ایتھنز(خالد مغل سے)یونان نے غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہونیوالے افراد کے خلاف سختی کا نیا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔ جزیرہ کریتی پر حال ہی میں پہنچنے والے 247 افراد کو حراست میں لے کر بند حراستی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی شناخت کے بعد ممکنہ طور پر ڈیپورٹیشن کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یونانی پارلیمنٹ میں منظور ہونیوالے نئے سخت قانون کے تحت کسی بھی طریقے سے آنے والے تارکِ وطن کو پناہ کی درخواست کا موقع دیے بغیر فوراً حراست میں لیا جا رہا ہے۔ اسی قانون کے تحت کریتی کے ساحل پر ایک دن قبل لیبیا سے پہنچنے والے 247 افراد کو یونانی کوسٹ گارڈز نے گرفتار کر کے سیدھا حراستی مراکز بھیج دیا۔
یہ افراد مختلف مقامات سے سرچ اینڈ ریسکیو کوارڈینیشن سینٹر کی کارروائی میں بازیاب کیے گئے تھے۔ بعد ازاں انہیں شناختی عمل کیلئے ایتھنز کے مختلف حراستی مراکز منتقل کیا گیا جہاں یہ بھی تفتیش جاری ہے کہ آیا ان میں انسانی اسمگلر بھی شامل ہیں یا نہیں۔
حکام کے مطابق شناخت کے بعد تمام افراد کو ان کے آبائی ممالک ڈیپورٹ کر دیا جائے گا۔یونان کی کوسٹ گارڈز نے اس نئی پالیسی کے تحت پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو سیدھا پولیس کے حوالے کیا ہے۔ گرفتار افراد کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش، مصر اور دیگر افریقی ممالک سے بتایا جا رہا ہے۔

