یورپ میں شدید ہیٹ ویو سے 2 ہزار 300 اموات، 1 ہزار 500 ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک

جرمنی(بیورورپورٹ)یورپ کے 12 شہروں میں گرمی کی لہر کے دوران 2,300 ہلاکتیں رپورٹ، نئی تحقیق میں 1,500 اموات کو موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

یورپ میں حالیہ شدید گرمی کی لہر کے دوران مختلف شہروں میں ہونے والی اموات پر ایک سائنسی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ صرف 10 دنوں میں تقریباً 2,300 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 1,500 ہلاکتیں ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ تحقیق لندن کے معروف تحقیقی اداروں امپیریئل کالج لندن اور لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن نے مشترکہ طور پر کی ہے۔

یہ تحقیق 2 جولائی کو ختم ہونے والے 10 دنوں کے دوران کی گئی، جب مغربی یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں تھا۔ اسپین میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا جبکہ فرانس میں کئی مقامات پر جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی۔ سائنس دانوں نے بتایا کہ بارسلونا، میڈرڈ، لندن، میلان سمیت 12 بڑے یورپی شہروں میں غیر معمولی گرمی نے انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال دیا۔

تحقیق کے شریک مصنف ڈاکٹر بین کلارک نے کہا کہ، “ماحولیاتی تبدیلی نے گرمی کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جس نے صحت عامہ کو براہِ راست متاثر کیا۔” سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور زمین کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے مستقبل میں ایسی ہیٹ ویوز مزید شدت اختیار کریں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں درجہ حرارت ماحولیاتی تبدیلی کے باعث 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ گیا۔ محققین نے ان اموات کا تخمینہ تاریخی اعداد و شمار اور وبائی ماڈلز کی مدد سے لگایا، کیونکہ اکثر حکومتیں گرمی سے متعلق اموات کی تفصیل جاری نہیں کرتیں۔

یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق، جون 2025 دنیا کا تیسرا سب سے گرم جون رہا ہے، جب کہ 2023 اور 2024 کے جون مزید گرم ریکارڈ کیے گئے۔ مغربی یورپ نے اس سال درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم کیے جہاں “فیلٹ ٹیمپریچر” یعنی محسوس ہونے والا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

یاد رہے کہ 2022 میں بھی یورپ بھر میں شدید گرمی کی لہر کے نتیجے میں 61 ہزار اموات ہوئیں، جس پر 2023 میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ یورپی ممالک گرم موسم سے نمٹنے کی مؤثر تیاری میں ناکام رہے۔

یہ اعداد و شمار اور سائنسی شواہد اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلی انسانی زندگی پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں گرمی کی لہریں مزید مہلک ثابت ہوں گی، اور ایسی اموات میں خطرناک اضافہ ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں