یورپی یونین تارکین وطن کی واپسی کیلئے سات “محفوظ ممالک” تجویز کرکریگا

بلغاریہ(نامہ نگار)یورپی کمیشن سات “محفوظ تیسرے ممالک” نامزد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جہاں سے پناہ کی درخواستوں کو تیز رفتاری سے نمٹایا جا سکے گا اور ممکنہ طور پر مسترد بھی کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ یورا ایکٹیو کی جانب سے دیکھی گئی ایک دستاویز میں بتایا گیا ہے۔

اس فہرست میں بنگلہ دیش، کولمبیا، مصر، بھارت، کوسووو، مراکش اور تیونس شامل ہیں۔

ان سات ممالک سے یورپی یونین میں آنے والے پناہ گزینوں کی درخواستیں نئی یورپی قوانین کے تحت مسترد کی جا سکتی ہیں اور انہیں ممکنہ طور پر واپسی کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔

اس اقدام کے بعد یورپی یونین کے قانون میں “محفوظ تیسرے ملک” کے تصور کا ایک تیز رفتار جائزہ متوقع ہے . جس کی اطلاع سب سے پہلے یورا ایکٹیو نے فروری میں دی تھی۔

“محفوظ تیسرے ملک” کا تصور یہ اجازت دیتا ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد کو اُس ملک کے بجائے کسی ایسے ملک بھیجا جا سکتا ہے جہاں وہ حفاظت حاصل کر سکیں، جس ملک میں انہوں نے درخواست دی ہو۔

یہ فہرست یورپی یونین کے پناہ گزینوں سے متعلق طریقہ کار کے ضابطے میں ترمیم کے طور پر شامل کی جائے گی، جو گزشتہ سال منظور کیے گئے امیگریشن معاہدے کا حصہ ہے۔ اس پر عملدرآمد 2026 میں متوقع ہے۔

یورا ایکٹیو کے مطابق حتمی فہرست جون سے پہلے شائع کیے جانے کا امکان ہے۔ یورپی کمیشن کے ترجمان نے منگل کے روز کہا کہ وہ کسی بھی غیر سرکاری افشا شدہ معلومات پر تبصرہ نہیں کرتے۔

مارچ میں کمیشن نے تارکین وطن کی واپسی کے حوالے سے نئے لازمی قواعد تجویز کیے تھے جن پر یورپی یونین کے ممالک اور ایم ای پیز ابھی بحث کر رہے ہیں۔

کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈر لیین نے مارچ میں تارکین وطن کی واپسی کیلئے لازمی قواعد تجویز کیے تھے جو اب کونسل اور پارلیمنٹ میں زیر بحث ہیں۔ ممالک کی حتمی فہرست جون سے پہلے متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں