یورپی ہوائی اڈوں پر سائبر حملہ، ہیتھرو اور برسلز ایئرپورٹ متاثر، متعدد پروازیں تاخیر کا شکار

لندن/برسلز (رائٹرز) یورپ کے بڑے ہوائی اڈوں پر سائبر حملے کے باعث لندن کا ہیتھرو اور برسلز ایئرپورٹ شدید متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں مسافروں کو مشکلات اور کئی پروازوں میں تاخیر و منسوخی کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق، چیک اِن اور بورڈنگ سسٹمز فراہم کرنے والے ادارے کولنز ایرو اسپیس پر سائبر حملہ ہوا جس سے یورپ کے کئی ہوائی اڈوں کا خودکار نظام متاثر ہوا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ انتظامیہ نے تصدیق کی کہ تکنیکی خرابی کے باعث مسافروں کو ممکنہ تاخیر برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔

برسلز اور برلن ایئرپورٹ نے بھی بیانات جاری کرتے ہوئے کہا کہ سائبر حملے کے بعد خودکار چیک اِن سسٹمز غیر فعال ہوگئے ہیں اور متبادل کے طور پر مینول چیک اِن اور بورڈنگ کی جا رہی ہے۔ برسلز ایئرپورٹ نے بتایا کہ حملہ 19 ستمبر کی رات پیش آیا اور اس کے اثرات پروازوں کے شیڈول پر پڑ رہے ہیں۔

کولنز ایرو اسپیس کی پیرنٹ کمپنی آر ٹی ایکس نے بیان میں کہا کہ الیکٹرانک کسٹمر چیک اِن اور بیگیج ڈراپ متاثر ہیں اور مسئلے کو حل کرنے کیلئےہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔برلن ایئرپورٹ نے کہا کہ چیک اِن پر زیادہ انتظار کا سامنا ہے لیکن مسئلے کا حل تلاش کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ فرینکفرٹ اور زیورخ ایئرپورٹس متاثر نہیں ہوئے۔

ایزی جیٹ نے اعلان کیا کہ وہ معمول کے مطابق پروازیں چلا رہی ہے، جبکہ رائن ایئر اور برٹش ایئر ویز کی اونر کمپنی آئی اے جی نے فوری ردعمل نہیں دیا۔ پولینڈ کے نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پولش ایئرپورٹس کو کسی خطرے کی اطلاع نہیں ملی۔

متاثرہ ہوائی اڈوں نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایئرپورٹ جانے سے قبل اپنی پروازوں کی تصدیق کر لیں تاکہ مزید مشکلات سے بچا جا سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں