یورپ: مختلف شہروں میں غزہ کے حق میں احتجاج، لندن میں گرفتاریاں

لندن/بارسلونا/روم/ڈبلن/ایتھنز (الجزیرہ، رائی) یورپ کے بڑے شہروں میں اسرائیلی مظالم اور غزہ پر جنگ کے خلاف ہزاروں افراد نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی۔ برطانیہ، اسپین، اٹلی، پرتگال، آئرلینڈ اور یونان کے شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ کئی مقامات پر پولیس کے ساتھ جھڑپیں اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

اسپین کے شہر بارسلونا اور میڈرڈ میں کئی ہفتے قبل طے شدہ احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں پولیس کے مطابق بارسلونا میں تقریباً 70 ہزار افراد شریک ہوئے۔ روم، لزبن اور ایتھنز میں بھی ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔ مظاہرے اس وقت زور پکڑ گئے جب اسرائیلی افواج نے غزہ کیلئےامداد لے جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روک کر 450 سے زائد کارکنان کو گرفتار کر لیا، جن میں 40 سے زائد ہسپانوی اور سابق میئر بارسلونا بھی شامل ہیں۔

اسپین میں فلسطینیوں کے حق میں حالیہ ہفتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے غزہ میں جاری کارروائی کو ’نسل کشی‘ قرار دیا اور بین الاقوامی کھیلوں میں اسرائیلی ٹیموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

بارسلونا میں ہونے والے مظاہرے میں خواتین، بچے اور بزرگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ بینرز پر لکھا تھا: “غزہ مجھے دکھ دیتا ہے”، “نسل کشی بند کرو” اور “فلوٹیلا کو نہ روکو”۔ 63 سالہ ماریا جیسس پارا فلسطینی پرچم اٹھائے ایک گھنٹے کا سفر کر کے بارسلونا پہنچی اور کہا کہ “یورپ نے خود نسل کشی دیکھی تھی، اب یہ ممکن نہیں کہ کہا جائے ہمیں معلوم نہیں تھا۔”

اٹلی میں 3 اکتوبر کو ایک روزہ عام ہڑتال کے دوران 20 لاکھ سے زائد افراد غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔ روم میں فلسطینی تنظیموں، مقامی یونینز اور طلبہ کے زیرِاہتمام مارچ جاری ہے جو پورٹا سان پاؤلو سے سان جیووانی تک جائیگا۔

لندن میں ٹرافلگر اسکوائر پر بڑے احتجاج کے دوران پولیس نے کم از کم 175 افراد کو گرفتار کیا۔ مظاہرین فلسطینی پرچم، نعرے اور پوسٹر اٹھائے بیٹھے احتجاج کر رہے تھے۔ پولیس نے مظاہرہ ختم کرنے کی اپیل کی تھی لیکن منتظمین نے اسے مسترد کر دیا۔ یہ مظاہرہ فلسطین ایکشن گروپ پر انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت پابندی کے خلاف بھی تھا۔

ڈبلن میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور آئرش حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج اسرائیل کی جانب سے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روکنے اور 16 آئرش شہریوں کی گرفتاری کے بعد شدت اختیار کر گیا۔

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں بھی 4 اکتوبر کو دوپہر کے وقت احتجاج کیا گیا، جہاں مقامی تنظیموں اور عام شہریوں نے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا۔یورپ کے مختلف ممالک میں ان مظاہروں سے واضح ہے کہ غزہ پر جاری اسرائیلی کارروائی کے خلاف عوامی غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل کر فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ کئی ممالک میں حکومتوں پر اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں