزارے ہیں،بیوروکریسی کے اندر اعتماد اور پیشہ ورانہ ماحول قائم رکھنے کیلئےیہ بھی ضروری ہے کہ ان افسروں کو واضح معلومات فراہم کی جائیں، اگر کسی وجہ سے نوٹیفکیشن میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس کی وجہ بتانا بھی ادارہ جاتی ذمہ داری ہے، خاموشی اور ابہام ہمیشہ شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں جو درحقیقت سرکاری نظام کی کئی کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے، امید ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جلد ہی اس تعطل کو ختم کریگا کیونکہ کسی بھی نظام کی اصل طاقت اس کے اصولوں اور ان کے بروقت نفاذ میں ہوتی ہے اور جب اصول کمزور پڑ جائیں تو نظام خود بخود کمزور ہو جاتا ہے۔

