پاکستان پیپلزپارٹی آج (30نومبر) جماعت کا 58واں یوم تاسیس منانے جا رہی ہے اِس سال کے لئے قیادت کی ہدایت کے مطابق ملک بھر میں ضلعی سطح پر تقریبات ہوں گی، یوم تاسیس کے حوالے سے جیالے اپنی جماعت کے ماضی اور حال کی کامیابیوں کی بات کریں گے اور بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ صلاحیتوں کا ذکر کریں گے،میں بھی اپنی نوجوانی میں ذوالفقار علی بھٹو کا فین رہا ہوں،اور اُس وقت سے تھا جب وہ ایوب کابینہ یں ٹیڈی پتلون پہن کر منظر پر آئے تھے اور یہ فیشن بن گیا تھا وہ بڑے خوش لباس تھے حتیٰ کہ جب عام دِنوں میں عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے تو جوش خطابت میں ان کے بال بکھر جاتے۔ قمیض کے کف کھل جاتے اور قمیض ڈھیلی محسوس ہونے لگتی۔ بہرحال وہ اپنی نبھا گئے اور کمال ہنر مندی سے ایک ہی سال میں جماعت کو مقبول سطح پر لا کھڑا کیا،نوجوان تو ان کے قائل تھے ہی تاہم بڑی عمر کے دانشور لوگ بھی اُن کے ساتھ جڑتے چلے گئے تھے حتیٰ کہ میاں محمود علی قصوری جیسے بڑے وکیل اور ترقی پسند رہنما بھی اس جماعت میں شامل ہوئے اور1972ء کے دور میں کابینہ تشکیل ہوئی تو بجا طور پر وزیر قانون بنے، انہی کے دورِ وزارت میں فتنہ قادیانیت کے حوالے سے قانون کی منظوری ہوئی اور 1973ء کے آئین میں بھی ان کی کاوشیں شامل تھیں۔ میاں محمود علی قصوری کا یہ سفر زیادہ دیر جاری نہ رہا اور انہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی، اور پھر وہ دن بھی آیا جب ممتاز اپوزیشن رہنماؤں مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی اور دیگر کے ساتھ قومی اسمبلی سے ڈنڈا ڈولی کر کے باہر نکالے گئے۔
ایک رپورٹر کی حیثیت سے پیپلزپارٹی مستقلاً میری بیٹ رہی اور میں اس کی ترقی و زوال اور قربانیوں کا عینی شاہد ہوں۔بہت سے حضرات پیپلزپارٹی کے اہم ترین واقعات کے حوالے سے اپنے تاثرات لکھتے اور اپنی رائے دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں اکثر حضرات اپنی ذاتی معلومات پر انحصار کر کے بعض واقعات کے حوالے سے ایسی بات لکھ جاتے ہیں کہ تاریخی طور پر ابہام پیدا ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک تحریر نظر سے گذری جس میں یہ تاثر دیا گیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی مقدمہ قتل میں گرفتاری کے بعد جب مصطفی جتوئی(مرحوم) کو قائم مقام چیئرمین بنانے کی کوشش کی گئی تو محترم مولانا کوثر نیازی(مرحوم) نے اسے ناکام بنایا تھا۔ یہ تاثر درست نہیں ہے یہ کارنامہ باباء سوشلزم شیخ رشید (مرحوم) نے ادا کیا تھا۔ جماعتی انتظامات کے مطابق شیخ رشید سینئر وائس چیئرمین تھے اور اصولی طور پر بھٹو صاحب کی عدم موجودگی میں انہی نے قیادت کرنا تھی، لیکن اندر سے ملے ہوئے مصطفی جتوئی اور مولانا کوثر نیازی نے کوشش کی کہ اول تو شیخ رشید قائم مقام چیئرمین نہ ہوں اور مصطفے جتوئی کو بنوا کر جماعت پر قبضہ کر لیا جائے۔ چنانچہ بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بعد مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس لاہور میں کینال روڈ(مسلم ٹاؤن) پر نون ایونیو میں ہوا، اس اجلاس میں مولانا کوثر نیازی نے ابتدائی گفتگو ہی میں قائم مقام چیئرمین کے تقرر کا سوال اٹھا دیا اور بتایا کہ اس وقت پارٹی کے لئے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔یہ وہ وقت تھا جب شیخ محمد رشید نے جو سینئر وائس چیئرمین تھے، بڑے جذباتی انداز میں تقریر کی اور خود کو اس عہدے سے الگ کر کے بیگم نصرت بھٹو کا نام پیش کر دیا کہ ان کی قیادت میں جماعت جدوجہد کی اہل ہوئی،شیخ رشید کی یہ تجویز بم شیل ثابت ہوئی۔جماعت پر قبضہ نہ ہو سکا اور قیادت کا بوجھ بیگم نصرت بھٹو کے کندھوں پر آ گیا اور پھر بیگم نصرت بھٹو نے بھی قیادت کا حق ادا کیا۔ تاوقتیکہ اسلام آباد کے فائیو سٹار ہوٹل میں پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران پیارے بھائی ڈاکٹر جہانگیر بدر (مرحوم) نے قرارداد پیش کی اور بیگم نصرت بھٹو کی جگہ صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام پیش کیا اور وہ تاحیات چیئرپرسن بنا دی گئیں۔ اس کے بعد ایک طویل تاریخ ہے جس میں جیالوں کی قربانیاں، بیگم نصرت بھٹو کی جدوجہد اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں مثالیں بنائی گئیں اور جماعت پر قبضہ کرنے والوں نے غالباً1983ء میں ایم آر ڈی کی تحریک ختم کر دی اور پھر وہ مصطفے جتوئی جو ایم آر ڈی کے قائم مقام چیئرمین تھے،بعد میں نگران وزیراعظم بھی بن گئے البتہ ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی کہ پارٹی پر قبضہ کر سکیں۔
بعدازاں پیپلزپارٹی پر جو گذری وہ بھی تاریخ ہے، یہاں بے نظیر بھٹو اور ان کے بھائیوں (جیالوں) کی محنتیں بار آور ہوئیں اور تمام تر رکاوٹوں کے باوجود انتخابات (1988ء) میں سادہ اکثریت(قومی اسمبلی میں واحد اکثریتی جماعت) کے ساتھ زندہ و جاوید رہی اور ان کو حکومت کا موقعہ دیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل جدوجہد اور جیالوں کی قربانیوں نے اس جماعت کو یوں زندہ رکھا کہ محترمہ بینظیر بھٹو دو بار وزیراعظم بنیں اور ایسا حق محمد نواز شریف کو بھی ملا۔ یہ سب جیالے جانتے ہیں اور پھر پیپلزپارٹی میں، پیپلز پارٹی (پارلیمنٹیرین) کا وجود بھی پیدا ہوا اور وہ حکومت کا حصہ بن گئی۔ اس سب کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو، بے نظیر کے نام سے وجود میں رہی اور جدوجہد جاری رہی،اس حوالے سے اگر موجودہ دور کی بات نہ کی جائے تو ناانصافی ہو گی۔ آج پیپلزپارٹی سندھ میں برسر اقتدار اور وفاقی سطح پر حکومتی اتحاد کا حصہ ہے، ایسے میں کچھ سچ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ حالیہ قیادت کے اتحاد میں شرکت سے جماعت کے لئے بہتر نہیں ہوا۔ چودھری اعتزاز احسن 1977ء میں ڈگمگا جانے کے باوجود اب بھی جماعت کے اہم اور مرکزی رہنما ہیں اور ان کو اپنا سچ برملا کہہ دینے کی بھی عادت بن چکی ہے، چنانچہ انہوں نے بڑے تحمل سے کہہ دیا کہ صدرِ محترم کو استثنیٰ لینے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم ایسا ہوا اور یہ استثنیٰ تاحیات ہے اس سے صدر زرداری کو کوئی فائدہ نہیں ہوا کہ وہ جب تک صدر ہیں تب تک تو ان کو آئینی تحفظ حاصل ہے،اس لئے بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
اس یوم تاسیس کے موقعہ پر جماعتی اکابرین کو غور کرنا ہو گا کہ وہ کہاں سے کہاں آ گئے، آج پنجاب اور کے پی کے میں پارٹی کو سخت آزمائش کا سامنا ہے،بلوچستان میں کسی سہارے میں مرحلے طے ہوا اور اب تو سندھ میں بھی کچھ ہلچل اور زیر زمین بعض کارروائیوں کی اطلاعات ہیں اس لئے جیالوں کو اس یوم تاسیس پر نئی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور آصف علی زرداری کو بلاول پر قبضہ کرنے کی بجائے اس کی نوجوان قیادت سے استفادہ کرنا ہوگا۔

