عدن / اے ایف پی( نمائندہ خصوصی)یمن کے جنوبی ساحل ابیان گورنریٹ کے قریب ایک کشتی کے سمندر میں الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 76 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ درجنوں تاحال لاپتا ہیں۔اقوام متحدہ کی عالمی تنظیم برائے ہجرت (IOM) کے مطابق، کشتی میں 157 افراد سوار تھے، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایتھوپیا سے تھا۔32 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے، جب کہ باقی کی تلاش کا کام جاری ہے۔
حادثہ خلیج عدن میں پیش آیا، جو افریقی پناہ گزینوں کے لیے خلیجی ممالک تک پہنچنے کا ایک اہم اور خطرناک راستہ مانا جاتا ہے۔یہ کشتی غیر قانونی انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا حصہ تھی، جو افریقہ سے یمن اور وہاں سے سعودی عرب یا دیگر جی سی سی ممالک کی جانب سفر کراتی ہے۔”بچائے گئے افراد کو عدن منتقل کر دیا گیا ہے اور بڑی تعداد میں لاشیں ساحلی علاقوں سے نکالی جا چکی ہیں۔”
یمن، جو 2014 سے خانہ جنگی کا شکار ہے، اس کے باوجود غیر قانونی ہجرت کا ایک اہم عبوری راستہ ہے، خاص طور پر ایتھوپیا اور صومالیہ سے آنے والوں کے لیے۔اقوام متحدہ کے مطابق، گزشتہ سال صرف بحیرہ احمر کے راستے 558 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ان میں سے 462 افراد کشتیوں کے حادثات میں مارے گئے۔
“گزشتہ ماہ بھی ایک واقعے میں اسمگلروں نے زبردستی مہاجرین کو کشتی سے سمندر میں دھکیل دیا، جس سے 8 افراد ہلاک ہو گئے۔”اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔یمنی فورسز ساحل پر لاشوں کی بازیابی اور لاپتا افراد کی تلاش کا آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
باب المندب آبنائے کے ذریعے ہونے والی یہ ہجرت بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ کا بھی بڑا مرکز بن چکی ہے۔یمن پہنچنے والے مہاجرین کو بعد ازاں تشدد، استحصال، اور بدترین انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

