مینٹوبا (نمائندہ خصوصی) –یورک فیکٹری فرسٹ نیشن نے شدید ماحولیاتی بحران کے پیشِ نظر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے کیونکہ کمیونٹی کو بیرونی دنیا سے جوڑنے والا واحد فیری سروس دریا میں پانی کی خطرناک حد تک کمی کی وجہ سے بند کر دی گئی ہے۔
چیف ڈیریل ویسٹیسیکوٹ نے کہا“اگر یہاں آگ لگ جائے تو یہ تباہ کن ہوگا، ہم باہر نہیں نکل سکیں گے۔ فی الحال چھوٹی کشتیاں بھی مشکل سے پار کر رہی ہیں۔”
“پانی کی سطح میں کمی کی وجہ: مینٹوبا ہائیڈرو پر الزامات”
چیف ویسٹیسیکوٹ اور کمیونٹی کی قیادت نے اس بحران کی بنیادی وجہ مینٹوبا ہائیڈرو کے قریبی کییسک جنریٹنگ اسٹیشن کو قرار دیا ہے، جس کے باعث دریا کی سطح میں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ اچانک نہیں بلکہ عرصے سے پیدا ہونے والا بحران ہے، جس سے کمیونٹی عملی طور پر محصور ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا“ہم نے پانی کی کم سطح پر بھی معاوضے کیلئے معاہدے پر دوبارہ بات چیت کی کوشش کی لیکن ہائیڈرو نے انکار کر دیا۔”
“مینٹوبا ہائیڈرو کا مؤقف”
ادارے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ شمالی مینٹوبا میں جاری وسیع خشک سالی کا حصہ ہے، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ وہ فرسٹ نیشنز کے ساتھ موجودہ معاہدے کے تحت نقل و حمل میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
“کمیونٹی کی عملی مشکلات”
چیف ویسٹیسیکوٹ کے مطابق فی الحال بڑے پیمانے پر انخلاء ممکن نہیں کیونکہ چھوٹی کشتیوں میں سفر خطرناک ہے۔کمیونٹی نے مزید کشتیوں اور ڈاک کی سہولت کی درخواست کی، مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ساحل بہت طویل ہے اور رسائی انتہائی محدود ہو چکی ہے۔
کمیونٹی کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے اپنی آبائی زمینوں پر واپسی کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب ایک آل ویڈر (ہر موسم میں قابلِ رسائی) سڑک ان کی بقا کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
اسکائی نیشنز گرینڈ کونسل کے گرینڈ چیف والٹر ویسٹیسیکوٹ نے کہا“خوراک، ادویات اور طبی انخلاء کی فوری ضرورت ہے، لیکن دیرپا حل ایک آل ویڈر روڈ ہے۔”
اسمبلی آف مینٹوبا چیفز کی گرینڈ چیف کیرا ولسن نے کہا“یہ کوئی احسان نہیں، بلکہ حکومت کا فرض ہے۔ جو سرمایہ اس سڑک پر خرچ ہوگا، وہ انہی زمینوں اور وسائل سے آتا ہے۔”
“صوبائی و وفاقی حکومتوں سے رابطے جاری”
یورک فیکٹری کی قیادت نے بتایا کہ صوبائی حکومت سامان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔فیری سروس کو دوبارہ بحال کرنے کی نگرانی جاری ہے۔آئندہ ہفتے وزیر اعلیٰ سے ملاقات طے ہے، مگر فوری امداد درکار ہے۔

