یادوں کے دریچے میں ایک چراغ

یہ 1998 کی بات ہے، جب مجھے محترمہ بے نظیر بھٹو کو لاہور پریس کلب کے “میٹ دی پریس” پروگرام میں مدعو کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہ دن آج بھی ذہن میں تازہ ہے—ان کا پُر وقار انداز، پُراعتماد لہجہ، اور وہ مخصوص مسکراہٹ، جو ہمیشہ ایک خاص کشش رکھتی تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب بے نظیر بھٹو اپوزیشن لیڈر تھیں۔ نومبر 1996 میں اُن کی حکومت کو اُنہی کے منتخب کردہ صدر فاروق لغاری نے آرٹیکل 58 (2) B کے تحت برطرف کردیا تھا اور اسمبلیاں تحلیل کر دی تھیں۔ نواز شریف کو دو تہائی اکثریت دلوا ئی گئی تھی اور بے نظیر بھٹو پر کرپشن کے مقدمات چل رہے تھے۔

محترمہ سے سوالات کرنے کے لیے لاہور پریس کلب کے پینل میں انجم رشید، شاہد ملک، اور سعید آسی شامل تھے (اگر یاداشت میں کوئی بھول چوک ہوجائے تو معذرت)۔ اس کے بعد فلور اوپن ہوا اور سبھی نے مس بھٹو سے ہلکے اور سخت سوالات کیے، جن کا انھوں نے انتہائی تحمل سے جواب دیا۔

کچھ صحافی، خاص طور پر وہ جو اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے قریب سمجھے جاتے تھے،”پلانٹڈ” سوالات کے ساتھ آئے تھے۔ ایک دو سوالات تو قابلِ فہم تھے، مگر مجموعی طور پر مجھے لگا کہ ماحول کو پراگندہ کرنے کی ایک کوشش ہو رہی ہے۔

یہ دیکھ کر میں نے براہِ راست مداخلت کی، کیونکہ مجھے دوسرے دھڑے کے لوگوں سے بھی پیغامات مل رہے تھے کہ “میٹ دی پریس” پروگرام کو خراب کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ جب میں نے ایسے سوالات کو محدود کرنے کی کوشش کی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے مسکرا کر کہا کہ وہ ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی ذرا دیر سے پہنچے تھے، اور انھیں کوئی نشست نہیں مل رہی تھی۔ میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے پریس کلب کے شوکت نے فوراً نثار عثمانی ہال میں ان کے لیے اضافی نشست لگوائی۔

محترمہ اس روز مرحوم احمد مختار کے ساتھ تشریف لائی تھیں، اور ان کی لاہور پریس کلب آمد میں میری مدد فیصل صالح حیات نے کی تھی۔ کلب کی سیاست میں دوست اور مخالف دونوں ہی ہوتے ہیں، مگر فیصل نے ساتھ دیا۔

مجھے ہمیشہ کچھ نہ کچھ جدت دکھانے کا شوق رہا ہا۔ اُس دن میں نے مہمان (یعنی مس بھٹو) کے سامنے کوئی میز نہیں رکھی تاکہ وہ کسی اوٹ کا سہارا نہ لے سکیں۔ میں نے یہ طریقہ امریکی کی ٹی وی ڈیبیٹس میں دیکھا تھا۔
ابھی جب سب لوگ بیٹھ گئے تو محترمہ نے سٹیج پر جانے سے پہلے احمد مختار کو میرے پاس بھیجا۔ انھوں نے کہا کہ “ثقلین، بی بی دے سامنے کوئی ٹیبل تے رکھواؤ!” تب میں سمجھ گیا کہ میرا کام ہوگیا ہے، اور میں نے ایک چھوٹی شیشے والی ٹیبل سامنے رکھوا دی۔

بہرحال اگلے ہی دن محترمہ نے شکریہ ادا کرنے کے لیے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ بھیجا، جو اس وقت کے پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر قاسم ضیا اور پارٹی رہنما انبساط یوسف کے ذریعے موصول ہوا۔

اس نوٹ کے ساتھ ہی محترمہ نے بلیک فاریسٹ کا ایک پانچ کلو کا کیک بھی بھجوایا تھا—شاید یہ ان کی محبت اور قدردانی کے اظہار کا ایک خاص انداز تھا۔

میٹ دی پریس کا یہ پروگرام 17 مارچ کو صبح کے اوقات میں منعقد ہوا تھا، اور اس پر حکومت کافی ناراض ہوئی تھی۔ جون میں، اچانک پریس کلب کی بجلی منقطع کر دی گئی، کیونکہ پچھلے ایک دو سال کے بل واجب الادا تھے۔

اس شام لاہور پریس کلب اندھیرے میں ڈوب گیا۔ مگر دوستوں کا کمال دیکھیے—تنقید کرنے کے بجائے سب ایک ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اُس شب موم بتیوں کی روشنی میں گپ شپ دیگر مشاغل جاری رہے، اور کینٹین میں کھانا بھی ملا۔

اگلے دن لاہور کے اخبارات میں لاہور پریس کلب کی موم بتیوں کی روشنی والی تصویریں شائع ہوئیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے ذاتی طور پر مداخلت کی اور کلب کو ایک لاکھ روپے کا چیک بھیج دیا۔ کچھ ہی دیر میں جماعتِ اسلامی کے قاضی حسین احمد نے بھی مالی مدد کر دی۔

مختلف سیاسی رہنماؤں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا، ہم نے بل کا کچھ حصہ ادا کیا اور جلد ہی پریس کلب کی بجلی بحال ہو گئی۔
وقت کے بہاؤ میں یہ سب کہیں کھو گیا تھا، مگر چند روز پہلے، اپنی بکھری ہوئی لائبریری میں، کچھ فائلیں تلاش کرتے ہوئے محترمہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا یہ نوٹ اچانک ہاتھ لگا۔

یہ نوٹ دیکھ کر ایک لمحے کے لیے دل میں مسرت کی لہر دوڑ گئی، مگر ساتھ ہی ایک گہرا افسوس بھی جاگا—پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ کسی المیے سے کم نہیں ہے۔

لندن میں ان سے کئی بار ملاقاتیں ہوئیں۔ ہر بار وہ بے حد اپنائیت سے پیش آتیں، جیسے برسوں کا ساتھ ہو، جیسے ہم ان کے کسی قریبی دائرے کا حصہ ہوں۔

یوں تو وہ خود بھی پاکستان واپس جانا چاہتی تھیں، مگر ہم نے بھی انھیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ “پاکستان آپ کے بغیر اور آپ پاکستان کے بغیر نامکمل ہیں۔”

مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے، میثاقِ جمہوریت کی تشکیل میں ایم ضیاء الدین صاحب کا بھی ایک اہم کردار تھا۔
محترمہ ہمیشہ ایسا ماحول پیدا کرتیں کہ ہمیں یہ محسوس ہو کہ وہ ہم پر مکمل اعتماد کرتی ہیں۔ اور ہم بھی اسی احساس کے ساتھ کھل کر بات کرتے—نہ کوئی جھجک، نہ خوشامد، نہ مزارعیت والا رویہ۔ بس ایک بے ساختہ، بامعنی مکالمہ۔

میرے لیے بے نظیر بھٹو کا یہ اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ محض ایک خط نہیں ہے، بلکہ یادوں کا وہ ورق ہے، جس پر ایک عہد کی خوشبو بسی ہے—ایک ایسا عہد، جو ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے بنتے، ٹوٹتے، اور بکھرتے دیکھا۔

یہ سب سوچ کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں