یومِ یادگارِ شہداء: “آزادی اتنی ہی مضبوط ہے جتنی اسے برقرار رکھنے کا عزم”: واب کنیو

اوٹاوا (نمائندہ خصوصی) کینیڈا بھر میں یومِ یادگارِ شہداء (Remembrance Day) عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا جس موقع پر دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے 80 سال اور نامعلوم سپاہی (Unknown Soldier) کی تدفین کے 25 سال مکمل ہونے پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

اوٹاوا میں نامعلوم سپاہی کی یادگار پر وزیراعظم مارک کارنی، وفاقی وزراء، فوجی افسران اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یادگار پر پھول چڑھائے اور ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

محکمہ اُمورِ سابق فوجی (Veterans Affairs) کے مطابق، اس سال ملک میں صرف 3691سابق فوجی حیات ہیں، جن میں 667 خواتین اور 3024مرد شامل ہیں۔تقریبات میں ان تمام کینیڈین سپاہیوں کو یاد کیا گیا جنہوں نے امن، جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے قربانی دی۔

منیٹوبا کے وزیرِاعلیٰ واب کنیو نے کہا”یہ حقوق اُن لوگوں کی امانت ہیں جنہوں نے خود سے بڑھ کر ملک کیلئےسوچا”.”کینیڈین قوم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری آزادی اور حقوق اُن بہادر افراد کے خون سے حاصل ہوئے جنہوں نے ملک اور اقدار کیلئےاپنی جان دی۔ یہ حقوق اتنے ہی مضبوط رہیں گے جتنا ہم انہیں برقرار رکھنے کا عزم کریں گے۔”

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اُن اقدار کو زندہ رکھیں جن کیلئے وہ لڑے۔اوٹاوا، کیلگری، وکٹوریا، وینکوور، اور ٹورنٹو سمیت تمام بڑے شہروں میں یادگاری اجتماعات ہوئے۔

اوٹاوا: وزیراعظم مارک کارنی اور اہلیہ نے قومی یادگار پر پھول چڑھائے۔
کیلیگری: وفاقی وزیرِ خزانہ فرانسوا-فلپ شامپین، وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ اور میئر جیرومی فاکرس نے شرکت کی۔
وکٹوریا: چیف پیٹی آفیسر میتھیو چاباسول اپنے بچوں کے ساتھ شریک ہوئے۔

وینکوور: سابق فوجی میجر راجر پروز (87) نے سفید گلاب اور مالا رکھ کر کہا”ہمیں اُنہیں یاد رکھنا ہوگا جو جنگ اور امن میں خدمت کرتے رہے۔”اوٹاوا میں بچوں کے کورس نے “In Flanders Fields” گایا اور کینیڈین آرمڈ فورسز کا بینڈ قومی ترانہ پیش کر رہا تھا۔شرکاء میں کئی افراد اپنے شہداء کی تصاویر اٹھائے کھڑے تھے۔تقرریبات میں آر سی ایم پی، فرسٹ نیشنز اور انویٹ نمائندے بھی شامل تھے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق امسال کی تقریبات کینیڈا کیلئےنہ صرف ماضی کی یاد بلکہ مستقبل کیلئےعزمِ نو ہیں یاد دہانی کہ امن، آزادی اور جمہوریت تحفہ نہیں بلکہ قربانیوں اور اجتماعی ارادے سے زندہ رکھی جا سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں