یروشلم: بنیامن نیتن یاہو کی کرپشن مقدمے میں صدر سے معافی کی درخواست

یروشلم(اے پی)اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اپنے طویل عرصے سے جاری کرپشن مقدمے میں صدر آئزک ہرتزوگ سے باضابطہ معافی کی درخواست کر دی ہے۔ نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ فوجداری کارروائیاں ان کی حکمرانی کی صلاحیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور قومی مفاد کے تحت انہیں معافی دی جانی چاہیے۔

لیکود پارٹی کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے وکلاء نے صدر کو درخواست بھیج دی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ملک کی بھلائی چاہنے والے اس اقدام کی حمایت کریں گے۔ نیتن یاہو اور ان کے وکلاء نے کسی بھی جرم کا اعتراف نہیں کیا۔

اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو اُس وقت تک معافی نہیں ملنی چاہیے جب تک وہ جرم تسلیم نہ کریں، ندامت کا اظہار نہ کریں اور سیاست چھوڑ نہ دیں۔ اسرائیل میں عام طور پر معافی سزا سنائے جانے کے بعد دی جاتی ہے، تاہم نیتن یاہو کے وکلاء کا موقف ہے کہ صدر قومی مفاد میں کارروائی روک سکتے ہیں۔

صدر کے دفتر نے درخواست کو “غیر معمولی” اور “دور رس نتائج کی حامل” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزارتِ انصاف سے آراء حاصل کرنے کے بعد اس پر غور کیا جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ہرتزوگ کو خط لکھ کر نیتن یاہو کے حق میں معافی پر غور کرنے کی اپیل کی ہے۔

نیتن یاہو پر 2019 میں تین کرپشن مقدمات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی جن میں کاروباری شخصیات سے تحائف اور مثبت کوریج کے بدلے مراعات دینے کے الزامات شامل ہیں۔ وزیر اعظم ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہفتے میں متعدد عدالتی پیشیاں ان کے لیے بطور سربراہِ حکومت بوجھ بن چکی ہیں۔

حکومتی اتحادیوں نے نیتن یاہو کی درخواست کی حمایت کی ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں بشمول سابق فوجی نائب سربراہ یائر گولان نے صدر سے معافی مسترد کرنے اور نیتن یاہو سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

نیتن یاہو اسرائیل کے سب سے متنازع سیاسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں اور 2022 کے بعد دوبارہ اقتدار میں آئے۔ اگلے انتخابات 2026 میں متوقع ہیں، اور حالیہ سروے بتاتے ہیں کہ ان کا دائیں بازو کا اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔